உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فاروق عبداللہ کا مرکزی حکومت پر الزام، حدبندی کمیشن کے کام کاج میں بار بار توسیع کرکے اسمبلی انتخابات کو ٹال رہی ہے سرکار

    فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر اپنے پارٹی ورکروں کو کھوئی ہوئی وراثت کو واپس لانے کے لئے بڑی جدوجہد کے لئے تیار رہنے کو کہا۔ جموں میں نیشنل کانفرنس او بی سی ونگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا مرکزی سرکار جموں و کشمیر میں عوامی حکومت کی تشکیل میں غیر ضروری تاخیر کر رہی ہے۔

    فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر اپنے پارٹی ورکروں کو کھوئی ہوئی وراثت کو واپس لانے کے لئے بڑی جدوجہد کے لئے تیار رہنے کو کہا۔ جموں میں نیشنل کانفرنس او بی سی ونگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا مرکزی سرکار جموں و کشمیر میں عوامی حکومت کی تشکیل میں غیر ضروری تاخیر کر رہی ہے۔

    فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر اپنے پارٹی ورکروں کو کھوئی ہوئی وراثت کو واپس لانے کے لئے بڑی جدوجہد کے لئے تیار رہنے کو کہا۔ جموں میں نیشنل کانفرنس او بی سی ونگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا مرکزی سرکار جموں و کشمیر میں عوامی حکومت کی تشکیل میں غیر ضروری تاخیر کر رہی ہے۔

    • Share this:
    نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے الزام لگایا ہے کہ مرکزی سرکار حد بندی کمیشن کے کام کاج میں بار بار توسیع کرکے اسمبلی انتخابات کو ٹال رہی ہے۔ انہوں نے مانگ کی کہ جموں و کشمیر میں جلد سے جلد انتخابات منعقد کرائے جائیں تاکہ لوگوں کا جمہوریت پر اعتماد بحال ہو۔ فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر اپنے پارٹی ورکروں کو کھوئی ہوئی وراثت کو واپس لانے کے لئے بڑی جدوجہد کے لئے تیار رہنے کو کہا۔ جموں میں نیشنل کانفرنس او بی سی ونگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا مرکزی سرکار جموں و کشمیر میں عوامی حکومت کی تشکیل میں غیر ضروری تاخیر کر رہی ہے۔ اجلاس کے دوران تین قراردیادیں پیش کرکے پاس کی گئیں۔ سیاسی قرارداد میں پھر ایک بار مرکزی سرکار سے مانگ کی گئی کہ وہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرے اور اسے ریاست کا درجہ دیا جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی سرکار پر الزام لگایا کہ وہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کو ٹالنے کے لئے طرح طرح کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل ہی پارلیمنٹ میں سرکار نے بیان دیا کہ حد بندی کمیشن کو اپنا کام مکمل کرنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

    فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس بات سے واضح ہے کہ سرکار جموں و کشمیر میں عوامی سرکار تشکیل دینے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ایک اور قرار داد میں یہ مانگ کی گئی کہ او بی سی طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی ایس سی اور ایس ٹی کے طرز پر سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں 27 فی صد ریزرویشن دی جائے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے دورہ اقتدار میں اس طبقے کی فلاح و بہبود کے لئے کئی اقدامات اٹھائے گئے لیکن موجودہ سرکار اس طبقے کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے او بی سی طبقے کے لوگوں کو سیاسی طور پر بیدار ہونے اور اپنے حقوق کے لئے لڑنے کا مشورہ دیا۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ارٹی کے سٹیٹ سیکریٹری اجے سدھوترا نے کہا کہ مرکزی سرکار کے جموں و کشمیر کی ترقی کو یقینی بنانے کے دعوے سراب ثابت ہورہے ہیں۔ پارٹی کے جموں صوبے کے صدر رتن لعل گُپتا نے کہا کہ یو ٹی کے عوام نیشنل کانفرنس پر پورا بھروسہ کر رہے ہیں اور وہ چہتے ہیں کہ جلد اس پارٹی کی سرکار بنے تاکہف انکے مسائیل حل ہوں۔ پارٹی کی او بی سی ونگ کے صوبائی صدر عبدلغنی تیلی نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر کے عوام کی آواز دبانے کی کوششیں کی جارہی ہے۔۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ سماج کا فرض ہے کہ وہ دخواتین کے حقوق کی طرف دھیان دیں کیونکہ خواتین سماج کا ایک لازمی حصہ ہیہں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مُجھ پر کئی الزامات لگائے جارہے ہیں تاہم میں کسی بھی دبائو میں آنے والا نہیں اور عوامی فلاح کے لئے اپنا کام جاری رکھوں گا۔

    ۔واضح رہے جموں و کشمیر کی دیگر علاقائی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس بھی گزشتہ کئی روز سے یو ٹی کے مختلف علاقوں میں سیاسی جلسے جلوس منعقد کر رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس گزشتہ تین دن سے جموں میں ایسی تقریبات منعقد کر رہی ہے اور آئیندہ کئی دنوں تک جموں میں پارٹی کی طرفسے جلسے منعقد کرنے کا پروگرام پہلے ہی تشکیل دیا گیا ہے۔آئیندہ سنیچر کو نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کشمیری مائیگرنٹوں کے لیڈران سےملاقات کرنے والے ہیں ۔انہوں نے پہلے ہی اپنی تقریروں میں کشمیری پنڈتوں کی بات کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ سرکار اس طبقے کے لوگوں کے مسائیل کو حل کرنے اور انکی وادی واپسی کو یقینی بنانے میں ناکام ہوچکی ہے
    Published by:Sana Naeem
    First published: