உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وادی میں دہشت گردوں کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کو لیکر غیر کشمیریوں میں خوف، آبائی گھر ہجرت کرنے کو ہوئے مجبور

    ۔ ڈر اور خوف کے ماحول میں رہ رہے سیکڑوں مزدور کشمیر سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کشمیر چھوڑ کر آنے والے سیکڑوں مزدور روزانہ جموں کے ریلوے اسٹیشن اور بس اڈے پر پہنچ رہے ہیں۔

    ۔ ڈر اور خوف کے ماحول میں رہ رہے سیکڑوں مزدور کشمیر سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کشمیر چھوڑ کر آنے والے سیکڑوں مزدور روزانہ جموں کے ریلوے اسٹیشن اور بس اڈے پر پہنچ رہے ہیں۔

    ۔ ڈر اور خوف کے ماحول میں رہ رہے سیکڑوں مزدور کشمیر سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کشمیر چھوڑ کر آنے والے سیکڑوں مزدور روزانہ جموں کے ریلوے اسٹیشن اور بس اڈے پر پہنچ رہے ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: دہشت گردوں کی جانب سے کشمیر میں حالیہ دنوں غیر کشمیری مزدوروں کو نشانہ بنائے جانے سے کشمیر میں موجود ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدور خوف زدہ ہوچکے ہیں۔ ڈر اور خوف کے ماحول میں رہ رہے سیکڑوں مزدور کشمیر سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کشمیر چھوڑ کر آنے والے سیکڑوں مزدور روزانہ جموں کے ریلوے اسٹیشن اور بس اڈے پر پہنچ رہے ہیں۔ یہاں سے وہ اپنے آبائی علاقوں کی طرف کوچ کرنے کی تکدو میں ہیں۔ ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے نہتے غیر کشمیری مزدوروں کو نشانہ بنائے جانے سے وہ خوف زدہ ہوچکے ہیں لہذا مجبوری کے عالم میں نکے پاس کشمیر سے ہجرت کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے،۔جموں کے ریلوے سٹیشن کے پاس سینکڑوں مزدور اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ کھلے آسمان کے تلے اس انتظار یں ہیں کہ کب وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔
    حالات کے مارے ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ انہیں ناکردہ گُناہوں کی سزا دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر وادی میں روزی روٹی کمانے کی غرض سے گئے تھے تاہم دہشت گردوں نے انہیں نشانہ بناکر انکے پیٹ پر لات ماردی۔ محمد عظیم انصاری نامی ایک مزدور نے نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ہلاکتوں سے وہ کافی خوف زدہ ہوگئے لہذا انہوں نے کشمیر چھوڑ کر اپنے آبائی وطن لوٹ جانے کا فیصلہ لیا۔

    انہوں نے کہا کہ خوف کی وجہ سے وہ جلدی میں وادی سے نکلنے پر مجبور ہوگئے جسکے نتیجے میں وہ ماضی قریب میں کمائی گئی رقفم بھی متعلقہ افراد سے وصول نہیں کرپائے۔ لہذا انہیں مالی دشواریوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکے پاس گھر جانے کے لئے ریل ٹکٹ خریدنے کے لئے بھی رقم دستیاب نہیں ہے ۔انہوں نے سرکار سے اپیل کی کہ وہ ان سینکڑوں مزدوروں کی گھر واپسی کے لئے انتظامات کرے۔ ایک اور مزدور شریف اختر نے کہا کہ وہ وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں مزدوری کرتے تھے لیکن دہشت گردوں کی طرفسے بہار کے مزدوروں کے قتل کے بعد وہ وادی سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔

    ریاست بہار کے محمد نثار نامی ایک مزدور نے کہا کہ وہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں مزدوری کرکے اپنے افراد خانہ کا پیٹ پالتے تھے تاہم دہشت گردوں کے حملوں کے بعد انہوں نے گھر واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے مزدوروں سے کہا تھا کہ وہ چند دن محفوظ مقامات پر رہیں تاہم ایسا کرنا فضول تھا کیونکہ وہ روزی روٹی کمانے کے لئے کشمیر گئے تھے تا کہ رہنے کے لئے۔ نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر کشمیری مزدوروں کو قتل کئے جانے کے فورا بعد انہوں نے بہار میں موجود اپنے افراد خانہ سے رابطہ قائم کرکے کچھ رقم کا بندوبست کیا اور کشمیر سے نکل آئے۔ ان مزدوروں نے کہا کہ وہ گزشتہ دو دن سے جموں کے ریلوے سٹیشن پر موجود ہیں تاہم یو ٹی انتظامیہ کی طرفسے کوئی بھی عہدیدار انہیں ملنے نہیں آیا۔ ترسیم پاسوان نامی ایک مزدور نے کہا کہ انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ سرکار کی طرفسے لاچار مزدووروں کے لئے کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔
    انہوں نے کہا: ہم مزدور ہیں تو کیا ہوا، کیا اس ملک میں ہماری کوئی قدر نہیں ، ہم ہندوستانی ہیں اور کشمیر میں دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے وہاں سے بھاگ نکلنے پر مجبور ہوگئے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ سرکار کی طرفسے ہماری مجبوریوں کو سمجھنے اور ہمیں درپیش مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئے کوئی بھی ملنے نہیں آیا۔ ہمارے لئے کھانا کھانے کے لئے پیسہ نہیں ہے کیا سرکار کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ حالات کے ستائے ہم جیسے مجبور لوگوں کے لئے کچھ انتظام کرتی۔ واضح رہے رواں ماہ میں کشمیر میں دہشت گردوں کے حملوں میں کشمیر کے اقلیتی طبقے سے وابستہ تین افراد اور پانچ غیر کشمیری مزدور ہلاک کئے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق ان حملوں میں ملوث چار دہشت گردوں کو مختلف جھڑپوں میں ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: