உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کابل پر قبضہ کرنے کے بعد واقعی بدل چکا ہے طالبان! جانیے ماہرین کی رائے

    جموں وکشمیر کے سینئر صحافی اور نامور سیاسی تجزیہ نگار محمد سید ملک کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے جاری کئے گئے اس بیان سے طالبان نے خود کو آزمائش میں ڈالا ہے۔

    جموں وکشمیر کے سینئر صحافی اور نامور سیاسی تجزیہ نگار محمد سید ملک کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے جاری کئے گئے اس بیان سے طالبان نے خود کو آزمائش میں ڈالا ہے۔

    جموں وکشمیر کے سینئر صحافی اور نامور سیاسی تجزیہ نگار محمد سید ملک کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے جاری کئے گئے اس بیان سے طالبان نے خود کو آزمائش میں ڈالا ہے۔

    • Share this:
    کابل پر قبضہ کئے جانے کے بعد اپنے پہلے بیان میں طالبان نے کہاکہ وہ افغانستان میں امن قائم کرنے کےلئے کام کرے گا۔ منگل کے روز طالبان کے ترجمان اعلیٰ ذبیح اللہ مجاہد نے نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی میں طالبان کے خلاف نبردآزما لوگوں کو عام معافی دیں گے انہوں نے کہاکہ سرکاری دفاتر میں کام کررہے ملازمین بشمول خواتین بھی اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ خواتین کو شریعہ قانون کے تحت ہی کام کرنے کے اجازت دی جائے گی۔طالبان کے اس بیان کو لیکر دنیابھر میں بحث ہورہی ہے ۔بحث کا موضوع ہے کہ کیا طالبان واقعی بدلا ہے؟ جموں وکشمیر کے سیاسی اور دفاعی ماہرین اس بارے میں متفقہ رائے رکھتے ہیں کہ طالبان کے اس بیان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کاکہنا ہے کہ اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے یہ دیکھنا لازمی ہوگاکہ طالبان کے قول و فعل میں کوئی تضاد تو نہیں؟

    جموں وکشمیر کے سینئر صحافی اور نامور سیاسی تجزیہ نگار محمد سید ملک کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے جاری کئے گئے اس بیان سے طالبان نے خود کو آزمائش میں ڈالا ہے۔ نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے محمد سید ملک نے کہاکہ طالبان کانام سامنے آتے ہی لوگوں کے ذہنوں میں اس تنظیم کی طرف سے ماضی میں افغانستان کے عوام پر کئے گئے ظلم وجبر کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فلوقت طالبان کی طرف سے یہ بیان سامنے آنا اس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ شاید طالبان اب سوچنے پر مجبور ہو چکا ہے کہ اسے اپنی شبہ سدھارنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دنیا کے بدلتے منظر نامے کے مطابق آگے بڑھ سکے۔



    محمد سید ملک نے کہاکہ گزشتہ بیس برسوں کے دوران افغانستان کے لوگ وہاں کی سرکاروں سے مطمئن تھے کیونکہ بچھلی دو دہائیوں میں افغانستان جیسے غریب ملک میں کافی ترقی دیکھنے کو ملی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ طالبان کے بیان کے مطابق خواتین کو شریعہ کے دائرے کے اندر ہی کام کرنے کی اجازت دی جائے گی کیایہ افغانستان کی خواتین کو قابل قبول ہوگا۔ محمد سید ملک نے کہاکہ شریعہ قانون لاگو کرنے سے پہلے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ شریعہ قانون کی وضاحت کون کرےگا۔ کیونکہ ان کے مطابق طالبان کو مذہبی معاملات پر پوری دسترس نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ فلحال کچھ مدت تک انتظار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ طالبان کے قول و فعل میں کتنی مماثلت ہے۔ سینئر صحافی اور نامور تجزیہ نگار بشیر منظر کاکہناہے کہ اس بیان سے بظاہر ایسا گماں ہوتاہے کہ طالبان دنیا کے بدلتے منظر نامے کو سمجھ چکے ہیں تاہم اس کے اس بیان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔

    نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بشیر منظر نے کہاکہ اگر طالبان افغانستان میں شریعہ قانون نافذ کرنا چاہتا ہے تو اسے سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کی طرز پر اس قانون میں لچک پیدا کرنی ہوگی تاکہ وہاں کی خواتین دیگر مسلم ممالک میں آباد خواتین کی طرح کی امن و چین سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ بشیر منظر نے کہاچونکہ طالبان نے ابھی افغانستان میں اپنی حکومت قائم نہیں کی ہے لہٰذا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان کی سرکار ملک میں کس طرح کے قوانین کا نفاذ عمل میں لائے گی تاہم ان کا کہناہے کہ افغانستان میں نئی حکومت تشکیل دئیے جانے سے متعلق وہاں کے سابق صدر حامد کرزائی اور کچھ دیگر سرکاری اہل کاروں کے ساتھ مشاورت کرنے کے اندیہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ طالبان دنیا کی بدلتی صورتحال سے متاثر ہوا ہے۔

    دفاعی ماہر کپٹن انل گور کاکہناہے کہ طالبان کے اس بیان پر ابھی حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ طالبان کی طرف سے ماضی میں عام لوگوں پر کی گئی بربریت کو بلایا نہیں جاسکتا۔ نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ابھی بھی افغانستان کے مختلف حصوں سے کچھ ایسی خبریں موصول ہورہی ہیں جس سے ایسا لگتا ہے کہ طالبان کی سوچ میں کوئی بڑا بدلاؤ نہیں ہوا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے عوام کے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے وہاں کے حالات پر نگاہ رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: