ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

فاروق عبداللہ نے کہا- رام سب کے، نہیں کیا جاسکتا اللہ اور بھگوان میں فرق

سابق مرکزی وزیر اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ (Farooq Abdullah) نے منگل کو پارلیمنٹ میں کہا کہ بھگوان رام سب کے ہیں۔ لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر اظہار تشکر پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ بگھوان اور اللہ ایک ہیں۔ ان دونوں میں فرق کیا گیا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔

  • Share this:
فاروق عبداللہ نے کہا- رام سب کے، نہیں کیا جاسکتا اللہ اور بھگوان میں فرق
فاروق عبداللہ نے کہا- رام سب کے، نہیں کیا جاسکتا اللہ اور بھگوان میں فرق

نئی دہلی: سابق مرکزی وزیر اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ (Farooq Abdullah) نے منگل کے روز پارلیمنٹ میں کہا کہ بھگوان رام سب کے ہیں۔ لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر اظہار تشکر پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ بگھوان اور اللہ ایک ہیں۔ ان دونوں میں فرق کیا گیا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ کسان آندولن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فاروق عبدالہ نے کہا کہ آج آپ ہمیں پاکستانی کہتے ہیں، خالصتانی کہتے ہیں، لیکن مجھے مرنا یہیں ہے اور جینا یہیں ہے۔ میں کسی سے نہیں ڈرتا۔


4 جی انٹرنیٹ خدمات شروع کرنے پر مبارکباد


اس دوران جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبدالہ نے جموں وکشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ خدمات شروع کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ خدمات شروع ہوگئی۔ اللہ کرے یہ آگے بھی چلتی رہی۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ نے گزشتہ سال 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کو منسوخ کرکے جموں وکشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ واپس لیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات معطل کردی گئی تھیں۔ پرنسپل سکریٹری روہت کنسل (بجلی اور اطلاع) نے بتایا تھا کہ پورے جموں وکشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ خدمات بحال کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس وقت جموں وکشمیر میں 2 جی خدمات چل رہی ہے۔ ریاست میں 4 جی انٹرنیٹ سروس بحالی کے لئے سپریم کورٹ میں عرضی بھی داخل کی گئی تھی۔


وزیر اعظم مودی سے 4 جی انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا

فاروق عبداللہ نے اس سال جنوری میں وزیر اعظم نریندر مودی سے 4 جی انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس سروس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو بہت پریشانی ہو رہی ہے۔ جموں وکشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ پر عبداللہ نے کہا- ’دیر آئے درست آئے’۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 09, 2021 11:59 PM IST