ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر میں عید الاضحیٰ: اجتماعی نماز عید کا کوئی بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا

وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر عید الاضحیٰ انتہائی سادگی سے منائی جارہی ہے۔ کہیں بھی نماز عید کا بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا تاہم مختلف علاقوں میں لوگوں نے نماز فجر کے بعد چھوٹے چھوٹے اجتماعات میں نماز عید ادا کی جس دوران سماجی دوری کا خیال رکھا گیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 02, 2020 01:30 AM IST
  • Share this:
کشمیر میں عید الاضحیٰ: اجتماعی نماز عید کا کوئی بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا
کشمیر میں عید الاضحیٰ: اجتماعی نماز عید کا کوئی بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا۔ فائل فوٹو

سری نگر: وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر عید الاضحیٰ انتہائی سادگی سے منائی جارہی ہے۔ کہیں بھی نماز عید کا بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا تاہم مختلف علاقوں میں لوگوں نے نماز فجر کے بعد چھوٹے چھوٹے اجتماعات میں نماز عید ادا کی جس دوران سماجی دوری کا خیال رکھا گیا۔ نیز لوگ سنت ابراہیمی کی پیروی میں جانور قربان کر رہے ہیں۔ جموں و کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے گذشتہ روز یو این آئی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر لوگ چھوٹے چھوٹے اجتماعات میں نماز عید ادا کرسکتے ہیں تاہم نماز عید کی ادائیگی کے لئے بڑے اجتماعات کے انعقاد سے احتراز کیا جانا چاہئے۔

انہوں نے لوگوں سے نماز عید کی ادائیگی اور جانوروں کی قربانی کے دوران احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی تلقین کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ خیرات، قربانی کا نعم البدل نہیں ہے بلکہ ان دونوں کی الگ الگ اہمیت و خصوصیت ہے۔ وادی میں عید الاضحیٰ کے موقع پر سب سے بڑے اجتماعات عیدگاہ سری نگر اور درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوتے ہیں تاہم کورونا وائرس کے خطرات اور حکومتی ایڈوائزری کے پیش نظر یہ اجتماعات منعقد نہیں ہوسکے۔ وادی کی تمام بڑی مساجد، امام بارگاہوں اور زیارتگاہوں کے منبر و محراب بھی خاموش رہے۔

اگر وادی میں گذشتہ دنوں لاک ڈائون میں تھوڑی نرمی دی گئی تاہم آج سے ایک بار پھر سخت لاک ڈائون نافذ کیا گیا ہے۔ سری نگر میں جگہ جگہ پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جن کو لاک ڈائون سختی سے نافذ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔


بتادیں کہ یہ وادی میں مسلسل تیسری عید ہے جو لاک ڈائون کی نذر ہوگئی ہے۔ قبل ازیں رواں برس مئی میں عید الفطر کے موقع پر بھی کشمیر میں اجتماعی نماز کا کوئی بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا تھا۔ گذشتہ برس عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی یہاں یہ اجتماعات منعقد نہیں ہوسکے تھے کیونکہ تب انتظامیہ نے پانچ اگست 2019 کے فیصلوں، جن کے تحت کشمیر کی خصوصی پوزیشن منسوخ کی گئی تھی، کے پیش نظر یہاں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ہفتے کو وادی کے مختلف علاقوں میں نماز فجر کے بعد نماز عید کے چھوٹے چھوٹے اجتماعات منعقد ہوئے جن کے شرکاء نے سماجی دوری کا خاصا خیال رکھا۔ تاہم لوگوں نے مصافحہ کرنے اور گلے ملنے سے اجتناب ہی کیا۔

وادی میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز سامنے آنے کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے جس کے پیش نظر دس میں سے نو اضلاع کو ریڈ زون کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ وادی میں اب تک کورونا کے زائد از بیس ہزار کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ قریب 380 افراد کی موت واقع ہوچکی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق صوبہ جموں اور لداخ یونین ٹریٹری میں بھی عید الاضحیٰ انتہائی سادگی سے منائی جارہی ہے۔ تاہم وادی کی طرح ان دو خطوں میں بھی نماز عید کے کسی بڑے اجتماع کا انعقاد نہیں ہوا۔ وادی کے برعکس جموں اور لداخ میں کورونا وائرس کے بہت کم کیسز سامنے آئے ہیں۔
دریں اثنا لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو نے جموں و کشمیر کے عوام کو بالعموم اور مسلم برادری کو بالخصوص عید الاضحی کے مقدس موقع پر مبارک باد پیش کی ہے۔ اپنے تہنیتی پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس تہوار سے قربانی، سخاوت اور فیاضی کا درس ملتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مبارک موقع یوٹی میں مزید خوشگوار ماحول قائم کرنے اور خوشحالی اور ترقی کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہر تہوار امن و یکجہتی کو ترقی دینے کا موقع فراہم کرتا ہے اور میں امید ظاہر کرتا ہوں کہ اس روایت کو مزید فروغ دے کر سماج کے مختلف طبقوں کے مابین امن و آشتی اور مذہبی یگانگت کو مزید مستحکم بنائے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر لوگوں کو تہوار مناتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے جاری کئے گئے رہنما خطوط اور قواعد و ضوابط پرعمل پیر ا رہنے کے لئے کہا۔ انہوں نے جموں وکشمیر یوٹی کے لئے امن، ترقی اور خوشحالی کی دعا کی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے لوگوں کو عید الاضحیٰ کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن قربانی اور ایثار کی علامت کی بہت بڑی نشانی ہے اور اس کا دوسرا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ہمیں یہ عید انتہائی سادگی کے ساتھ منانی چاہئے اور اُن تمام رہنما خطوط کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر پر بھی عمل کرنا چاہئے جو حکام اور طبی شعبہ سے وابستہ ماہرین کی طرف سے جاری کئے گئے ہیں۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہمیں ہر حال میں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم اپنے دینی فرائض انجام دیں اور کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا ذریعہ نہ بنیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر سے عوام سے اپیل کی کہ وہ عید کے دوران اپنے اُن پڑوسیوں، رشتہ داروں اور دوست و احباب کا خاص خیال رکھیں جن کا روزگار گذشتہ ایک سال کے مسلسل لاک ڈاﺅن سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے فرزندان توحید سے جموں و کشمیر کے عوام کی فتح و نصرت، مکمل اور دیرپا امن و امان اور کورونا وائرس کی وبائی بیماری سے نجات کے لئے اللہ کے دربار میں سربسجود ہوکر دعا کریں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 02, 2020 01:27 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading