اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جموں وکشمیر میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ، یوٹی میں معمول سے 6 سے 10 ڈگری سیلسیس ہوا ریکارڈ

    Youtube Video

    jammu and kashmir: جموں میں منگل کے روز دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بتیس عشاریہ دو ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیاگیا۔ جو معمول کے درجہ حرارت سے چھ عشاریہ دو ڈگری سیلسیس سے زیادہ ہے۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: جموں وکشمیر میں گزشتہ کئی روز سے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس کے باعث لوگ حیران ہیں یوٹی میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت چھ سے دس ڈگری سیلسیس سے زیادہ ریکارڈ کیا جارہاہے۔ جموں میں منگل کے روز دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بتیس عشاریہ دو ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیاگیا۔ جو معمول کے درجہ حرارت سے چھ عشاریہ دو ڈگری سیلسیس سے زیادہ ہے۔ وہیں سرینگر میں پندرہ مارچ کو دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تئیس عشاریہ آٹھ ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیاگیاجو معمول کے درجہ حرارت سے آٹھ عشاریہ پانچ ڈگری سیلسیس زیادہ ہے۔ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے لوگ کافی حیران ہیں جموں خطے میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے نے عوام میں یہ شبہات پیدا کئے ہیں کہ آنے والے موسم گرما میں رواں برس شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے اگر چہ عام لوگ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے پریشان دکھ رہے ہیں۔

    تاہم ٹھنڈی مشروبات اور آئس کریم کا کاروبار کرنے والے افراد کے لئے رواں برس کاروبار لگ بھگ دو ہفتے قبل ہی شروع ہوچکا ہے کیونکہ ان کی دکانوں پر عوام کی کافی بھیڑ دیکھی جارہی ہے۔ جموں کے ایک مقامی شہری دیپک چودھری کا کہناہے کہ اس بار درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جارہاہے۔ نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ،" اس سال مارچ کے مہینے میں ہی درجہ حرارت میں کافی اضافہ ہواہے لہذا ہم اس دکان پر ٹھنڈی مشروبات لینے کے لیے آئے ہیں۔اگر درجہ حرارت میں اسی طرح کا اضافہ ہوتا رہا تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مئی اور جون کے مہینے میں لوگوں کا کیا حال ہوگا" جموں کے پرانے شہر میں ایک آئس کریم پارلر پر ملائی کلفی کا مزہ لیتے ہوئے پونم نامی ایک مقامی خاتون نے کہاکہ انہوں نے پہلی بارمارچ کے مہینے میں آئس کریم کھانے کا فیصلہ کیا۔

    اویسی بولے: مسلمانوں کیلئے اللہ کا حکم ہے کہ وہ سختی سے نماز، حجاب، روزہ وغیرہ کی پیروی کرتے ہوئے تعلیم حاصل کریں لیکن اب لڑکیوں کو مجبور۔۔۔۔


    نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا ،"جموں خطے میں موسم گرما کی شروعات کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جو کہ ایک معمول ہے تاہم گزشتہ تین دنوں سے یہاں درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے لوگ حیران ہیں " جہاں ایک جانب عام لوگ درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے حیران ہیں وہیں ٹھنڈی مشروبات اور آئس کریم بیچنے والے کاروباری دبے الفاظ میں اس صورتحال سے خوش دکھائی دے رہے ہیں۔ جموں کے گاندھی نگر علاقے میں آئس کریم کا کاروبار کرنے والے ایک تاجر دیرج گھپتا نے کہاکہ وہ اس بات سے خوش نہیں ہیں تاہم ان کا کاروبار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔

    نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا،" درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے عام لوگ پریشان ضرور ہیں جن میں ہم بھی شامل ہیں تاہم ایک کاروباری ہونے کے ناطے میں اس بات سے خوش بھی ہوں کہ ہمارا کاروبار لگ بھگ تین ہفتے پہلے ہی شروع ہوگیا۔ ماضی میں اتنی بھیڑ اپریل کے دوسرے ہفتے کے بعد ہی دیکھی جاتی تھی" ماحولیاتی ماہرین کاکہناہے کہ درجہ حرارت میں غیر معمولی کمی اور اضافہ عالمی سطح پر کلائی میٹ چینج کا شاخسانہ ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: