உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: پاکستان نے ‘مشن کشمیر‘ کے لئے پھر بنایا دہشت گرد گروپ، ریٹائر ISI آفیسر کا انکشاف

    Pakistan Mission Kashmir: ریٹائرڈ آئی ایس آئی افسر نے کہا، ’ملک کی خراب اقتصادی صورتحال اور فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی بلیک لسٹ کی دھمکی کے سبب ہمارے فنڈ محدود ہیں‘۔

    Pakistan Mission Kashmir: ریٹائرڈ آئی ایس آئی افسر نے کہا، ’ملک کی خراب اقتصادی صورتحال اور فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی بلیک لسٹ کی دھمکی کے سبب ہمارے فنڈ محدود ہیں‘۔

    Pakistan Mission Kashmir: ریٹائرڈ آئی ایس آئی افسر نے کہا، ’ملک کی خراب اقتصادی صورتحال اور فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی بلیک لسٹ کی دھمکی کے سبب ہمارے فنڈ محدود ہیں‘۔

    • Share this:
      نئی دہلی: جموں وکشمیر میں گزشتہ کچھ دنوں سے بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔ کیا پاکستان کی انٹرسروسیز انٹلی جنس (آئی ایس آئی) پھر سے اپنا ’مشن کشمیر‘ شروع کر رہی ہے؟ حملوں کے پیچھے کون ہے؟ کیا پاکستان-افغانستان سرحد پر دہشت گرد گروپوں کا کوئی نیا گٹھ جوڑ ہے؟ کیا اسلامک اسٹیٹ ولایا ہند (آئی ایس ایچ پی) آئی ایس آئی کی نئی فرنچائزی ہے؟

      نیوز 18 نے آئی ایس آئی کے ایک ریٹائر افسر سے بات کی، جنہوں نے نام نہ چھاپنے کی شرط پر اپنے بلو پرنٹ کا انکشاف کیا۔ اس افسر کی جانکاری کتنی اہمیت رکھتی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے 10 سالوں سے زیادہ وقت تک ایل او سی سے جڑے سبھی علاقوں میں کام کیا ہے۔

      2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملے کے بعد

      افسر کے مطابق، علاقے مین اپنی اہمیت کو بنائے رکھنے کے لئے آئی ایس آئی اپنے ‘مشن کشمیر‘ کو پھر سے سرگرم کر رہا ہے۔ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد ہندوستان اور بین الاقوامی دباو کے درمیان، آئی ایس آئی نے ہندوستان اور کشمیر میں کنٹرول کھو دیا ہے۔ ریٹائرڈ آئی ایس آئی افسر نے کہا، ’ملک کی خراب اقتصادی اور فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی بلیک لسٹ کی دھمکی کے سبب ہمارے فنڈ محدود ہیں‘۔

      ’پاکستان اپنی سبھی لڑائی ہار چکا ہے‘

      انہوں نے کہا، ’آئی ایس آئی پہلے کشمیر اور ہندوستان میں 80 سے زیادہ مشنوں کو سنبھال رہا تھا یا پھر اسے آپریٹ کر رہا تھا، لیکن اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کو 26/11 کے حملوں کے بعد مشن اور فنڈ میں تخفیف کرنی پڑی تھی۔ موجودہ وقت میں پاکستان مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سبھی لڑائی ہار چکا ہے۔ اگست  2021 میں تاریخی جیت کے باوجود ہم بلوچستان اور افغانستان میں بھی بے بس ہیں‘۔

      ’مشن کشمیر‘ کے لئے شیطانی گٹھ جوڑ

      افسر نے کہا کہ آئی ایس آئی لشکر طیبہ (ایل ای ٹی)، جیش محمد (جے ایم)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کچھ پاکستان حامی جنگجووں اور دیگر کا اسلامک اسٹیٹ ولایا ہند (آئی ایس ایچ پی) کے ساتھ ایک نیا برا گٹھ جوڑ بنا رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت نئے گروپ میں شامل ہونے کے لئے تذبذب کا شکار ہے کیونکہ وہ امن چاہتے ہیں، لیکن آئی ایس آئی ’جہاد عظیم‘ کے لئے جموں وکشمیر میں دراندازی کرنے پر زور دے رہا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: