உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: کشمیر میں کمل ڈنڈی کی ریکارڈ پیداوار سے کسان خوش، سیاحوں کے کھلے چہرے 

    J&K News: کشمیر میں کمل ڈنڈی کی ریکارڈ پیداوار سے کسان خوش، سیاحوں کے کھلے چہرے 

    J&K News: کشمیر میں کمل ڈنڈی کی ریکارڈ پیداوار سے کسان خوش، سیاحوں کے کھلے چہرے 

    Jammu and Kashmir : مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ اس بار کنول بڑی تعداد میں کھلے ہیں، جو ان کے لئے ایک خوشی بن کر آئے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar | Jammu
    • Share this:
    سرینگر : ڈل جھیل میں چمکتا سورج، مچلتی لہریں اور مسکراتے کنول مل کر ایک ایسا منظر پیش کررہے ہیں کہ کوئی بھی شاعر ہوجائے۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ اس بار کنول بڑی تعداد میں کھلے ہیں، جو ان کے لئے ایک خوشی بن کر آئے ہیں ۔ مقامی کسان یعقوب ڈونو کہتے ہیں کہ پچھلے کئی سال بعد انھوں نے کنول کی اتنی بڑی تعداد دیکھی ہے اور اس مرتبہ کمل ڈنڈی کی ریکارڈ پیداوار ہوگی ۔ یعقوب ڈونو کا کہنا ہے کسان خوش ہیں کیونکہ کمل ڈنڈی یا کمل ککڑی کے کاروبار سے سینکڑوں خاندان وابستہ ہیں۔ ویسے تو کمل ڈنڈی کئی علاقوں میں پائی جاتی ہے، لیکن کشمیر اور خاص طور پر ڈل جھیل کی پیداوار کا الگ ہی لطف ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: غلام نبی آزاد راجیہ سبھا میں PM مودی کے ایک ہی جذباتی بیان سے متاثر ہوگئے : رجنی پاٹل


    کمل ڈنڈی جسے کشمیر میں ندرو کے نام سے جانا جاتا ہے ، کشمیری عوام کی پسندیدہ غذا ہے اور اس کے کئی پکوان تیار کئے جاتے ہیں۔ ہر سال اس کا لاکھوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے، جو کشمیر کے علاوہ کشمیر سے باہر بھی بھیجا جاتا ہے۔ کمل ڈنڈی کے علاوہ کمل کے بیج بھی یہاں بکتے ہیں اور سیاح اور کئی مقامی لوگ شوق سے کھاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کنول کے بیج دوا کے طور بھی استعمال کئے جاتے ہیں لیکن کئی لوگ کہتے ہیں کہ اب نئی نسل اس کے بارے میں نہیں جانتی۔

     

    یہ بھی پڑھئے: شوپیاں میں دہشت گردوں اور فورسیز کے درمیان تصادم، 3 دہشت گرد ہلاک


    جھیل کے کنارے کئی مقامات پر کمل کے بیچ بیچے جاتے ہیں۔ ایک مقامی دُکاندار محمد شفیح نے بتایا کہ کچھ سال پہلے تک اس سیزن میں ہر طرف کنول کے بیج دُکانوں پر میسر رہتے تھے اور لوگ شوق سے کھاتے تھے، لیکن اب یہ شوق کم ہوگیا ہے۔ ڈل اور اس کے آس پاس کئی جھیلوں میں کسانوں کو پانی کے مالکانہ حقوق حاصل ہیں اور وہ باقاعدہ ندرو کی کھیتی کرتے ہیں اور اس کا کاروبار کرتے ہیں۔

    کنول کے پھول کچھ دنوں بعد مرجھا جائیں گے اور بیج پھیل جائیں گے اور ایک مہینے کے بعد کمل ڈنڈی تیار ہوگی۔ سال 2014 کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے ڈل اور دیگر جھیلوں میں کمل ڈنڈی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی، لیکن کچھ سالوں کی محنت کے بعد دوبارہ اس کی کھیتی بحال ہوگئی ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: