உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: گریز کی ایک حاملہ خاتون کو ایمرجنسی طور پر کیا گیا ایئرلفٹ، زچگی کی وجہ سے خاتون کو بزریعہ ہیلی کاپٹر لایا گیا بانڈی پورہ

    گریز کی ایک حاملہ خاتون کو ایمرجنسی طور پر کیا گیا ائر لفٹ

    گریز کی ایک حاملہ خاتون کو ایمرجنسی طور پر کیا گیا ائر لفٹ

    حاملہ خاتون کو زچگی کا وقت بالکل قریب تھا اور زچگی سے پہلے ہی اس خاتون کو کچھ پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، چنانچہ اس کے بعد خاتون کے افراد خانہ نے ضلع انتظامیہ کو مطلع کیا اور بعد میں ضلع انتظامیہ نے بروقت کارروائی کرکے اس خاتون کو بانڈی پورہ پہنچایا گیا۔

    • Share this:
    بانڈی پورہ: جموں وکشمیر کے بانڈی پورہ کے سرحدی علاقے گریز میں آج ضلع انتظامیہ کی بروقت کاروائی سے ایک حاملہ خاتون کے بزریعہ ہیلی کاپٹر بانڈی پورہ لایا گیا۔ کہا جارہا ہے کہ اس حاملہ خاتون کو زچگی کا وقت بالکل قریب تھا اور زچگی سے پہلے ہی اس خاتون کو کچھ پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، چنانچہ اس کے بعد خاتون کے افراد خانہ نے ضلع انتظامیہ کو مطلع کیا اور بعد میں ضلع انتظامیہ نے بروقت کارروائی کرکے اس خاتون کو بانڈی پورہ پہنچایا گیا۔ خاتون کو پہلے ضلع ہسپتال بانڈی پورہ لایا گیا تاہم اس کی حالت دیکھ کر اسے سری نگر منتقل کیا گیا۔

    حاملہ خاتون کو زچگی کا وقت بالکل قریب تھا اور زچگی سے پہلے ہی اس خاتون کو کچھ پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، چنانچہ اس کے بعد خاتون کے افراد خانہ نے ضلع انتظامیہ کو مطلع کیا اور بعد میں ضلع انتظامیہ نے بروقت کارروائی کرکے اس خاتون کو بانڈی پورہ پہنچایا گیا۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موسم سرما میں ہونے والی بھاری برف باری کی وجہ سے گریز علاقہ تقریباً 6 ماہ تک پورے ملک سے کٹ کر رہ جاتا ہے اور بعد میں انتظامیہ اور فوج ہی سامنے آکر مریضوں کو گریز سے باہر نکالتے ہیں۔ ادھر گریز کی بی ڈی سی چیئرمین فہمیدہ بیگم نے ضلع انتظامیہ کی جانب سے ایک حاملہ کو بروقت امداد فراہم کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ مستقبل میں بھی اس سرحدی علاقے کی طرف خاص توجہ دیتی رہے گی۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ گریز میں صحت کا شعبہ انتہائی کمزور ہے اور گریز میں تعینات طبعی و نیم طبعی عملہ اس علاقے میں سخت موسمی حالات اور انتظامات کی کمی کی وجہ سے اس علاقے میں ڈیوٹی دینا پسند نہیں کرتے اور اس طرح سے اس سرحدی علاقے میں تمام صحت مراکز میں موسم سرما میں عملے کی کمی ہو جاتی ہے اور اس کے سبب مریضوں کو کسی بھی پیچیدہ صورت حال میں بذریعہ ہیلی کاپٹر گریز سے منتقل کرنا پڑتا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: