اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جموں و کشمیر میں بڑھ رہا ہے منشیات کا استعمال، پولیس اس لعنت کو ختم کرنے میں سب سے آگے

    جموں و کشمیر میں بڑھ رہا ہے منشیات کا استعمال، پولیس اس لعنت کو ختم کرنے میں سب سے آگے

    جموں و کشمیر میں بڑھ رہا ہے منشیات کا استعمال، پولیس اس لعنت کو ختم کرنے میں سب سے آگے

    Jammu and Kashmir : ڈرگ ڈیڈیکشن سینٹر کی میڈیکل افسر ڈاکٹر شہناز بٹ کا کہنا ہے کہ روزانہ 10 سے 12 نشے کے عادی افراد او پی ڈی میں آتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ نوجوان نسل بنیادی طور پر منشیات کے استعمال میں ملوث ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Jammu | Srinagar
    • Share this:
    جموں و کشمیر : جموں کے ایک اکیس سالہ نوجوان نے ماڈل بننے کا سوچا تھا۔ لیکن افسوس! اس سے پہلے کہ اس کا خواب پورا ہوتا، وہ برے لوگوں کی صحبت میں پڑ گیا اور منشیات کا استعمال شروع کر دیا۔ اپنی کہانی بتاتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ اس نے نوجوانوں کے ایک گروہ سے ملاقات کی جو منشیات کا استعمال کررہے تھے۔ ابتدائی طور پر اس نے تفریح کے لیے نشہ آور اشیاء کا استعمال کیا، لیکن جلد ہی منشیات کا استعمال اس کی مجبوری بن گیا۔ ایک اور نوجوان جو پہلے ایتھلیٹ ہوا کرتا تھا، اس نے بھی نشہ آور اشیاء کا استعمال شروع کر دیا جب وہ بری صحبت میں پھنس گیا۔ نیوز 18 کی ٹیم نے ان نوجوانوں کے ساتھ جموں و کشمیر کے زیر انتظام چل رہے ڈرگ ڈی ایڈکشن سنٹر میں بات چیت کی۔

    نیوز 18 کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے منشیات کے عادی افراد میں سے ایک نے بتایا کہ میں گزشتہ آٹھ سال سے ہیروئن استعمال کر رہا تھا اور اس عرصے کے دوران مجھے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ کیونکہ ہر نشے کے عادی کو نشے کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بہت بڑا مالی نقصان بھی ہوتاہے۔ ہیروئین کی خوراک کی قیمت کم از کم 1000 روپے ہے اور نشے کا عادی فرد ایک دن میں تقریباً 7 سے 8 خوراکیں لیتا ہے، جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نشے کے عادی شخص کو کتنی رقم درکار ہوتی ہے۔

    ایک اور نوجوان جس کو حال ہی میں نشہ چھٹکارا مرکز جموں میں داخل کیا گیا تھا نے بتایا کہ وہ اپنے اسکول کے زمانے سے ہی منشیات کا استعمال کر رہاہے انہوں نے کہا کہ جب میں طالب علم تھا تو میں کچھ ایسے طالب علموں کی صحبت میں پڑ گیا جو سگریٹ پیتے تھے اور میں سگریٹ نوشی کا شکار ہو گیا۔میں نے کچھ اور طالب علموں سے ملاقات کی اور "چرس" شروع کی۔ پھر میں نے ہیروئن کو استعمال کرنا شروع کیا اور بعد میں انجیکشن کے طور پر ہیروئن دینا بھی شروع کیا جس سے میری زندگی برباد ہوگئی۔

    ڈرگ ڈیڈیکشن سینٹر کی میڈیکل افسر ڈاکٹر شہناز بٹ کا کہنا ہے کہ روزانہ 10 سے 12 نشے کے عادی افراد او پی ڈی میں آتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ نوجوان نسل بنیادی طور پر منشیات کے استعمال میں ملوث ہے۔ نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شہناز نے بتایا کہ او پی ڈی میں آنے والے افراد کا تجزیہ کرنے کے بعد ان کا علاج شروع کیا جاتا ہے۔جن لوگوں کو داخلے کی ضرورت ہوتی ہے انہیں سینٹر میں داخل کیاجاتا ہے۔ دوائیوں کے علاوہ، یوگا کی کلاسز اور خصوصی مشاورت اور تعامل کے پروگراموں کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ انہیں منشیات کے استعمال سے چھٹکارا دلانا جاسکے۔

    یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر: اننت ناگ کے چار دوستوں کا بڑا کارنامہ، انتہائی سستا ایگ انکیوبیٹر کیا ایجاد


    یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر : جیش محمد کے ٹیرر ماڈیول کا پردہ فاش، بڑی تعداد میں ہتھار برآمد


    نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شہناز نے کہا کہ ہم اپنے سینٹر میں آنے والے افراد کا تجزیہ کرتے ہیں کہ انہوں نے منشیات کا استعمال کیوں کیا، ہم ان کے خاندان کے افراد اور قریبی رشتہ داروں سے اس کی وجوہات جاننے کے لیے مشورہ کرتے ہیں اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا علاج کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو بہت زیادہ پیسے ملتے ہیں اور ان کے والدین ان پر نظر نہیں رکھتے اس لیے وہ تفریح کے لیے شروع میں نشہ کرتے ہیں اور بعد میں نشے کی لت میں پھنس جاتے ہیں۔

    سنٹر میں داخل نوجوان جنہیں منشیات کے استعمال کی وجہ سے کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے، اس نشہ چھڑانے کے مرکز کے طریقہ کار سے مطمئن ہیں۔ حوصلہ افزا تقریریں، مشاورت،یوگا کی کلاسیں کافی مددگار ثابت ہورہی ہیں۔ ان نوجوانوں کاکہناہے" ہمیں یقین ہے کہ جب ہم مرکز سے فارغ ہو جائیں گے تو ہم دوبارہ اس جال میں نہیں پھنسیں گے اور ایک صحت مند زندگی گزاریں گے"ایک سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً 6 لاکھ لوگ منشیات کا استعمال کر رہے ہیں جس نے انتظامیہ اور مجموعی طور پر معاشرے کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: