உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اچھی پراسیکیوشن کے ساتھ اچھی تفتیش UAPA مقدمات میں سزا کی شرح کو بڑھانے میں کارگر ثابت ہوں گے: ڈی جی پی جموں و کشمیر

     اچھی پراسیکیوشن کے ساتھ اچھی تفتیش UAPA مقدمات میں سزا کی شرح کو بڑھانے میں کارگر ثابت ہوں گے: ڈی جی پی جموں و کشمیر

    اچھی پراسیکیوشن کے ساتھ اچھی تفتیش UAPA مقدمات میں سزا کی شرح کو بڑھانے میں کارگر ثابت ہوں گے: ڈی جی پی جموں و کشمیر

    Jammu and Kashmir : ڈائریکٹر جنرل آف پولیس جموں و کشمیر دلباغ سنگھ نے پولیس ہیڈ کوارٹر میں پولیس، پراسیکیوشن اور این آئی اے کے سینئر افسران کی ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ یہ میٹنگ تفتیش کو بڑھانے، استغاثہ کی صلاحیتوں اور معیاری تفتیش، سائنسی تفتیشی سہولیات کے بارے میں تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar | Jammu
    • Share this:
    جموں و کشمیر : ڈائریکٹر جنرل آف پولیس جموں و کشمیر دلباغ سنگھ نے پولیس ہیڈ کوارٹر میں پولیس، پراسیکیوشن اور این آئی اے کے سینئر افسران کی ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ یہ میٹنگ تفتیش کو بڑھانے، استغاثہ کی صلاحیتوں اور معیاری تفتیش، سائنسی تفتیشی سہولیات کے بارے میں تھی۔  یو اے پی اے، نارکو اور قانون کی عدالتوں میں دیگر حساس مقدمات کے تحت سزا کی شرح کو بڑھانے پر میٹنگ میں تبادلہ خیال ہوا۔ میٹنگ کے آغاز پر اسپیشل ڈی جی سی آئی ڈی جموں و کشمیر، آر آر سوین نے یو اے پی اے اور دیگر حساس معاملات کی تیز رفتار تفتیش کے لیے تفتیشی مہارت کو بہتر بنانے اور افرادی قوت میں اضافے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات  پر روشنی ڈالی۔

    ڈی جی پی نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے اضلاع کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹس (ایس آئی یوز )کو مضبوط بنانے اور اس طرح کے کیسوں کی حساسیت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے حوالے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔  انہوں نے ضلع، رینج اور زونل سطح پر منتخب کیسوں کی نگرانی پر زور دیا۔  انہوں نے ہدایت دی کہ رینج ڈی آئی ایس جی، یو اے پی اے کے تحت درج دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی تحقیقات کی رپورٹس پیش کریں گے، جس میں روزانہ کی بنیاد پر اندراج سے لے کر الزامات کے تعین تک تفتیش کے مختلف مراحل میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا جائے گا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر میں شہریوں کی حفاظت کیلئے سیکورٹی فورسز کی چوکسی، عام شہریوں کے تحفظ پر زور


    انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ ان رپورٹس میں ہمیشہ درج شدہ چالان/نمٹائے گئے مقدمات اور عدالتوں کے احکامات کے بارے میں مختصر نوٹس بھی ہوں گے۔  انہوں نے ہدایت کی کہ ڈی آئی ایس جی اور ایس ایس پی زمرہ جات کے مقدمات کی باریک بینی سے نگرانی کریں گے، جس میں دہشت گردی کی ٹارگٹیڈ اور منصوبہ بند کارروائیوں، دہشت گردی کے ماڈیولز، منشیات کے ساتھ گٹھ جوڑ اور دہشت گردی سے متعلق دیگر واقعات کے حوالے سے درج مقدمات شامل ہوں گے۔

    ڈی جی پی نے کہا کہ ضلع کے ایس ایس پی کو چاہئے کہ وہ اپنی ٹیموں اور ایس آئی یو کے ساتھ مستقل بنیادوں پر کیسوں پر بات چیت کریں اور یو اے پی اے کیسوں کے لئے کافی وقت نکالیں۔ انہوں نے ضلع ایس ایس پیز کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ ایس او پیز پر عمل کریں اور ان ٹیموں کے ساتھ ساتھ سینئر فارمیشنوں کے لیے خصوصی رپورٹیں بھی تیار کریں اور گردش کریں۔  انہوں نے کہا کہ تفتیش کی باریک بینی سے منصوبہ بندی کے یقینی طور پر بہتر نتائج برآمد ہوں گے جو معزز عدالتوں میں سزاؤں پر منتج ہوں گے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: پھندے پر لٹکتے ملے جموں یونیورسٹی کے ماہر نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر,لگا تھا یہ الزام!


    ڈی جی پی نے کم سے کم وقت کے اندر یو اے پی اے کی تیز رفتار تحقیقات کے لیے کافی تعداد میں تفتیشی افسران کو تعینات کرکے ایس آئی یوز کو مضبوط اور بااختیار بنانے کی ہدایت کی۔  انہوں نے کہا کہ اچھی تفتیش اور اچھی پراسیکیوشن سے یو اے پی اے کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

    درجہ بندی شدہ یو اے پی اے کیسوں کا جائزہ لیتے ہوئے ڈی جی پی نے زمرہ جات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی اور اس بات پر زور دیا کہ جانچ کے دوران اور چارجز کی تشکیل کے دوران منتخب شدہ کیسوں کی کڑی نگرانی کی جائے۔  انہوں نے کہا کہ ایس آئی یوز کے علاوہ عدالتوں اور ضلعی پولیس دفاتر میں مناسب افرادی قوت کے ساتھ کم سے کم وقت میں افسران کو تعینات کیا جانا چاہئے۔  انہوں نے این آئی اے کے ساتھ منتخب تفتیشی افسران کو جلد از جلد تربیت دینے کی بھی ہدایت دی۔

    میٹنگ میں گواہوں کے تحفظ اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش کیے جانے والے گواہوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ضروریات/صلاحیتوں کا جائزہ لینے اور منصوبہ بندی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔  یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مقدمات کی جانچ ڈی جی پراسیکیوشن اپنے پراسیکیوٹرز کی مدد سے کریں گے تاکہ تفتیش میں کسی بھی قسم کی خامیوں کو دور کیا جا سکے۔ اس موقع پر پولیس اور این آئی اے کے مختلف ونگز کی نمائندگی کرنے والے افسران نے مختلف تجاویز دیں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: