உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملزم یاسر نے کی خودکشی کی کوشش، بیلٹ سے پھندا لگایا لیکن وہ ٹوٹ گئی اور پھر۔۔۔

    فرار ہونے کے بعد وہ ایک خالی پلاٹ میں چھپ گیا تھا جہاں اس نے اپنی بیلٹ کو درخت سے  باندھ دیا لیکن بیلٹ ٹوٹ گئی۔ اس لئے وہ بچ گیا۔

    فرار ہونے کے بعد وہ ایک خالی پلاٹ میں چھپ گیا تھا جہاں اس نے اپنی بیلٹ کو درخت سے باندھ دیا لیکن بیلٹ ٹوٹ گئی۔ اس لئے وہ بچ گیا۔

    فرار ہونے کے بعد وہ ایک خالی پلاٹ میں چھپ گیا تھا جہاں اس نے اپنی بیلٹ کو درخت سے باندھ دیا لیکن بیلٹ ٹوٹ گئی۔ اس لئے وہ بچ گیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
      DG Jail Lohia Murder: ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات ڈی جی ہیمنت لوہیا کے قتل کے ملزم یاسر نے واقعے کے بعد خودکشی کی کوشش کی تھی۔ فرار ہونے کے بعد وہ ایک خالی پلاٹ میں چھپ گیا تھا جہاں اس نے اپنی بیلٹ کو درخت سے  باندھ دیا لیکن بیلٹ ٹوٹ گئی۔ اس لئے وہ بچ گیا۔

      ذرائع کے مطابق یاسر نے تفتیش کے دوران یہ تمام باتیں پولیس افسران کو بتائی ہیں۔ اگرچہ کوئی بھی آفیشیل  طور پر اس کی تصدیق نہیں کر رہا ہے۔ کوئی بھی پولیس افسر اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کو پولیس نے یاسر کا میڈیکل چیک اپ بھی کرایا ہے۔

      17 کی موت اور کئی لاپتہ، درگا مورتی وسرجن کے دوران یوپی سے بنگال تک مچا کہرام

       یاسر کے ساتھ دو مقامات پر پہنچی پولیس
      ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کو پولیس یاسر کو دو مقامات پر لے گئی۔ اس میں ایک جگہ ایسی ہے جہاں اس نے بیلٹ سے لٹک کر خود کو مارنے کی کوشش کی تھی۔  دوسرا بوہری کے علاقے کے پٹرول پمپ پر ۔ یاسر نے اس پٹرول پمپ سے پٹرول یا ڈیزل لیا تھا۔ اس نے پٹرول پمپ پر بتایا کہ ڈی جی پی نے اسے تیل لینے کے لیے بھیجا تھا۔

      گھر میں نظربند کرنے کے دعوے کو لیکر محبوبہ مفتی اور پولیس میں ٹویٹر پر چھڑا جھگڑا

      یاسر بولا- میں نے ڈی جی کو مارا۔
      لوہیا کے ہیلپر رہا یاسر لوہار رہائشی رام بن نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ڈی جی کا قتل کیا تھا۔ پولیس کی جانب سے قتل کے پیچھے کا مقصد  کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یاسر نے  تفتیش کے دوران پولیس کو بتایا ہے کہ اسے نوکری نہ ملنے پر دکھ ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے ڈی جی پی کا قتل کیا گیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: