ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

آج  کے جدید دور میں بھی کشمیر کے مختلف علاقوں میں پن چکیاں قائم ہیں، کشمیری میں آبہ گَرٹَہ کہتے ہیں

کشمیر میں یہ بات مشہور ہے کہ لذیذ اور خوش ذائقہ اور صاف و شفاف روٹی کھانی ہے تو پن چکی سے آٹا پسوانا لازمی ہے۔

  • Share this:
آج  کے جدید دور میں بھی کشمیر کے مختلف علاقوں میں پن چکیاں قائم ہیں، کشمیری میں آبہ گَرٹَہ کہتے ہیں
آج  کے جدید دور میں بھی کشمیر کے مختلف علاقوں میں پن چکیاں قائم ہیں

وادی کشمیر میں پن چکی کی ایک اپنی تاریخ ہے ۔ آج  کے جدید دور میں بھی وادی کے  مختلف علاقوں میں پن چکیاں  قائم ہیں جسے کشمیری میں آبہ گَرٹَہ  کہتے ہیں۔ یہ آج بھی آٹا پیسنے کا ذریعہ ہے ۔ کشمیر میں یہ بات مشہور ہے کہ لذیذ اور خوش ذائقہ اور صاف و شفاف روٹی کھانی ہے تو پن چکی سے آٹا پسوانا لازمی ہے۔ یہ ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو ایک بہتے پانی سے میکانیکی عمل کے ذریعے استعمال میں لایاجاتا ہے۔


آج کے جدید دور میں آٹا یا دوسری چیزوں کو  پیسنے کے لیے عام طور پر بجلی یا ڈیزل سے مشینوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کشمیر کے کئی علاقوں میں پن چکی ہی کا استعمال ہوتا ہے۔ لوگ چاول ، مکئی ، گندم ،سوکھی ہوئی مرچ اسی پن چکی کے ذریعہ سے پسوا کر لے جاتے ہیں۔ پن چکی یعنی ایسی چکی جو پانی کے تیز بہاو سے چلتی ہے اور جس کو نہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی اور چیز کی۔ یہ مسلسل پانی کے تیز بہاو سے اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ پن چکی کو عموما ایسی نہروں اور نالوں کے پاس نصب کیا جاتاہے جہاں پانی کی مقدار زیادہ اور بہاؤ تیز ہو کیوں کہ لکڑی کا پہیہ، وزنی اور بھاری چکی کاپتھر پانی کے تیز بہاؤ سے ہی چل سکتا ہے۔ پن چکی سے تیارکردہ آٹا نہایت ذائقہ دار ہوتا ہے۔ پن چکی معمولی رقم اور چھوٹے ٹکڑے کی اراضی پر قائم کرنےکے لئے بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگارحاصل کرنے کا ایک بہترین وسیلہ بھی ہوسکتا ہے۔


ایک شاعر وادیب خورشید خاموش نےنیوز 18اردو کو بتایا کہ ان کے علاقے میں آج بھی پن چکی سے آٹا پیسنا پسند کیا جاتا ہے۔ شمالی کشمیر اور وسطی ضلع بڈگام کے ٹنگمرگ ،بیروہ ،ماگام ،پٹن ،نارہ بل اور دیگر علاقوں میں بھی کئی سال پرانی پن چکیاں آج بھی موجود ہیں ۔جہاں سے لوگ  چاول ،مکئی یا دوسری چیزوں سے آٹا بنوا کر روٹی بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ترقی کے اس دور میں جہاں تیز رفتار سے چلنے والی چکیاں اور فلور ملیں قائم کر دی گئی ہیں لیکن اس پن چکی کی سست رفتاری سے پسے ہوئے آٹے کی اہمیت بدستور قائم ہے۔ اگر اس پن چکی کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹی بڑی نہروں پر چھوٹے چھوٹے پاور ہاؤس قائم کر دئیے جائیں تو کسی حد تک درپیش بجلی  کے بحران پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 06, 2020 03:04 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading