உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امرناتھ یاترا 2022 کےسلسلےمیں سیکورٹی امورکا ڈی جی پی جموں وکشمیر نےلیا جائزہ

    جموں وکشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے پولیس ہیڈ کوارٹر میں شری امرناتھ جی یاترا-2022 کے لئے سیکورٹی انتظامات اور اہلکاروں کی تعیناتی کا جائزہ لینے کے لئے پولیس، فوج اور سی اے پی ایف کے سینئر افسران کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔

    جموں وکشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے پولیس ہیڈ کوارٹر میں شری امرناتھ جی یاترا-2022 کے لئے سیکورٹی انتظامات اور اہلکاروں کی تعیناتی کا جائزہ لینے کے لئے پولیس، فوج اور سی اے پی ایف کے سینئر افسران کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔

    جموں وکشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے پولیس ہیڈ کوارٹر میں شری امرناتھ جی یاترا-2022 کے لئے سیکورٹی انتظامات اور اہلکاروں کی تعیناتی کا جائزہ لینے کے لئے پولیس، فوج اور سی اے پی ایف کے سینئر افسران کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔

    • Share this:
    سری نگر: جموں وکشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے پولیس ہیڈ کوارٹر میں شری امرناتھ جی یاترا-2022 کے لئے سیکورٹی انتظامات اور اہلکاروں کی تعیناتی کا جائزہ لینے کے لئے پولیس، فوج اور سی اے پی ایف کے سینئر افسران کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں کیمپوں کی سیکورٹی، مواصلاتی نیٹ ورک، قومی شاہراہ اور دیگر سڑکوں پرٹریفک کے نظم ونسق، گاڑیوں کی پارکنگ اور پہلگام اور بال تل کے دونوں یاترا راستوں پر فورسزکی تعیناتی وغیرہ کے مختلف امور پر غورکیا گیا اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ سیکورٹی کو پہلے سے تعینات کیا جائے گا تاکہ یاترا کےکیمپوں اور راستوں کو محفوظ بنایا جائے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ یاتریوں کو ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے مختلف مقامات پر پولیس فورس کے ذریعہ امدادی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔

    ڈی جی پی نے میٹنگ میں موجود افسران پر زور دیا کہ وہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے اپنے رینک اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تال میل برقرار رکھیں اور یاترا کے ہموار اور پُرامن انعقاد کے لئے ایک موثر طریقہ کار اور منصوبہ بندی پر زور دیا گیا۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ حفاظتی انتظامات کرتے ہوئے حساس مقامات اور بیس کیمپوں پر خصوصی توجہ دیں۔ ڈی جی پی نے کہا کہ فوج، سی اے پی ایف، پولیس اور سول انتظامیہ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ہم منصبوں کے درمیان کوآرڈینیشن میکانزم اور مواصلاتی نظام قائم کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے زمین پر مناسب اور موثر تعیناتی کی جانی چاہئے اور اگرکوئی خلا ہے تو اسے دور کیا جائے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ حفاظتی منصوبوں پر نظرثانی کریں اور سیکٹرل سطح پر ان کو ٹھیک کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مناسب جواب دیا جاسکے۔ انہوں نے خطرات کو بے اثر کرنے اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے آر او پیزکی تعیناتی پر توجہ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ افسران کو مناسب افرادی قوت دستیاب ہوگی۔

    ڈی جی پی نے ہدایت کی کہ سفر اور نقل وحرکت کے شناخت شدہ راستوں، یاتریوں کے ہیلپ لائن نمبروں کو ہر ممکن ذریعہ سے پھیلایا جائے تاکہ یاتری آسانی کے ساتھ کسی بھی قسم کی مدد کے لئے نوٹس لے سکیں۔ ڈی جی پی نے کہا کہ نقل و حرکت، سی سی ٹی وی اور دیگر حفاظتی آلات کے حوالے سے کافی لاجسٹکس کے ساتھ کافی افرادی قوت بھی دستیاب کرائی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ کسی بھی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے خاطر خواہ انتظامات کئے جائیں، جبکہ آگ یا سیلاب کی کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ایس او پیزکو نافذکرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ مختلف فورسز کی نمائندگی کرنے والے افسران نے امرناتھ کے ہموار انعقاد کے لئے اپنی تجاویز دیں۔ افسران نے ڈی جی پی کو اپنی ضروریات سے آگاہ کیا اور یاترا کے پُرامن انعقاد کے لئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں بھی بتایا۔

    میٹنگ میں سی آرپی ایف کے ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل دلجیت سنگھ چودھری نے ذاتی طور پر شرکت کی۔ اسپیشل ڈی جی، سی آئی ڈی جموں و کشمیر آر آر سوین، کمانڈنٹ جنرل ایچ جی/سی ڈی جے اینڈ کے ایچ کے لوہیا، اے ڈی جی پی آرمڈ جے اینڈ کے ایس جے ایم گیلانی، اے ڈی جی پی ٹریفک جے اینڈ کے ٹی نمگیال، آئی جی پی سی آر پی ایف ایم ایس بھاٹیہ، آئی جی پی بی ایس ایف کشمیر راج بابو سنگھ، آئی جی پی سی آر پی ایف ( ایس او ایس) چارو سنہا، آئی جی پی کشمیر وجے کمار، ڈی آئی جی جنوبی کشمیر عبدالجبار، ڈی آئی جی ایس ایس بی ایچ بی کے سنگھ، ڈی پی ٹی جموں وکشمیر شریدھر پاٹل، کرنل جی او سی 15 کور پرکشت داہیا، ایس ایس پی ایس ایس بی مکیش کمار، اے آئی جی سی آئی وی پی ایچ کیو راجیش بالی جیسے پولیس اور سیکورٹی افواج کے اعلیٰ افسران کے علاوہ مختلف فورسز کے دیگر گزیٹیڈ افسران نے میٹنگ میں شرکت کی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: