உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر کی پہلی خاتون سائنسداں، جنہیں ملی SERB-POWER فیلوشپ

    Jammu and Kashmir :  سرینگر کی رہنے والی ڈاکٹر نشیمن اشرف (Dr. Nashiman Ashraf)  سبھی طرح کی پریشانیوں کو پار کرتے ہوئے اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں ۔ انہیں سائنس کے شعبے میں باوقار فیلوشپ SERB-POWER Fellowship 2022 ملی ہے۔ وہ یہ فیلو شپ حاصل کرنے والی کشمیر کی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔

    Jammu and Kashmir : سرینگر کی رہنے والی ڈاکٹر نشیمن اشرف (Dr. Nashiman Ashraf) سبھی طرح کی پریشانیوں کو پار کرتے ہوئے اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں ۔ انہیں سائنس کے شعبے میں باوقار فیلوشپ SERB-POWER Fellowship 2022 ملی ہے۔ وہ یہ فیلو شپ حاصل کرنے والی کشمیر کی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔

    Jammu and Kashmir : سرینگر کی رہنے والی ڈاکٹر نشیمن اشرف (Dr. Nashiman Ashraf) سبھی طرح کی پریشانیوں کو پار کرتے ہوئے اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں ۔ انہیں سائنس کے شعبے میں باوقار فیلوشپ SERB-POWER Fellowship 2022 ملی ہے۔ وہ یہ فیلو شپ حاصل کرنے والی کشمیر کی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔

    • Share this:
      ایک عام خیال ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی جیسے مضامین مردوں کے شعبے ہیں ۔ تاہم وقتاً فوقتاً بہت سی خواتین نے اس تصور کو توڑا ہے۔ ایسی ہی ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر نشیمن اشرف (Dr. Nashiman Ashraf) ہیں۔ سرینگر کی رہنے والی ڈاکٹر نشیمن سبھی طرح کی پریشانیوں کو پار کرتے ہوئے اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں ۔ انہیں سائنس کے شعبے میں باوقار فیلوشپ SERB-POWER Fellowship 2022 ملی ہے۔ وہ یہ فیلو شپ حاصل کرنے والی کشمیر کی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔

       

      یہ بھی پڑھئے : پلوامہ میں طارق کی مدد کیلئے سامنے آئی سی آر پی ایف، جانئے پورا معاملہ


      SERB-POWER یعنی سائنس اینڈ انجینئرنگ ریسرچ بورڈ ، انویسٹیگیٹو ریسرچ میں خواتین کو بڑھاوا دینے والا ایک پروگرام ہے ، جس کا مقصد سائنس اور انجینرئنگ کے شعبے میں صنفی امتیاز کو ختم کرنا  ہے ۔ اس فیلو شپ کے تحت ریسرچرز کو تین سال کیلئے دس لاکھ روپے کی گرانٹ اور ہر مہینے 15000 روپے اعزازیہ دیا جاتا ہے ۔

      اس سے پہلے ڈاکٹر نشیمن کو سی ایس آئی آر رمن ریسرچ فیلوشپ مل چکی ہے ، جس کے تحت انہوں نے امریکہ کی کینٹک یونیورسٹی میں ویزیٹنگ سائنٹسٹ کے طور پر کام کیا تھا ۔ انہیں یوروپین میلیکیولر بایولاجی آرگنائزیشن کی قلیل مدتی فیلوشپ بھی مل چکی ہے ، جس کے تحت وہ اسپین میں کام کرچکی ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے :  سرینگر گرنیڈ حملہ میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف مشعل جلوس


      ڈاکٹر نشیمن فی الحال CSIR-Indian Institute of Integrative Medicine (CSIR-IIIM) برانچ سرینگر کے پلانٹ بایوٹیکنالوجی محکمہ میں سینئر سائنسداں کے طور پر کام کررہی ہیں ۔ اب تک مختلف بین الاقوامی جرنل میں ان کے 15 سے زیادہ پیپر شائع ہوچکے ہیں ۔ وہ دو قومی ۔ بین الاقوامی پیٹنٹ بھی اپنے نام کرچکی ہیں ۔ فی الحال ان کی رہنمائی میں چار طلبہ اپنی پی ایچ ڈی اور پانچ ڈاکٹریٹ کررہے ہیں ۔

      ڈاکٹر نشیمن کا کہنا ہے کہ کچھ الگ کرنے کی کوشش کرنے کی انہیں بچپن سے ہی عادت رہی ہے ۔ اسی الگ کرنے کی خواہش نے ہی ان کا رجحان سائنس کی جانب بڑھایا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: