ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

Eid-ul-Adha in Kashmir: وادی کشمیر میں کہیں بھی منعقد نہیں ہوا نماز عید کا بڑا اجتماع

کورونا وائرس پھیلنے کے خطرات کے پیش نظر کہیں بھی نماز عید کا بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا۔ بعض علاقوں میں لوگوں نے مقامی مساجد یا پارکوں میں چھوٹے چھوٹے اجتماعات میں نماز عید ادا کی۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 21, 2021 08:24 PM IST
  • Share this:

دنیا کے مختلف حصوں کی طرح جموں و کشمیر اور لداخ میں بھی عید الاضحیٰ کی تقریب سعید منائی جا رہی ہے۔ سنت ابراہیمی (ع) کی پیروی میں جانوروں کی قربانی کا سلسلہ جاری ہےتاہم کورونا وائرس پھیلنے کے خطرات کے پیش نظر کہیں بھی نماز عید کا بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا۔ بعض علاقوں میں لوگوں نے مقامی مساجد یا پارکوں میں چھوٹے چھوٹے اجتماعات میں نماز عید ادا کی۔


وقفہ وقفہ سے دن بھر جاری رہنے والی بارش کی وجہ سے اکثر علاقوں میں بچے پارکوں یا کھیل کے میدانوں کا رخ کرنے کی بجائے گھروں تک ہی محدود رہے۔تاہم بارش شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ٹنگڈار سیکٹر میں بھارت اور پاکستان کے فوجیوں کو عید الاضحیٰ کے موقع پر مٹھائیاں کا تبادلہ کرنے سے نہ روک سکی۔



سری نگر میں تعینات دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل عمران موسوی نے بتایا کہ امن اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لئے بھارت اور پاکستان کے فوجیوں نے عید الاضحیٰ کے موقع پر ٹنگڈار سیکٹر میں مٹھائیوں کا تبادلہ کیا۔وادی کشمیر میں عید الاضحیٰ کے موقع پر سب سے بڑے اجتماعات سری نگر میں تاریخی عید گاہ اور درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوتے ہیں جن میں لاکھوں افراد شرکت کرتے تھے۔تاہم کورونا وائرس کے خطرات اور حکومتی ایڈوائزری کے پیش نظر یہ اجتماعات ایک بار پھر منعقد نہیں ہو سکے۔ نیز تمام بڑی مساجد، امام بارگاہوں اور زیارت گاہوں کے منبر و محراب بھی خاموش رہے۔

بتا دیں کہ گزشتہ تین سال کے دوران یہ عید عید الاضحیٰ جموں و کشمیر میں پانچویں ایسی عید ہے جس میں نماز عید کا کوئی بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا۔جموں و کشمیر میں سنہ 2019 میں عید الاضحیٰ کے موقع پر اس تہوار کی تمام تر تقریبات مفقود رہی تھیں کیونکہ تب مرکزی حکومت نے پانچ اگست 2019 کے فیصلوں کے پیش نظر لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔


اس کے بعد آنے والی چار عیدوں کی روایتی گہما گہمی اور چہل پہل کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر رہی۔موصولہ اطلاعات کے مطابق بدھ کو وادی کے مختلف علاقوں میں نماز عید کے چھوٹے چھوٹے اجتماعات منعقد ہوئے جن کے شرکا نے سماجی دوری کا خاصا خیال رکھا۔ تاہم لوگوں نے مصافحہ کرنے اور گلے ملنے سے اجتناب ہی کیا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق صوبہ جموں اور لداخ یونین ٹریٹری میں بھی عید الاضحیٰ انتہائی سادگی سے منائی جا رہی ہے۔ تاہم وادی کی طرح ان دو خطوں میں بھی نماز عید کے کسی بڑے اجتماع کا انعقاد نہیں ہوا۔

دریں اثنا لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر کی عوام کو عید الاضحیٰ کے موقع پر مبارک باد پیش کی ہے۔اپنے مبارک بادی کے پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ مقدس تہوار معاشرے کے تمام طبقات کے مابین سخاوت کے جذبے کی تائید کرتا ہے۔انہوں نے کہا: 'اس موقع پر میں لوگوں سے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتاہوں اور امید کرتا ہوں کہ عید الاضحی کی علامت کردہ فلاحی اور بے لوث خدمت کا جذبہ امن اور ہم آہنگی کو فروغ دے گا'۔ان کا مزید کہنا تھا: 'اس سے تمام طبقوں کے مابین فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کے جذبات کو مزید تقویت ملے گی اوریہ دن جموں و کشمیر یو ٹی میں سب کے لئے اچھی صحت، ترقی اور خوشحالی کی نوید لے کر آئے'۔

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ میں سب سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ کوڈ پروٹوکول اور کووڈ مناسب طرز عمل پر من و عن عمل کریں۔نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے لوگوں کو عید الاضحیٰ کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن قربانی اور ایثار کی علامت کی بہت بڑی نشانی ہے اور اس کا دوسرا کوئی ثانی نہیں ہے۔


انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ہمیں یہ عید انتہائی سادگی کے ساتھ منانی چاہئے اور اُن تمام رہنما خطوط کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر پر بھی عمل کرنا چاہئے جو حکام اور طبی شعبہ سے وابستہ ماہرین کی طرف سے جاری کئے گئے ہیں۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہمیں ہر حال میں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم اپنے دینی فرائض انجام دیں اور کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا ذریعہ نہ بنیں۔انہوں نے جموں و کشمیر سے عوام سے اپیل کی کہ وہ عید کے دوران اپنے اُن پڑوسیوں، رشتہ داروں اور دوست و احباب کا خاص خیال رکھیں جن کا روزگار لاک ڈاﺅن سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے فرزندان توحید سے جموں و کشمیر کے عوام کی فتح و نصرت، مکمل اور دیرپا امن و امان اور کورونا وائرس کی وبائی بیماری سے نجات کے لئے اللہ کے دربار میں سربسجود ہوکر دعا کریں۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jul 21, 2021 03:41 PM IST