உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: کولگام میں خاتون ٹیچر کے قتل کے بعد پی ایم پیکیج کے تحت کشمیر میں کام کرنے والے افراد کے اہل خانہ اور رشتہ دار فکرمند

    J&K News: کولگام میں خاتون ٹیچر کے قتل کے بعد پی ایم پیکیج کے تحت کشمیر میں کام کرنے والے افراد کے اہل خانہ اور رشتہ دار فکرمند

    J&K News: کولگام میں خاتون ٹیچر کے قتل کے بعد پی ایم پیکیج کے تحت کشمیر میں کام کرنے والے افراد کے اہل خانہ اور رشتہ دار فکرمند

    Jammu and Kashmir : جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں منگل کے صبح اقلیتی طبقے سے وابستہ خاتون ٹیچر رجنی بالا کا دہشت گردوں کی جانب سے قتل کئے جانے کے بعد وادی میں ایک مرتبہ پھر فکرو تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں منگل کے صبح اقلیتی طبقے سے وابستہ خاتون ٹیچر رجنی بالا کا دہشت گردوں کی جانب سے قتل کئے جانے کے بعد وادی میں ایک مرتبہ پھر فکرو تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ کشمیر میں رہائش پذیر اقلیتیں بالخصوص وزیر اعظم روزگار پیکیج کے تحت سرکاری نوکری انجام دینے والے کشمیری پنڈت مہاجرین مزید خوف زدہ ہوچکے ہیں۔ لگ بھگ دو ہفتہ قبل کشمیری پنڈت مہاجر ملازم راہل بھٹ کو بڈگام ضلع میں دہشت گردوں کی جانب سے قتل کئے جانے کے بعد مائیگرینٹ ملازمین اپنی حفاظت کو لیکر لگا تار احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاجیوں نے یوٹی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ان کی حفاظت کے معقول بندوبست کئے جائیں۔ اگر چہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں بار بار یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ ان کی حفاظت کے لیے تمام اقدامات کئے جارہے ہیں تاہم رجنی بالا کے دن دہاڑے ہوئے قتل کے بعد کشمیری پنڈت مہاجر ملازمین اپنی حفاظت کو لیکر فکر و تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

    رجنی بالا کے دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کئے جانے کے بعد وادی کے مختلف مقامات پر ان ملازمین نے احتجاج کیا۔ سرینگر کے علاوہ پنڈت کالونی بڈگام اور ویسو مائیگرینٹ کالونی میں قیام پذیر پنڈت مہاجرین نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ احتجاجیوں نے سرینگر جموں شاہراھ پر دھرنا دیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ سرکار انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ایک احتجاجی ملازم سنیل بھٹ نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رجنی بالا کے قتل سے ایک بار پھر یہ واضح ہوچکا ہے کہ اقلیتی طبقے سے وابستہ افراد ملی ٹینٹوں کے نشانے پر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر چہ انتظامیہ بار بار یہ بھروسہ دلا رہی ہے کہ وادی میں ڈیوٹی انجام دینے والے پنڈتوں کو سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔ تاہم آج کے اس واقعے نے یہ ثابت کردیا کہ سرکار تحفظ فراہم نہیں کرسکتی ۔ ایک اور احتجاجی کا کہنا تھا کہ آئے روز رونما ہونے والی ان وارداتوں سے کشمیر میں پنڈتوں کے لئے کام کرنا دشوار ہوچکا ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : کولگام کے ہائی اسکول میں دہشت گردوں نے خاتون ٹیچر کا گولی مار کر قتل کیا


    ادھر جموں اور ملک کے دیگر حصوں میں قیام پذیر پی ایم پیکیج کے ملازمین کے افراد خانہ اور رشتہ دار فکر و تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکار کشمیر وادی میں حالات بہتر ہوجانے تک ان ملازمین کو کشمیر سے باہر ڈیوٹی پر مامور کریں۔ سشیل کمار نامی کشمیری پنڈت نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا : " میں نے اپنے بیٹے کو یہی سوچ کر کشمیر میں سرکاری نوکری کرنے کے لئے وہاں جانے کی اجازت دی تھی کہ وہاں اب حالات بہتر ہورہے ہیں تاہم گزشتہ کئی ماہ سے وادی میں ٹارگٹ کلنگس کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور اب تک اقلیتی فرقے سے وابستہ کئی افراد دہشت گردوں کی گولیوں کا شکار ہوچکے ہیں لہذا میں اپنے بیٹے کی حفاظت کے بارے میں کافی فکر مند ہوں"۔

     

    یہ بھی پڑھئے : جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے بانی بھیم سنگھ کا 80 سال کی عمر میں انتقال


    ایک اور کشمیری پنڈت مہاجر اوتار کرشن کا کہنا ہے کہ وادی میں اب کشمیری پنڈت محفوظ نہیں ہیں لہذا سرکار کو اس معاملے پر زبانی جمع خرچ کرنے کے بجائے سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا ،" ہمارے بچے روزگار کے سلسلے میں کشمیر میں اپنی ڈیوٹی انجام دے کر اکثریتی فرقے کی خدمت کررہے ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ ملی ٹنٹ اقلیتی فرقے کے لوگوں کو قتل کررہے ہیں ہم سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ وادی میں حالات بہتر ہونے تک تمام کشمیری پنڈت مہاجر اور دیگر ہندو ملازمین کو جموں منتقل کریں"۔

    واضح رہے کہ کشمیر وادی میں گزشتہ کچھ عرصے سے ٹارگٹ کلنگس میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اگر چہ سرکار اس روش پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرا رہی ہے تاہم وہ عام لوگوں میں تحفظ کا احساس پیدا کرنے میں بھی تک کامیاب نہیں ہوپائی ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: