ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

شوہر کرتا تھا اپنی ہی بیوی کے ساتھ یہ انتہائی گھنونی حرکت، انسانیت کو شرمسار کرنے والے اس واقعے سے لوگوں کا پھوٹا غصہ

اننت ناگ کے آکورہ علاقے میں کچھ دن قبل گھریلو تشدد کی شکار ایک خاتون سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں بالآخر زندگی کی جنگ ہار گئ

  • Share this:
شوہر کرتا تھا اپنی ہی بیوی کے ساتھ یہ انتہائی گھنونی حرکت،  انسانیت کو شرمسار کرنے والے اس واقعے سے لوگوں کا پھوٹا غصہ
اننت ناگ کے آکورہ علاقے میں کچھ دن قبل گھریلو تشدد کی شکار ایک خاتون سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں بالآخر زندگی کی جنگ ہار گئ

جموں کشمیر:- اننت ناگ کے آکورہ علاقے میں کچھ دن قبل گھریلو تشدد کی شکار ایک خاتون سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں بالآخر زندگی کی جنگ ہار گئ۔ جس کے بعد لواحقین نے انصاف کا مطالبہ دہراتے ہوئے خاتون کے سسرال والوں پر قتل کا الزام لگایا ہے۔ اس واقع نے پھر ایک بار سماج میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کا خلاصہ کیا ہے اور سماج کی جانب اس حوالے سے بے ہسی کا بھی۔ بڈھارن عیش مقام کی ایک خاتون کو لگ بھگ 12 برس قبل اپنے والدین نے شادی کے مقدس بندھن میں باندھ کر اپنے گھر سے آکورہ کی جانب روانہ کیا۔ لیکن شائد ہی خاتون کے گھر والوں کے وہم و گمان میں یہ بات ہوگی کہ انکی بیٹی واپس اپنے مائکے ایک لاش کی شکل میں لوٹے گی۔ جی ہاں! یہ کہانی کچھ روز قبل آکورہ میں مبینہ طور پر سسرال والوں کی جانب سے گھریلوں تشدد کا نشانہ بنانے والے اس خاتون کی ہے جو گزشتہ شام اپنی زندگی کی جنگ ہار گئی اور اس طرح سے ہوا کی ایک اور بیٹی گھریلو تشدد کی بھینٹ چڑھ گئی۔ اس واقعے نے جہاں پوری انسانیت کو پھر ایک بار شرم سار کر دیا ہے وہیں غم سے نڈھال لواحقین انصاف کا لگاتار مظالبہ کر رہے ہیں۔

متاثرہ خاتون کے بھائی نے کہا کہ اسکی بہن کی ازدواجی زندگی میں پہلے سے ہی اتار چڑھاؤ آئے۔ جس کی وجہ سے اسے کبھی جہیز کے نام پر اپنے شوہر کی برہمی کا سامنا کرنا پڑتا تھا تو کبھی کسی اور بہانے سے سسرال والوں کی ناراضگی کا جس کے تناظر میں کئی بار اس کی بہن مایئکے بھاگ آئی لیکن اپنے خاوند سے شفقت اور محبت کی وجہ سے وہ دوبارہ واپس سسرال لوٹ جاتی تھی۔ کچھ دن قبل جب اس کے سسرال میں حسب معمول اس کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے شوہر نے اپنی ماں اور باپ کے ساتھ مل کر اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر مبینہ طور پر اسے جلا ڈالا۔ جسے وہ بری طرح جھلس گی اور کئ روز تک اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد بالآخر اس نے اپنی زندگی کو خیرباد کہا۔ خاتون ایک کمسن بیٹی اور کمسن بچی کی ماں تھی۔ خاتون کے والد نے اسے ایک قتل سے تعبیر کرتے ہوئے واقعے میں ملوث قصوروار افراد کے خلاف فاسٹ ٹریک بنیادوں پر سزا دینے کی مانگ کی۔


اس سے قبل متاثرہ خاتون نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کے سسرال والوں نے اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر اسے جلا دیا۔ جس کے بعد اس کا جسم 90 فیصدی جھلس گیا۔ واقعے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن مٹن میں پولیس نے ایک ایف آئی آر درج کرکے خاتون کے شوہر ، سسر اور ساس کو گرفتار کر کے سلاکھوں کے پیچھے کر دیا ، لیکن لواحقین چاہتے ہیں کہ انکی دختر کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر عبرتناک سزا ملی چاہۓ تاکہ کوئی اور بیٹی کبھی جہیز تو کبھی گھریلو تشدد کا شکار نہ بنے۔خاتون کے افراد خانہ نے جہاں پولیس کی تحقیقات اور کاروائی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے وہیں انہوں نے جلد انصاف کے تقاضوں کو پر کرنے کی بھی مانگ کی ہے۔ جوں کہ خاتون کی لاش اس کے مائیکے پہنچائی گئی تو وہاں پر کہرام مچ گیا اور لوگوں نے قاتلوں کو سزا دو کے نعروں کے بیچ خاتون کی آخری رسومات ادا کیں۔


ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور واقع کی تحقیقات ہنگاث بنیادوں پر جاری ہے جس کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی مرتب کی گئی ہے۔ پولیس نے پہلے ہی یقین دلایا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات جلد سے جلد مکمل کی جائے گی۔ واضح رہے کہ آج کے اس دور میں جہاں خواتین کو با اختیار بنانے کے دعوے کۓ جاتے ہیں، لیکن وہیں سابرمتی کی آغوش میں سما جانے والی عائشہ یا آکورہ میں آگ کی نظر ہو نے والی یہ خاتون ان دعوؤں کی قلعی کھولتے ہیں۔ جس کے بعد اکثر خواتین با اختیاری تو دور کھلی ہوا میں آزادانہ طور پر سانس لینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے سماجی سونچ میں تبدیلی کے مطمنی ہیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: Apr 02, 2021 10:49 PM IST