ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: کورونا کے قہر نے عید الاضحیٰ کی خوشیوں پر بھی ڈاکہ ڈالا

کشمیر سیمت کپواڑہ ضلع میں بھی ہزاروں افراد نےکوارنٹائن سنٹروں میں ہی عید منائی۔ گرچہ انتظامیہ نے کوارنٹائن سنٹروں میں بہترین انتظامات کئے تھے۔ مگر اپنوں سے دوری کا لوگوں کو آج بھی ملال رہا۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: کورونا کے قہر نے عید الاضحیٰ کی خوشیوں پر بھی ڈاکہ ڈالا
کرونا کے قہر نے عید الاضحیٰ کی خوشیوں پر بھی ڈاکہ ڈالا

کپواڑہ: لاک ڈاؤن کے درمیان جموں وکشمیر سمیت سرحدی ضلع کپواڑہ میں کووڈ-19 کی زد میں آنے والے افراد کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے اور کل عید کے روز بھی درجنوں افراد کے نمونے مثبت آگئےجبکہ درجنوں مریضوں نے کووڈ- آئیسولیشن  سنٹروں میں ہی اضطرابی کیفیت میں عید الضحیٰ منائی۔ کشمیر سیمت کپواڑہ ضلع  میں بھی ہزاروں افراد نےکوارنٹائن سنٹروں میں ہی عید منائی۔ گرچہ انتظامیہ نے کوارنٹائن سنٹروں میں بہترین انتظامات کئے تھے۔ مگر اپنوں سے دوری کا لوگوں کو آج بھی ملال رہا۔ آئیسولیشن میں بیٹھے مریضوں کا کہنا تھا کہ اپنی اور دوسروں کی سلامتی کیلئے کوارنٹائن میں رہنا ضروری بھی ہے تاکہ اس وبائی بیماری پر قابو پایا جاسکے۔ اسی دوری کے سبب آج کہیں باپ اپنے بچوں سے جدا رہا اور کہیں ماں شیر خوار بچے سمیت اسپتال میں عید منانے پر مجبور ہوگئی۔ جسے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی عید کی خوشیوں پھیکی پڑگئیں۔


نیوز 18 کو ملی تفصیلات کے مطابق رواں ماہ کی 31 تاریخ تک کپواڑہ میں کووڈ-19 مریضوں کی تعداد 1094 تک پہنچ گئی تھی، جن میں 837 مریض شفایاب بھی ہوئے ہیں اور اب تک 20 افراد کی موت بھی واقع ہوگئی ہے۔ تاہم کورورنا متاثریں کو آج اس وقت راحت ملی جب سرکار کی نئی گائیڈ لائنوں کے تحت کووڈ مراکز سے Asymptomatic مریضوں کو ہوم کوارنٹائن کیلئے گھروں کو بیھچ دیا گیا اور ان مریضوں نے اسے عید کا تحفہ سمجھ کر گھروں کی راہ لی۔ نیوز 18 سے فون پر بات کرتے ہوئے کووڈ-19 مراکزکے اندر موجود غلام احمد نامی ایک مریض نے روتے ہوئےکہا کہ وہ گھروں کے اندرعلیحدگی میں ہی سہی، لیکن افراد خانہ کے قریب عید منا سکتے ہیں۔ ایسے الفاظ کی ادائیگی کے دوران ایک مریض کی آنکھیں اشکبار تھیں جبکہ اس دوران کپواڑہ کے مختلف کووڈ-19 آئیسولیشن مراکز میں آج بھی درجنوں ایسے مریض تھے، جنہوں نے آئیسولیشن سنٹر میں ہی عید منائی۔


سارہ نامی ایک خاتون  کووڈ-19 مریض کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ رہا تھا کیونکہ عیدکے موقع پر اپنوں سے جدائی اور بالخصوص بچوں کی دوری پر وہ کافی مخموم نظر آئی۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ وہ پہلی مرتبہ عید کے روز اپنوں سے دور رہنے پر مجبور ہے۔ ساتھ ہی کہا کہ ان کا اپنے اہل و عیال سے دور رہنا ہی ان کیلئے مفید ہے۔ اس دوران عید کی خوشیوں پر لاک ڈاؤن کا اثر دور دور تک دکھائی دیا۔ کیونکہ رواں سال دوسری مرتبہ بچے روایتی طور کی عید خوشیوں کو آپس میں بانٹ نہیں سکے اور دوسری عید بھی پھیکی پھیکی رہی۔

وہی لاک ڈاؤن کی پابندیوں اور ریڈ زون کے قواعدو ضوابط نے بھی عید کی خوشیوں کو کافی حد تک بے رنگ کردیا اور اس کا اثر بچوں کے چہروں پر صاف نظر آرہا تھا۔ اس دوران آج بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے ضلع میں کسی بھی جگہ کوئی بڑی تقریب منعقد نہیں ہوئی اور لوگوں نے گھروں میں ہی نماز پڑھنےکو ترجیحی دی۔ تاکہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کی عمل آورری ہو۔ اس طرح آج عید الاضحیٰ کی تقریب میں اپنے اپنوں سے دور آئیسولیشن مراکز میں عید منانے پر مجبور ہوگئے اور آئیسولیشن مراکز میں انتظامیہ کی جانب سے مریضوں کیلئےکافی بہتر انتظامات کئے گئے تھے۔ تاہم آج بھی کہیں باپ بچوں سے دور رہا جبکہ کہیں ماں بچے سے دور رہی۔ کیونکہ کورونا پازیٹیو ہونے کی وجہ انہیں اپنوں سے دور آئیسولیشن مراکز میں عید منانی پڑی، جس کی وجہ سے آج بھی ان مراکز میں کئی غم کا ماحول دیکھنے کو ملا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 02, 2020 07:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading