உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وادی کشمیر میں نہتے شہریوں کا قتل آئی ایس آئی کی منصوبہ بند حکمت عملی: ماہرین کی رائے

    وادی کشمیر میں نہتے شہریوں کا قتل آئی ایس آئی کی منصوبہ بند حکمت عملی: ماہرین کی رائے

    وادی کشمیر میں نہتے شہریوں کا قتل آئی ایس آئی کی منصوبہ بند حکمت عملی: ماہرین کی رائے

    سلامتی امور کے ماہرین کشمیر میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی ان کارروائیوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ پاکستان کی آئی ایس آئی نے وادی میں خوف ودہشت کا ماحول قائم کرنے کے لیے عام اور نہتے لوگوں کو ہلاک کرنے کی ایک نئی حکمت عملی اپنا لی ہے۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: کشمیر وادی میں چند ہفتوں سے دہشت گردوں کی جانب سے نہتے عوام کو قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں میں خوف وہراس کا ماحول پایا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے کشمیرکے عام لوگوں اور غیرکشمیری مزدوروں کی حالیہ ہلاکتیں پاکستان کی ایک بڑی سازش کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ سلامتی امور کے ماہرین کشمیر میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی ان کارروائیوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ پاکستان کی آئی ایس آئی نے وادی میں خوف ودہشت کا ماحول قائم کرنے کے لیے عام اور نہتے لوگوں کو ہلاک کرنے کی ایک نئی حکمت عملی اپنا لی ہے۔

    جموں وکشمیر کے سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ایس پی وید کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں مطلوب دہشت گرد کمانڈروں سمیت سینکڑوں دہشت گردوں حفاظتی عملے کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک کئے گئے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بوکھلا گئے ہیں۔ لہذا انہوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی نئی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایس پی وید نے کہا کہ نہتے لوگوں کو قتل کرنا کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ اس دوران دہشت گردوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوتا۔ لہٰذا وہ ٹارگٹ کلنگ انجام دے کرعام لوگوں کو خوف زدہ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں، جو دہشت گردی کا اصل مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں  شدت پسندی کی سوچ کئی برسوں سے پنپ رہی ہے، جس کے تحت وہ اقلیتوں میں ڈرو خوف پیدا کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور وہ یہی منصوبہ کشمیر میں بھی عملا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی اس منصوبے سے بھی کافی پریشان ہوگئی ہے، جس کے تحت کشمیری مہاجرین کو وادی میں دوبارہ بسانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ مزدوروں کو ہلاک کرنے کے پیچھے دہشت گردوں کی یہ سوچ بھی کارفرما ہےکہ مرکزی سرکار کی طرف سے جموں وکشمیر میں ترقیاتی پروجیکٹوں کی عمل آوری میں رکاوٹیں حائل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کی عمل آوری کے لئے لازمی ہے کہ مزدور طبقے سے وابستہ لوگ کشمیر میں دستیاب رہیں تاکہ دہشت گرد ان مزدوروں کو گولیوں کا نشانہ بناکر انہیں کشمیر سے نکلنے پر مجبور کرنے کی اپنی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ عوام کی سہولت کے لیے جاری ترقیاتی پروجیکٹ مکمل کرنے میں دشواریاں پیش آئیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی طرف سے ٹارگٹ کلنگ انجام دینےکا ایک اور مقصد یہ بھی ہے کہ ملک کے دیگر حصوں سے سرمایہ کارکشمیر میں سرمایہ کاری کرنے سے گریزکریں کیونکہ آئی ایس آئی اور پاکستان کو لگتا ہے کہ کشمیر میں روزگار کے مواقع پیدا ہوجانے سے یہاں کے نوجوان اپنے روزمرہ کے کام میں مصروف رہیں گے اور وہ دہشت گردوں کے جھانسے میں نہیں آئیں گے جو پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے منصوبے کے برعکس ہے۔

    سابق ڈی جی پی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ماضی میں بھی اس طرح کا ماحول قائم کرنے کے لیے آئی ایس آئی اور دہشت گرد تنظیموں نے ایسے کوششیں کی۔ تاہم مقامی پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے ان کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ موجودہ صورتحال فکر مندی کی باعث ہوسکتی ہے تاہم سنجیدگی سے غور وفکر کرنے سے ایک ایسا لائحہ عمل مرتب کیا جاسکتا ہے، جس سے آئی ایس آئی کی اس نئی حکمت عملی کو ناکام بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں میں ملوث دہشت گردوں کی نشاندہی کرکے انہیں کیفرکردار تک پہنچانا کی ضرورت ہے تاکہ مزید ایسی ہلاکتوں سے بچا جاسکے۔ واضح رہے کہ روال برس کے دوران کشمیر میں 32 نہتے افراد کو دہشت گردوں نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: