ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: اغوا کے بعد معصوم لڑکی کی اجتماعی آبرو ریزی کا معاملہ، 13 سال گزرنے کے بعد مجرمین کو نہیں مل سکی ہے پھانسی

جموں کشمیر کے لنگیٹ ہندارہ میں 13 برس قبل ایک معصوم بچی کے ساتھ سفاکی کی انتہا ہوگئی تھی۔ اسکول سے واپس آنے والی ایک معصوم طالبہ کو اغوا کرکے آبرویریزی کی گئی تھی۔ 13 برس سے لواحقین انصاف کے منتظر ہیں۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: اغوا کے بعد معصوم لڑکی کی اجتماعی آبرو ریزی کا معاملہ، 13 سال گزرنے کے بعد مجرمین کو نہیں مل سکی ہے پھانسی
اغوا کے بعد معصوم لڑکی کی اجتماعی آبرو ریزی، لواحقین کا پھانسی کی سزا کا مطالبہ۔ علامتی تصویر

جموں کشمیر کے لنگیٹ ہندارہ میں تیرہ برس قبل ایک معصوم بچی کےساتھ سفاکی کی انتہا ہوگئی تھی اور اسکول سے واپس آنے والی ایک معصوم طالبہ کو اغوا کرکے آبرویریزی کی گئی تھی۔ دراصل، 20 جولائی کو یہ واقعہ لنگیٹ ہندواڑہ کے مضافات میں پیش آیا تھا اور معصوم کی لاش ایک نزدیکی باغ میں برآمد کی گئی تھی،چنانچہ اس واقعہ کو لے کر پورے علاقے میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور ہزاروں لوگوں نے اس واقعے کےخلاف احتجاج کیا۔ پور ے ضلع میں اس واقعہ کو لے کر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہا۔ چنانچہ واقعہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کر دی تھی، جس کے دوران کئی ایک نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔


اس دوران پولیس نے اس معاملہ کی نبست باضابطہ ایف آئی آر درج کرائی تھی، جس میں چار ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور اس سلسلے میں ان چار ملزمان کو 2015 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے چاروں ملزمان کو موت کی سزا سنائی، جس کے بعد ملزمان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جہاں سنگل بینچ نے کپواڑہ کی عدالت کے اس فیصلہ کو برقراررکھا اور یہ کیس اب ہائی کورٹ کے ڈبل بینچ کے زیر سماعت ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں ملزمان کی سزا تجویز بھی کی گئی ہے، اب ڈبل بینچ میں اس سلسلے میں ہونے والی تاخیر پر لواحقین کافی حد تک پریشان ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتےکہ اس فیصلے پر کیوں تاخیر ہورہی ہے اور یہ معاملہ کیوں طول پکڑ رہا ہے۔ تاہم ان کا مطالبہ ہے کہ سزا یافتہ مجرموں کو ہرحال میں سزا دی جائے کیونکہ سزا میں تاخیر سے انہیں ذہنی کوفت ہورہی ہے اور ایسے میں اگر انہیں سزا دی جائےگی تو یقینی طور پر ان کو کسی حد تک راحت مل سکے گی۔


 لواحقین کا مطالبہ ہے کہ نربھیا طرز پر اس معاملے کی فاسٹ ٹریک بنیادوں پر شنوائی کی جائے اور ڈبل بینچ میں اس کیس کی فوری شنوائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ 13 برس سے جو لواحقین انصاف کے منتظر ہیں انہیں انصاف مل جائے۔

لواحقین کا مطالبہ ہے کہ نربھیا طرز پر اس معاملے کی فاسٹ ٹریک بنیادوں پر شنوائی کی جائے اور ڈبل بینچ میں اس کیس کی فوری شنوائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ 13 برس سے جو لواحقین انصاف کے منتظر ہیں انہیں انصاف مل جائے۔


لواحقین کا مطالبہ ہے کہ نربھیا طرز پر اس معاملے کی فاسٹ ٹریک بنیادوں پر شنوائی کی جائے اور ڈبل بینچ میں اس کیس کی فوری شنوائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ 13 برس سے جو لواحقین انصاف کے منتظر ہیں انہیں انصاف مل جائے۔ لواحقین نے نیوز 18 کو بتایا کہ ایک معصوم بچی کا اغوا کے بعد جس سفاکی کےساتھ قتل کیا گیا تھا اور ہر برسی پر وہ زخم ان کےلئے ہرا ہوجاتا ہے اور اب یہ زخم ان کےلے ناسور بن گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ زخم اسی صورت میں مند مل ہوجائے گا، جب اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو نربھیا طرز پر پھانسی کی سزا مل جائے۔ ادھر اس معامے میں تشکیل دی گئی فورم کا کہنا ہے کہ 13 سال سے وہ انصاف کے طلبگار ہیں اور 24 اپریل 2015 کوکپواڑہ عدالت نے چاروں ملزمان کو موت کی سزا سنائی، جو حق و انصاف کی جیت ہے، لیکن ابھی تک اس فیصلے پر عملدر آمد نہیں ہورہا ہے۔ فورم کا کہنا ہے کہ نربھیا طرز پر وہ اس کیس کا فیصلہ چاہتے ہیں اور 13 برسی پر فورم نے بھی مطالبہ کیا کہ کہ کپواڑہ عدالت کے تاریخی فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ لواحقین کو انصاف مل سکے اور عدالت پر لوگوں کا یقین اور بڑھ سکے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 22, 2020 11:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading