ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر میں درجہ حرارت میں غیر معمولی کمی ، لوگ حیران ، ماہرین ماحولیات نے بتائی یہ وجہ

Jammu and Kashmir News : جموں اور سرینگر شہروں سمیت یو ٹی کے مختلف علاقوں میں کئی روز سے بارشوں اور بالائی علاقوں میں تازہ برف باری کی وجہ سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر میں درجہ حرارت میں غیر معمولی کمی ، لوگ حیران ، ماہرین ماحولیات نے بتائی یہ وجہ
جموں و کشمیر میں درجہ حرارت میں غیر معمولی کمی ، لوگ حیران ، ماہرین ماحولیات نے بتائی یہ وجہ

جموں و کشمیر:  جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی روز سے غیر معمولی موسمی حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ جموں اور سرینگر شہروں سمیت یو ٹی کے مختلف علاقوں میں کئی روز سے بارشوں اور بالائی علاقوں میں تازہ برف باری کی وجہ سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔ یوٹی کی سرمائی اور گرمائی راجدھانیوں میں زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت میں غیر معمولی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ، جو یہاں کے باشندوں کے لیے حیرت کا باعث بنا ہوا ہے۔ 22 اور 23 اپریل کی درمیانی شب کو سرینگر اور جموں میں رات کا کم سے کم درجہ حرارت 4 سے 7 ڈگری سیلسیس کم ریکارڈ کیا گیا۔ سرینگر میں کل رات کا کم سے کم درجہ حرارت 4.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کی گیا جو معمول کے درجہ حرارت سے 4.3 ڈگری سیلسیس کم ہے۔ وہیں جموں میں کل رات کا کم سے کم درجہ حرارت 13.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول کے درجہ حرارت سے 7.2 ڈگری سیلسیس کم ہے۔


محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وادی اور جموں کے میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے ہو رہی بارشوں اور کشمیر کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری کی وجہ سے درجہ حرارت کی گراوٹ آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اپریل ماہ کے دوران درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپریل 2017 میں سرینگر میں سب کم سے کم درجہ حرارت صفر ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا ہے۔


ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں کمی کیلئے عالمی سطح پر ہو رہی موسمی تبدیلیاں بشمول عالمی حدت ذمہ دار ہیں ۔ ماہر ماحولیات ڈاکٹر چندر موہن سیٹھ کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں اس طرح کی موسمی تبدیلیاں متوقع ہیں ، کیونکہ یو ٹی کو جنوب اور شمال سے آنے والی ہوائیں متاثر کرتی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمالیائی رینج میں یہ ہوائیں آپس میں  ٹکرا جانے سے درجہ حرارت میں تبدیلی واقع ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں کبھی کمی اور کبھی اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ڈاکٹر سیٹھ نے کہا کہ اس طرح کی تبدیلیاں تین چار سال کے وقفے کے بعد دیکھنے کو ملتی ہیں ۔


وادی کشمیر کے معروف ڈیولپمنٹ پریکٹیشنر ارجمند حسین طالب کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں عالمی سطح پر ہو رہے موسمی بدلاؤ کا شاخسانہ ہیں ۔ نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر موسم سے متعلق 2020 میں جاری کی گئی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں کئی موسمی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن میں بھاری بارشیں سیلاب اور سخت سردی کی لہر شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سب تبدیلیوں کا اثر جموں و کشمیر میں بھی صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان موسمی تبدیلیوں کا براہ راست اثر زراعت اور میوہ کاشتکاری پر پڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر چندر موہن سیٹھ کے مطابق حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ریکارڈ کی گئی درجہ حرارت میں کمی جموں میں گندم کی پیداوار متاثر کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق جن کسانوں نے ابھی تک فصیلیں صرف کاٹ کے رکھی ہیں، کھیتوں میں پڑی انکی فصل خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

وہیں دوسری جانب کشمیر وادی میں بادام چری اور آلو بخارے کی فصل کم درجہ حرارت کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہے۔ کیونکہ شگوفے کھلنے کے بعد درجہ حرارت میں اچانک کمی واقع ہونے سے میوے کے سائز اور اسکی مقدار پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ وہیں محکمہ موسمیات کی طرف سے جموں کشمیر کے عوام کےلئے ایک خوشخبری کا پیغام جاری ہوا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ یو ٹی میں 24 اپریل سے موسم بہتر ہونے کی امید ہے۔ محکمہ کی پیش گوئی کے مطابق جموں و کشمیر میں 24 اپریل سے 3 مئی تک موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 23, 2021 07:14 PM IST