ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: رامبن میں سنت ابراہیمی جوش وجذبے اور عقیدت سے ادا کی گئی، فرزندان توحید نےسرکاری احکامات کی مکمل پاسداری کی

ضلع رامبن میں بھی فرزندان توحید نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر نہایت ہی جوش وجذبے کے ساتھ سنت ابراہیمی کی ادائیگی کی۔کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کے بعد سرکاری احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے ضلع کی ہرمسجد و عیدگاہ میں نماز عید ادا کی گئی۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: رامبن میں سنت ابراہیمی جوش وجذبے اور عقیدت سے ادا کی گئی، فرزندان توحید نےسرکاری احکامات کی مکمل پاسداری کی
جموں وکشمیر: رامبن میں سنت ابراہیمی جوش وجذبے اور عقیدت سے ادا کی گئی، فرزندان توحید نےسرکاری احکامات کی مکمل پاسداری کی

رامبن: عیدالاضحیٰ سنت ابراہیمی کا احیاء، اعادہ اور خراج عقیدت ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی اس قربانی کو اللہ تعالیٰ نے بہت ہی عظیم قرار دیا ہے۔ اس قربانی کو جسے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی کہا ہے۔ مسلسل عیدالاضحیٰ کے دنوں میں دہرایاجانا، خوشی کےلمحات اور عید سعید کو ان دنوں میں منایا جانا یہ سب عظیم قربانی کی وجہ سے ہی ہے۔ یہ قربانی عظیم اس لئے ٹھہری کہ حضرت ابراہیمؑ نےحکم الٰہی کی تعمیل میں اپنےجگرگوشے کو پیش کردیا تھا۔ اس عمل کو آنکھیں دیکھ نہ سکتی تھیں کیونکہ ان پر اس وجہ سے پٹّی باندھ لی گئی تھی تاکہ محبت پدری ہاتھوں کو لرزا نہ دے۔ دل حکم الٰہی کی تعمیل میں سجدہ ریز تھا، زبان ذکر میں مشغول تھی اور ہاتھ اطاعت وفرمابرداری میں مصروف تھا۔ چھری چلی، خون بہااور قربانی دیدی گئی۔ آنکھوں پر پٹّی باندھےحضرت ابراہیمؑ کو کب معلوم تھا کہ ان کے ہاتھوں ذبح ہونے والی جان بیٹے کی نہیں دنبے کی ہے، جسے اللہ نے بیٹے کی جگہ بدل دیا اور ان کی چھری بیٹے کے بجائے دنبے کی گردن پر چلی ہے۔


حضرت ابراہیمؑ نے پورے ہوش وحواس اور عزم وارادے کے ساتھ اپنے بیٹے اسمٰعیل کو ذبح کیا تھا۔ یہی وہ  کھلی آزمائش تھی جس میں حضرت ابراہیمؑ پورے اترے تھے۔ بڑے امتحان میں حاصل ہونے والی کامیابی بھی بڑی ہوتی ہے اور اس پر ملنے والا انعام بھی غیر معمولی ہوتا ہے۔ نبی ؑ کی فرمابرداری اور نبی زادہ کی سعادت مندی اللہ کے یہاں اس پائے کو پہنچی کہ عظیم قربانی قیامت تک کےلئے یادگار بنادی گئی اور امت محمدیہ میں اسے جاری کردیا گیا۔ عیدالا ضحیٰ اس بات کی یاد دہانی کراتی ہےکہ قربانی کےدنوں میں امت محمدیہ اللہ کےحضور عہد کرےکہ جب جب جس نوعیت اور جس سطح کی قربانی دینےکی ضرورت پیش آئےگی، وہ کبھی بھی اس سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور ہمہ وقت ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے خود کو تیار رکھےگی۔ امت اس بات کا بھی اظہار کرتی ہے کہ جس طرح وہ قربانی کےگوشت کو اعزاء واقرباء، دوست واحباب، قرب وجوار اور غرباء ومساکین میں تقسیم کرکے عیدالاضحیٰ کی خوشیوں میں شریک ہوتی ہے، اسی طرح اطاعت وفرمابرداری، جاں نثاری اور قربانی میں بھی پوری کی پوری امت شریک اور ایک دوسرے کی معاون ومدد گار ہے۔


عیدالاضحیٰ کے موقع پر امت محمدیہ پوری دنیا میں سنت ابراہیمی کوادا کرتی ہے اور انہیں ذبح عظیم پر خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ جان ومال، علم وعمل، ذہن وفکر، فسلفہ ونظریہ غرض زندگی کے تمام شعبوں میں قربانی دینے میں عزیمت سے کام لینےکا عمل ایک دو دن کا نہیں ہے۔ آغاز اسلام کی آزمائشوں سے لےکر دورحاضرکی پے درپے آنے والی آفات ومصائب، ابتلاء و آزمائش میں افراد امت ثابت قدم رہتے ہیں۔ حسب موقع وصلاحیت ہرقسم کی قربانی دےکر اطاعت، فرمابرداری اورجاں نثاری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ضلع رامبن میں بھی فرزندان توحید نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر نہایت ہی جوش وجذبے کے ساتھ سنت ابراہیمی کی ادائیگی کی۔


اس سے قبل کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کے بعد سرکاری احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے ضلع کی ہرمسجد و عیدگاہ میں نماز عید ادا کی گئی۔ تاہم ضلع بھر میں عیدگاہوں اور مساجد میں زیادہ لوگوں کی شرکت نہ ہونےکی وجہ سے عوام نے سرکاری احکامات پر عمل آوری کرتے ہوئے گھروں میں بھی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ نماز عید ادا کی، جس کے بعد لوگوں نے قربانی کے فرائض انجام دیئے سینکڑوں کی تعداد میں بھیڑ بکریاں اللہ کی رضا کی خاطر قربان کی گئی۔ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے عوام نے نہایت ہی جوش و جذبےکے ساتھ سنت ابراہیمی کو ادا کیا اور اللہ کی بارگاہ میں امت مسلمہ ریاست ملک و عالم کیلئےخصوصی دعاؤں کا اہتمام بھی کیا گیا۔ ضلع ہیڈکوارٹر رامبن کی مساجد وعیدگاہوں میں عوام نے سماجی دوری کی سرکاری احکامات کی پاسداری کی۔ اس کے علاؤہ کسی بھی جگہ بھیڑکا کوئی منظر دیکھنے کو نہ ملا جس پر ضلع انتظامیہ رامبن نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہےکہ کورونا وباء کی وجہ سے ضلع رامبن صوبہ جموں کا واحد ریڈ زون علاقہ ہے۔ رامبن انتظامیہ نے بھی کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیرکرتے ہوئے 30 جولائی شام 6 بجے سے لےکر3 اگست شام 8 بجے تک کیلئے ضلع بھر میں لاک ڈاون کیلئے سخت  پابندیاں عائد کی ہے۔ عوام کی جانب سے بھی انتظامیہ کی جانب سے جاری حکم نامے پر عمل آوری کی گئی۔ لوگوں نے عیدالاضحیٰ کی نمازیں مساجد و عیدگاہوں کے علاوہ زیادہ تر اپنے گھروں میں ادا کی۔ عوام نے نہایت ہی صبروتحمل کے ساتھ کام لےکر سنت ابراہیمی کو ادا کیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 01, 2020 10:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading