ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد 4 لاکھ 96 ہزارافراد ہوئے بے روزگار:رپورٹ

کے سی سی آئی کی یہ ابتدائی رپورٹ ہے اور 120 دنوں کے سروے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔تاہم ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر وادی میں حالات جلد معمول پر نہیں آئیں گے تونقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں۔

  • Share this:
جموں و کشمیر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد 4 لاکھ 96 ہزارافراد ہوئے بے روزگار:رپورٹ
علامتی تصویر

وادی میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد حالیہ مہینوں کے دوران پیدا شدہ حالات کی وجہ سے کشمیر کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔کے سی سی آئی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ چار مہینوں کے دوران کشمیری تاجروں کو تقریباً 18 ہزار کروڑ روپئے کا خسارہ ہوا ہے جبکہ 4لاکھ 96 ہزارافراد اپنے روزگار سے محروم ہوئے ہیں۔وادی کشمیرمیں اس بار، نامساعد حالات کا سب سے طویل مرحلہ دیکھنے کومل رہاہے۔ تقریباً 5 مہینے گذرنے کے باوجود تجارتی سرگرمیاں پوری طرح معمول پر نہیں لوٹیں ہیں۔ان پانچ مہینوں کے دوران تاجرین کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔کتنا نقصان ہوا اس کےاعدادوشمار حکومت کے پاس نہیں ہیں۔حکومت نےحال ہی میں پارلیمنٹ کو جانکاری دی کہ کشمیرمیں تجارتی سرگرمیوں کوہوئےنقصانات کی کوئی مخصوص رپورٹ نہیں ہے۔تاہم کشمیرچیمبر آف


کے سی سی آئی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ چار مہینوں کے دوران کشمیری تاجروں کو تقریباً18 ہزارکروڑ روپئے کا خسارہ ہوا ہے
کے سی سی آئی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ چار مہینوں کے دوران کشمیری تاجروں کو تقریباً 18 ہزار کروڑ روپئے کا خسارہ ہوا ہے


کامرس اینڈ انڈسٹری یعنی کے سی سی آئی نے اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے۔کے سی سی آئی نے دو علیحدہ سروے کرائے ہیں۔ ایک سروے جی ڈی پی کی اساس پر ہے تو دوسرا سروے صنعتوں کے الگ الگ شعبوں کے مطابق ہے۔جی ڈی پی سروے میں پتہ چلا ہے کہ120 دنوں کے عرصہ میں کشمیرکی معیشت کو تقریباً17800کروڑ روپیے کا نقصان ہوا ہے وہیں شعبہ جاتی سروے میں 14000کروڑ کا خسارہ بتایاگیا ہے۔ کے سی سی آئیکے سکریٹری جنرل ناصر حامد نے نیوز 18سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف سیاحتی شعبہ کو ہی ایک ہزار کروڑ سے زیادہ کانقصان ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سروے میں ٹورزم، ہارٹیکلچر، اگریکلچر،ہوٹلس ،ٹرانسپورٹ سمیت دیگر شعبے شامل کئے گئے ہیں۔ناصر حامد کے مطابق سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ 4اعشاریہ96لاکھ افراداپنے روزگارسےمحروم ہوگئے ہیں۔


کے سی سی آئی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ ترقیاتی کاموں کے فیصلے اورتجارت سے متعلق امور میں یو ٹی انتظامیہ کی جانب سے ادارے کو حاشیہ پر رکھا جارہا ہے۔ کے سی سی آئی نے کشمیر میں مستقبل قریب میں کی جانے والی سرمایہ کاری کو لیکر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حالانکہ کے سی سی آئی کی یہ ابتدائی رپورٹ ہے اور 120 دنوں کے سروے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔تاہم ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر وادی میں حالات جلد معمول پر نہیں آئیں گے تونقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں۔
نیوز18اردو کے لئے سرینگر سے پرویزبٹ کی رپورٹ
First published: Dec 19, 2019 01:04 PM IST