ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

EXCLUSIVE: جموں وکشمیرکوواپس ملےگاریاست کادرجہ،بلیوپرنٹ پرکل جماعتی اجلاس میں ہوگاغور

قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کئی ماہ سے جموں و کشمیر کو ایک بار پھر ریاست کا درجہ دینے کے لئے حکمت عملی بنا رہے تھے۔ نیوز 18 کو یہ معلومات سرکاری ذرائع کے ذریعے ملی ہیں۔

  • Share this:

وزیر اعظم نیرندر مودی (Narendra Modi) جمعرات کو  جموں وکشمیر کی علاقائی پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کے 'ریاست کے درجے' پر بات چیت کریں گے۔ اس سے پہلے جمعہ کو دہلی میں جموں و کشمیر سے متعلق دو اہم میٹنگ بھی ہوئی تھیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کئی ماہ سے جموں و کشمیر کو ایک بار پھر ریاست کا درجہ دینے کے لئے حکمت عملی بنا رہے تھے۔ نیوز 18 کو یہ معلومات سرکاری ذرائع کے ذریعے ملی ہیں۔


اس معاملے کے بارے میں جانکاری رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کو جلد ہی ریاست کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے اسے لیکر  وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی اس بارے میں وعدہ کیا تھا۔ حالانکہ خطے کے خصوصی درجے کو لیکر  کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔



واضح ہو کہ وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) کی قیادت میں 24 جون کو جموں۔کشمیر (Jammu-Kashmir) کی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ہونے والی آل پارٹی میٹنگ (All-Party Meeting) سے پہلے جموں کشمیر کے بانٹنے کی افواہوں کو حکومت سے جڑے ذرائع نے خارج کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر کو کئی حصوں میں بانٹے جانے کی افواہیں بالکل غلط ہیں اور بے بنیاد ہیں۔

بتادیں کہ جموں۔کشمیر کو لیکر گزشتہ کچھ ہفتوں سے مسلسل خبریں سامنے آرہی تھیں۔ جموں و کشمیر تیزی سے ہو رہی تبدیلی کو دیکھتے ایسی قیاس آرائیاں ہونے لگی تھیں کہ جمون کو بہت جلد مکمل ریاست کا درجہ دیا جا سکتا ہے اور کشمیر کو ایک مرکزی خطہ کے طور پر رکھا جائے گا۔ یہی نہیں اس طرح کی بھی افواہیں سنائی دے رہی رگیں کہ جنوب اور شمالی کشمیر کو الگ کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اب سرکار سے جڑے ذرائع نے ان سبھی افواہوں کو پوری طرح سے خارج کر دیا ہے۔ ایسا کہا جارہا کہ آل پارٹی میٹنگ کشمیر کی عوام کے حق سیاسی سرگرمی کو قاپس قائم کرنے کی سمت میں اٹھایا ہوا بڑا قدم ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jun 20, 2021 03:45 PM IST