உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: بانیہال اسپتال میں پیش آئے واقعہ پر ڈائریکٹر ہیلتھ کا بڑا بیان، ہمارے ملازمین سے سرزد ہوئی بڑی غلطی

    J&K News: بانیہال اسپتال میں پیش آئے واقعہ پر ڈائریکٹر ہیلتھ کا بڑا بیان، ہمارے ملازمین سے سرزد ہوئی بڑی غلطی

    J&K News: بانیہال اسپتال میں پیش آئے واقعہ پر ڈائریکٹر ہیلتھ کا بڑا بیان، ہمارے ملازمین سے سرزد ہوئی بڑی غلطی

    Jammu and Kashmir : ضلع رامبن کے بانیہال قصبے میں قائم سرکاری اسپتال میں پیر کے روز مردہ قرار دی گئی نوزائد بچی کو والدین کی جانب سے زندہ پائے جانے کے بعد اس بچی کا سرینگر کے جی بی پنتھ اسپتال میں علاج ومعالجہ چل رہا ہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : ضلع رامبن کے بانیہال قصبے میں قائم سرکاری اسپتال میں پیر کے روز مردہ قرار دی گئی نوزائد بچی کو والدین کی جانب سے زندہ پائے جانے کے بعد اس بچی کا سرینگر کے جی بی پنتھ اسپتال میں علاج ومعالجہ چل رہا ہے۔ اس معاملے میں اگر چہ محکمہ ہیلتھ کی جانب سے اسپتال کی ایک نرس سمیت دو ملازمین کو معطل کرکے معاملے کی تحقیقات کے لئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی صدارت میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے ۔ تاہم اپنے نوعیت کے اس پہلے معاملے نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کئے ہیں۔

    نیوز18 اردو نے جموں کے ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر سلیم الرحمن سے اس معاملے پر خصوصی بات چیت کی جس میں انہوں نے کہاکہ محکمہ اس معاملے کی تہہ تک جاکر غفلت شعاری کے مرتکب ملازمین کے خلاف کارروائی کرے گا۔" میں آپ کو بتاؤں کہ یہ فرض میں کوتاہی برتنے کا معاملہ ہے ہم سے غلطی ہوئی ہے اور ہم اپنے بچاؤ میں کچھ بھی کہنے کی کوشش نہیں کریں گے، بانیہال اسپتال میں تعینات چند ملازمین نے اپنا فرض ایمانداری سے نہیں نبھایا ہے، ہماری اطلاعات کے مطابق اس نوزائد بچی کاجنم وقت سے پہلے ہی ہوا ہے اور جو نرس وہاں ڈیوٹی پر تعینات تھیں اس نے ضرورت سے زیادہ پر اعتماد ہونے کا مظاہرہ کیا ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: ڈاکٹر نے جس نوزائیدہ کو مردہ قرار دیا وہ قبر میں ملی زندہ


    انہوں نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اس نے ڈاکٹر سے بات کرنا ضروری ہی نہیں سمجھا ۔ اسپتال میں حاملہ خواتین اور بچوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر بھی تعینات ہیں، لیکن ابھی تک کی جانکاری کے مطابق اس نرس نے کسی بھی ڈاکٹر سے رابطہ نہیں کیا۔ ہم نے اس معاملے کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس معاملے کی پوری طرح تحقیقات کرسکے"۔

    ڈاکٹر سلیم الرحمن نے کہا کہ نوزائد بچی کو زندہ پائے جانے کے بعد محکمہ صحت نے ہی اس کو ڈاکٹروں کی نگرانی میں سرینگر کے جی بی پنتھ اسپتال منتقل کیا جہاں اس کا علاج چل رہا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اسپتال میں کسی مریض کو مردہ قرار دئیے جانے کے لئے ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے ، جس کے تحت کسی مریض کو مردہ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم اس معاملے میں ایسا بالکل نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر سلیم الرحمن نے کہا،" میں قبول کرتاہوں کہ وضع کردہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔ اسی لئے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ فرض کی ادائیگی میں غفلت شعاری کا معاملہ ہے۔ بچوں اور عورتوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اسی اسپتال کے دوسرے کمرے میں موجود تھے، لیکن مذکورہ نرس نے ان کے ساتھ رابطہ کرنے کی زحمت نہیں کی حالانکہ ہم نے اس نرس کو معطل کردیا ہے لیکن اتنی بڑی غلطی کی سزا محض ملازم کی معطلی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس غفلت سے نوزائد بچی کی جان بھی جاسکتی تھی اور اس نقصان کی بھرپائی کبھی بھی نہیں ہوتی "۔

     

    یہ بھی پڑھئے: شمالی کشمیر کے پٹن میں سرپنچ کے قتل کا معاملہ حل، تین ملی ٹینٹس گرفتار


    ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں نے کہا کہ اس معاملے کے سامنے آنے سے محکمے کو بھی یہ احساس ہوچکا ہے کہ کئی اسپتالوں نے ملازمین کی جانب سے غلطیاں سرزد ہورہی ہیں اور انہیں دور کرنے کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر سلیم الرحمن نے کہا کہ اس معاملے میں مقامی بلاک میڈیکل افسر کی کوتاہی بھی لگ رہی ہے کیونکہ ہر ایک بی ایم او کو یہ جانکاری رہتی ہے کہ اسپتال میں کسی مریض کو مردہ قرار دئے جانے کا کیا طریقہ کار ہے تاہم اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا، لہذا اس کی بھی باضابطہ تحقیقات  کی جائے گی۔،"

    انہوں نے مزید کہا کہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کسی سرکاری محکمے کے ملازم سے غلطی سرزد ہوتی ہے تو اکثر اوقات محکموں کے اعلی افسران یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ انسان سے غلطی سرزد ہوتی ہے لیکن میں بالکل ایسا نہیں کہوں گا میں تو یہ کہتاہوں کہ یہ معاملہ غفلت شعاری کی وجہ سے پیش آیا ہے اور اس کی تہہ تک جانے کے بعد ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے"۔

    اب جبکہ تحقیقات کے لئے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے امید ہے کہ یہ عمل جلدی مکمل کیا جائے گا اور قصوروار ملازمین کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: