ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

113 کروڑ روپئے کے 'گھوٹالے' میں فاروق عبداللہ سے ای ڈی نے کی پوچھ گچھ، عمر بولے۔ یہ سب گپکر کا بدلہ

فاروق عبداللہ سے پوچھ گچھ ایک ایسے وقت میں کی گئی جب جموں و کشمیر کی چھ علاقائی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے 'پیپلز الائنس' کے بینر تلے پانچ اگست 2019 کی پوزیشن کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات شروع کرانے کے لئے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 19, 2020 02:24 PM IST
  • Share this:
113 کروڑ روپئے کے 'گھوٹالے' میں فاروق عبداللہ سے ای ڈی نے کی پوچھ گچھ، عمر بولے۔ یہ سب گپکر کا بدلہ
فاروق عبداللہ کے ساتھ ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی فائل فوٹو

سری نگر۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے پیر کے روز یہاں جموں وکشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن میں سنہ 2012 میں سامنے آنے والے کروڑوں روپے کے اسکینڈل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیشنل کانفرنس صدر و وکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے پوچھ گچھ کی۔ فاروق عبداللہ سے پوچھ گچھ ایک ایسے وقت میں کی گئی جب جموں و کشمیر کی چھ علاقائی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے 'پیپلز الائنس' کے بینر تلے پانچ اگست 2019 کی پوزیشن کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات شروع کرانے کے لئے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فاروق عبداللہ پیر کی صبح یہاں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے دفتر میں حاضر ہوئے جہاں جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن اسکینڈل کیس کے سلسلے میں ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔


فاروق عبداللہ کے فرزند اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ای ڈی کی کارروائی کو سیاسی انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے والد کے نام ای ڈی کا سمن 'پیپلز الائنس فار گپکر ڈیکلریشن' تشکیل دینے کے محض چند دن بعد سامنے آیا ہے۔



قابل ذکر ہے کہ کرکٹ اسکینڈل کیس کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کررہی ہے۔ اس نے 16 جولائی 2018ء کو کیس میں چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) سری نگر کی عدالت میں فائل کی تھی۔ چارج شیٹ میں ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، سابق جنرل سکریٹری محمد سلیم خان ، سابق خزانچی احسان احمد مرزا اور جموں وکشمیر بینک منیجر بشیر احمد کے نام شامل کئے گئے تھے۔ سی بی آئی نے چارج شیٹ فاروق عبداللہ کو چھوڑ کر باقی ملزمان کی موجودگی میں دائر کی تھی۔ سی بی آئی نے کیس کے سلسلے میں فاروق عبداللہ کا بیان جنوری 2018 میں ریکارڈ کیا تھا۔ فاروق عبداللہ نے ستمبر 2015 میں کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا: 'میں خوش ہوں کہ کیس کی تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ سی بی آئی کیس کی تحقیقات کو تیزی سے اپنے اختتام تک لے جائے گی'۔


واضح رہے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے جموں وکشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے حوالے سے سامنے آنے والے اسکینڈل کو 3 ستمبر 2015 کو سی بی آئی کے حوالے کر دیا تھا۔ اس سے قبل اس اسکینڈل کی تحقیقات جموں وکشمیر پولیس کی خصوصی تحقیقات ٹیم (ایس آئی ٹی) کررہی تھی۔ یہ اسکینڈل 2002 سے 2011 تک بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کی طرف سے جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کو ریاست میں کرکٹ کی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے فراہم کئے گئے 113 کروڑ 67 لاکھ روپے سے متعلق ہے۔ اس رقم میں سے مبینہ طور پر 40 کروڑ روپے کا خرد برد کیا گیا تھا۔ یہ خرد برد اس وقت کیا گیا جب فاروق عبداللہ ریاستی کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔

ایس آئی ٹی نے اپنی تحقیقات میں انکشاف کیا تھا کہ کروڑوں روپے مختلف جعلی بینک کھاتوں میں منتقل کئے گئے تھے۔ اسکینڈل کے سلسلے میں پولیس تھانہ رام منشی باغ میں درج کی گئی پہلی ایف آئی آر میں صرف سابق جنرل سکریٹری محمد سلیم خان اور سابق خزانچی احسان احمد مرزا کو نامزد کیا گیا تھا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 19, 2020 02:24 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading