ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: سرحدی علاقوں میں مسلسل ڈرون دیکھے جانے سے تشویش، سیکورٹی ایجنسیاں مستعد

جون کے مہینے میں جموں کے ائیر فورس اسٹیشن پر ہوئے ڈرون حملے کے بعد مسلسل جموں اور اس کے ملحقہ سرحدی علاقوں میں ڈرون اُڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں تمام سیکورٹی ایجنسیاں چوکس ہیں اور آئندہ حملوں سے بچنے کے لئے مختلف طور طریقے اپنائے جارہے ہیں۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: سرحدی علاقوں میں مسلسل ڈرون دیکھے جانے سے تشویش، سیکورٹی ایجنسیاں مستعد
جموں وکشمیر: سرحدی علاقوں میں مسلسل ڈرون دیکھے جانے سے تشویش، سیکورٹی ایجنسیاں مستعد

جموں: جون کے مہینے میں جموں کے ائیر فورس اسٹیشن پر ہوئے ڈرون حملے کے بعد مسلسل جموں اور اس کے ملحقہ سرحدی علاقوں میں ڈرون اُڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں تمام سیکورٹی ایجنسیاں چوکس ہیں اور آئندہ حملوں سے بچنے کے لئے مختلف طور طریقے اپنائے جارہے ہیں۔ جموں کے مختلف علاقوں خاص طور پر فوجی تنصیبات پر اب آئے روز ڈرون کے اڑنے کے واقعات سامنے آرہے ہیں، جو حفاظی عملے کے لئے تشویش بنا ہوا ہے۔ ایسے ڈرون کئی شہری بستیوں کے اوپر بھی دیکھے گئے اور اُدھر سرحدی علاقوں میں ان ڈرونز کی سرگرمیاں بھی بڑھنے لگی ہیں۔


کل شام جموں کے چار مقامات پر ایسے ڈرون دیکھے گئے۔ یہ ڈرون کٹھوعہ کے ہیرا نگر، سانبہ کے رام گڑھ میں بین الااقوامی سرحد کے نزدیک یہ ڈرون دکھائی دیئے۔ جموں کے ستواری اور میرا صاحب کے رہائشی علاقوں میں بھی ان ڈرونز کی سرگرمیاں دکھائی دیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر روز اور اتنی زیادہ تعداد میں ڈرونز کا ہندوستانی علاقوں میں پرواز کرنا باعث تشویش ہے۔ دفاعی ماہرکیپٹن انل گور کا کہنا ہے کہ پاکستان ان ڈرونز کے ذریعہ ہتھیار اورگولہ بارود بھارتی علاقے میں بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان لمبے وقت سے ڈرونز کے ذریعہ ہتھیار ملی ٹنٹوں تک پہنچا رہا ہے۔ تاہم سکیورٹی ایجنسیوں کو اس کی بھنک جموں کے ایئر فورس اسٹیشن پر ہوئے ڈرون حملے کے بعد ہی ہوئی۔


سیکورٹی ایجنسیاں چوکس ہیں اور آئندہ حملوں سے بچنے کے لئے مختلف طور طریقے اپنائے جارہے ہیں۔
سیکورٹی ایجنسیاں چوکس ہیں اور آئندہ حملوں سے بچنے کے لئے مختلف طور طریقے اپنائے جارہے ہیں۔


انل گور کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں جموں کے فلائی منڈال علاقے میں ہتھیاروں سمیت پکڑے گئے ایک ٹرک ڈرائیور نے یہ بھات تسلیم کی کہ اس نے پہلے مئی کے مہینے میں بھی ان ہتھیاروں کو کشمیر پہنچیایا تھا جو پاکستان نے ڈرون کے ذریعہ سانبا کے بین الا اقوامی سرحد کے نزدیک ڈرون کے ذریعہ گرائے تھے۔ انل گور کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان پہلے بھی ہتھیاروں کو ہندوستانی علاقے تک پہنچانے کے لئے ڈرونزکا استعمال کرتا آیا ہے۔ دفاعی ماہر کا ماننا ہے کہ ڈرونز کے اس چلینج کے ساتھ ساتھ افغانستان کے موجودہ حالات سے ہندوستان کو طالبان کی سرگرمیوں پر بھی سخت نگاہ رکھنی ہوگی تاکہ طالبات ہندوستان میں کوئی کارروائی نہ کر پائے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین ڈرون اور دیگر معاملات میں ایک اہم رول نبھاتا ہے۔ اور اس کا یہی مقصد ہے کہ جموں و کشمیر میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو۔

دوسری جانب وزارت دفاع ڈرون حملوں کو ناکام کرنے کے لئے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ اینٹی ڈرون سسٹم کو مزید فعال بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر طور طریقوں کو بھی اپنایا جارہا ہے۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے بھی جموں کا دورہ کرکے حلات کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ جموں وکشمیر کے ڈی جی پی نے بھی کل ایک اعلی سطحی میٹنگ میں ڈرون  حملوں کے حوالے سے سیکورٹی کا جائزہ لیا اور ان حملوں سے بچنے کے طور طریقوں پر افسران سے غور و خوض کیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 16, 2021 05:21 PM IST