உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: ہائی برڈ ملیٹینسی پاکستان کی ایک نئی سازش: ڈی جی پی دلباغ سنگھ کا بیان

    ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ پولیس کی نظرسرحد کے آر پارتمام ایسے سوشل میڈیا ہینڈلرس پر ہے، جو اس طرح کی کوششوں میں ملوث ہیں۔

    ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ پولیس کی نظرسرحد کے آر پارتمام ایسے سوشل میڈیا ہینڈلرس پر ہے، جو اس طرح کی کوششوں میں ملوث ہیں۔

    ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ پولیس کی نظرسرحد کے آر پارتمام ایسے سوشل میڈیا ہینڈلرس پر ہے، جو اس طرح کی کوششوں میں ملوث ہیں۔

    • Share this:
    جموں کشمیر: مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ پاکستان سوشل میڈیا کے ذریعہ جموں وکشمیر میں دہشت پھیلانے کی کوشش میں رہتا ہے اور اب تک سوشل میڈیا کے ذریعہ کشمیری نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو تباہ کیا گیا ہے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس کی نظرسرحد کے آر پارتمام ایسے سوشل میڈیا ہینڈلرس پر ہے، جو اس طرح کی کوششوں میں ملوث ہیں۔

    اننت ناگ میں خواتین پولیس اسٹیشن کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران دلباغ سنگھ نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ سوشل میڈیا ہینڈلرس اب بھی کشمیری نوجوانوں کو مختلف ذرائع سے بہلانے اور پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں اور پہلے بھی ایسا ہوتا تھا جس کی وجہ سے کئی نوجوان ملیٹینسی میں پھنس گئے اور اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔

    دلباغ سنگھ نے کہا کہ پولیس کی نظر ایسے پاکستان اور جموں وکشمیر میں موجود ایسے ہینڈلرس پر ہے، جو اس کام میں ملوث ہیں اورکشمیری نوجوانوں کو ملیٹینسی کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو قطعی طور پر بخشا نہیں جائے گا بلکہ مستقبل میں ان کے خلاف کارروائی کو مزید سخت کیا جائے گا۔

    ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے مزید کہا کہ ملٹینسی مخالف سرگرمیوں کے علاوہ پولیس کی نظر خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم و دیگر سماجی برایئوں پر بھی ہیں۔
    ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے مزید کہا کہ ملٹینسی مخالف سرگرمیوں کے علاوہ پولیس کی نظر خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم و دیگر سماجی برایئوں پر بھی ہیں۔


    ڈی جی پی نے مزید کہا کہ ملٹینسی مخالف سرگرمیوں کے علاوہ پولیس کی نظر خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم و دیگر سماجی برایئوں پر بھی ہیں۔ جبکہ پولیس کا عزم کرائم فری سماج کی تعمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملیٹینسی کے علاوہ دیگر جرائم کو ختم کرنا پولیس کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔  اس موقع پر ان کے ہمراہ اے ڈی جی پی وجے کمار، ایس جے ایم گیلانی، ڈی آئی جی جنوبی کشمیر عبدالجبار، ایس ایس پی اننت ناگ آشیش مشرا و دیگر افسران بھی تھے۔

    ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہائی برڈ ٹیررازم کا ایک نیا طریقہ اپنایا ہے، جس کا جواب دینے کے لئے پولیس فورس بالکل اہل ہے۔ ہائی برڈ دہشت گردی کے ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈی جی پی نے کہا کہ یہ پاکستان اور اس کے ہینڈلرز کا ایک قدم ہے کہ وہ دہشت گردی میں بے چہرہ عناصر کو شامل کرکے جموں و کشمیر میں پریشانی پیدا کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کی انسدادی حکمت عملی اس ناپاک عزائم کا ہمت کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے دہشت گردی کے اس نئے رجحان سے کامیابی کے ساتھ نمٹا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

    ڈی جی پی نے کہا کہ پاکستانی ایجنسیاں اوران کے ہینڈلرز سوشل میڈیا کا استعمال جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں دہشت گردی کی طرف دھکیلنے کے لئے کر رہے ہیں۔ ڈی جی پی نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر پولیس ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گی۔
    پلوامہ کے اپنے دورے پر، ڈی جی پی نے 182 بٹالین سی آر پی ایف ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف افسران کی میٹنگ کی صدارت کی۔ انہوں نے افسر کے ساتھیوں اور بٹالین کے اے ایس آئی ونود کمار کے سوگوار خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جو پلوامہ کے گنگو کراسنگ پر ملیٹینٹ حملے میں جاں گنوا بیٹھے تھے۔  افسران کے ساتھ  بات چیت کرتے ہوئے، ڈی جی پی نے افسران پر زور دیا کہ وہ پاکستان اسپانسرڈ ملیٹینسی کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ انہوں نے اپنے اپنے علاقوں میں سیکورٹی گرڈ کو بڑھانے کے لئے مختلف سطحوں پر فورسز کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

    ڈی جی پی نے کہا کہ تخریب کاروں اور امن کے دشمنوں کو شکست دینے کے لئے پولیس، سیکورٹی فورسز اور لوگوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے فورسز کے درمیان قریبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ پلوامہ میں افسران کے علاوہ ڈی جی پی، آئی جی پی سی آر پی ایف ایم ایس بھاٹیہ، ڈی آئی جی سی آر پی ایف پی کے مہرا، ایس ایس پی پلوامہ غلام جیلانی وانی، اور سی او 182 بٹالین دیپک ڈونڈیال، سی او 183 بٹالین آر ڈی جینی اور دیگر افسران موجود تھے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: