ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

اب جموں کے فوجی کیمپ کے اوپر نظر آیا ڈرون، جوانوں نے چلائی گولیاں

Drone Attack Jammu: ڈرون دیکھے جانے کے بعد فوج نے اس پر فائرنگ کی۔ اس کے بعد فوج کی طرف سے پورے علاقے میں سرچ آپریشن چلایا جا رہا ہے۔

  • Share this:
اب جموں کے فوجی کیمپ کے اوپر نظر آیا ڈرون، جوانوں نے چلائی گولیاں
اب جموں کے فوجی کیمپ کے اوپر نظر آیا ڈرون، جوانوں نے چلائی گولیاں

جموں: جموں کے ایئربیس (Jammu Airbase Attack) پر ہفتہ کی دیر شب ڈرون (Drone Attack) کے ذریعہ کئے گئے دہشت گردانہ حملے کے (Jammu Terrorist Attack) بعد پیر کو علی الصبح پھر فوجی کیمپ کے اوپر ڈرون جیسی چیز دیکھے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، جموں کے کالوچک چھاونی علاقے میں پیر کے روز علی الصبح تقریباً 3 بجے ایک ڈرون نما چیز فوجی کیمپ کے اوپر سے گزرتی ہوئی دیکھی گئی۔ اس کے بعد فوج کے جوانوں نے تقریباً 20 سے 25 راونڈ فائرنگ کی۔


ڈرون دیکھے جانے کے بعد فوج کی طرف سے پورے علاقے میں سرچ آپریشن چلایا جا رہا ہے۔ فوج کے جوان کیمپ کے اندر اور آس پاس کے علاقوں میں اس جگہ کو تلاش رہے ہیں، جہاں ڈرون کے گرنے کا امکان ہے۔ کیونکہ مانا جا رہا ہے کہ اگر ڈرون کو گولی لگی ہوگی تو وہ نیچے گر گیا ہوگا۔ ایسے میں اس کی تلاش جاری ہے۔


واضح رہے کہ ہفتہ کی دیر شب دہشت گردوں نے انمینڈ ایریل وہیکل (یو اے وی) یعنی ڈرون کی مدد سے ایئربیس پر دھماکہ خیز اشیا گرائی گئی تھی۔ پاکستانی دہشت گردوں نے اہم اداروں کو نشانہ بنانے کے لئے پہلی بار ڈرون کا استعمال کیا ہے۔ پہلا دھماکہ ہفتہ کی رات ایک بجکر 40 منٹ کے آس پاس ہوا جبکہ دوسرا اس کے 6 منٹ کے بعد ہوا۔


افسروں نے بتایا کہ اس بم دھماکہ میں ہندوستانی فضائیہ کے دو اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے دھماکے میں شہر کے باہری ستواری علاقے میں ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ چلائے جارہے ہوائی اڈے کے اعلیٰ سیکورٹی والے تکنیکی علاقے میں ایک منزلہ عمارت کی چھت کو نقصان ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ 6 منٹ بعد زمین پر ہوا تھا۔

فی الحال یہ پتہ نہیں چل پایا ہے کہ یہ ڈرون کدھر سے آیا اور جانچ میں مصروف افسران دونوں ڈرون کے ہوائی راستے کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افسران نے بتایا کہ تفتیش کرنے والوں نے ہوائی اڈے کی چہاردیواری پر لگے کیمروں سمیت سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالی تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ ڈرون کہاں سے آئے تھے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 28, 2021 12:58 PM IST