உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایل او سی پر پرامن ماحول میں دھان کی فصل کاٹتے ہوئے نظر آئے کسان

    اپنے خاندا ن کے سات دیگر افراد کے ہمراہ دھان کی فصل کاٹ رہے حاجی محمد سعید نے نیوز ایٹین اردو کو بتایا کہ رواں برس دھان کی فصل کافی اچھی ہے جس سے  کسان خوش ہیں۔

    اپنے خاندا ن کے سات دیگر افراد کے ہمراہ دھان کی فصل کاٹ رہے حاجی محمد سعید نے نیوز ایٹین اردو کو بتایا کہ رواں برس دھان کی فصل کافی اچھی ہے جس سے کسان خوش ہیں۔

    اپنے خاندا ن کے سات دیگر افراد کے ہمراہ دھان کی فصل کاٹ رہے حاجی محمد سعید نے نیوز ایٹین اردو کو بتایا کہ رواں برس دھان کی فصل کافی اچھی ہے جس سے کسان خوش ہیں۔

    • Share this:
    جموں خطے میں ان دنوں فصلوں کی کٹائی کا کام عروج پر ہے۔ خطے کے میدانی علاقوں کے ساتھ ساتھ پہاڑی اور بین الا اقوامی سرحد و کنٹرول لائین سے متصل کسانوں میں بھی کسان دھان کی فصل کاٹنے میں مصروف عمل ہیں۔ گزشتہ برسوں کے برعکس  اس سال کنٹرول لائین کے پاس رہنے والے کسان بلا کسی ڈر و خوف کے  سال بھر کی اپنی محنت کا پھل سمیٹ رہے ہیں۔ رواں برس فروری مہینے کی پچیس تاریخ سے قبل گزشتہ کئی سالوں سے ان علاقوں میں رہنے والے کسان پاکستان کی بلا اشتعیال گولہ باری کی وجہ سے فصل کی کٹائی وقت پر نہیں کرپاتے تھے کیونکہ ان علاقوں میں ہر وقت پاکستانی فوج کی   فائیرنگ کا خطرہ منڈلاتا ہتا تھا جس کے باعث کئی بار انہیں جانی اور مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔ تاہم رواں برس فروری ماہ میں ہندوستان اور پاکستان کے ڈی جی ایم او ز کی جانب سے جموں و کشمیر میں بین الا اقومی سرحد اور کنٹرول لائین پر پہلے سے طے شدہ فائیر بندی معاہدے پر مواثر عمل آوری کے دوبارہ اعلان کے بعد ان علاقوں میں آباد لوگوں نے راحت کی سانس لی۔
    پونچھ ضلع کے کنٹرول لائین سے متصل علاقوں کی کھیتوں میں بھی ان دنوں کافی چہل پہل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ضلع کے کرماڈا، گُلپور ، دگوار  ، اجوٹ اور دیگر علاقوں میں کسان سال بھر کی اپنی محبت کا پھل سمیٹ رہے ہیں۔ محمد قاسم  نامی ایک کسان نے نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سال پُر امن ماحول میں دھان کی فصل کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان کی بلا اشتعیال گولہ باری کی وجہ سے وہ سہم جاتے تھے لہذا کم تعداد میں ہی لوگ بے قوقت کھیتوں کا رُخ کرتے تھے تاہم اس سال کسان کافی تعداد میں ایک ساتھ فصل کاٹنے کے کام میں مصروف ہیں۔

    اپنے خاندا ن کے سات دیگر افراد کے ہمراہ دھان کی فصل کاٹ رہے حاجی محمد سعید نے نیوز ایٹین اردو کو بتایا کہ رواں برس دھان کی فصل کافی اچھی ہے جس سے  کسان خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ خوشی اسبات کی ہے کہ اس سال فروری ماہ سے علاقے میں پاکستان کی طرف سے گولہ باری نہیں کی گئی لہذا کسان پر امن ماحول میں بغیر کسی خوف و خطر کے اپنی فصلیں کاٹ رہے ہیں۔ کُلبیر سنگھ نامی ایک اور کسان نے نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بلا اشتعال گولہ باری رُک جانے سے پونچھ ضلع بالخصوص کنٹرول لائین سے متصل علاقوں میں آباد لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔س چودھری غلام احمد نامی ایک کسان نے کہا کہ مقامی لوگ چاہتے ہیں کہ کنٹرول لائین پر گولہ باری کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے تاکہ مقامی لوگ ملک اور یو ٹی کے دیگر حصوں میں آباد لوگوں کی طرح ہی چین سے اپنی زندگی بسر کرسکیں۔

    بھارت اور پاکستان کے درمیان فائیر بندی معاہدہ دو ہزار تین میں طے پایا تھا۔ اگرچہ بھارت اس معاہدے پر عمل کرتا رہا تاہم پاکستان بار بار اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہا جس وجہ سے سرحدی علاقوں کے عوام کو گونا گوں مشکلات سے چوچار ہونا پڑا۔ تاہم فروی مہینے میں اس معاہدے پر دوبارہ عمل کرنے پر بھارت اور پاکستان متفق ہونے سے ان علاقوں میں قدرے سکول کا ماحول ہے۔معاہدے کے باوجود بھارتی فوج کنٹرول لاین پر مستعد ہے تاکہ پاکستان کی طرفسے دہشت گردوں کو اس پار داخل کرنے یا دوسری ایسی ناپاک حرکت کو بروقت ناکام بنایا جاسکے۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: