உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: فاروق عبداللہ کا آرٹیکل 370 سے متعلق بڑا بیان- اپنے حق کے لئے کسی بھی قربانی کو تیار

    فاروق عبداللہ کا آرٹیکل 370 سے متعلق بڑا بیان- اپنے حق کے لئے کسی بھی قربانی کو تیار

    فاروق عبداللہ کا آرٹیکل 370 سے متعلق بڑا بیان- اپنے حق کے لئے کسی بھی قربانی کو تیار

    Farooq Abdullah Article 370: نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ (Farooq Abdullah) نے کہا، ’11 ماہ تک کسانوں نے مخالفت کی، 700 سے زیادہ کسانوں کی موت ہوئی۔ جب کسانوں نے قربانی دی تو مرکز کو تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنا پڑا۔ ہمیں بھی اپنے حقوق واپس پانے کے لئے اس طرح کی قربانی دینی پڑسکتی ہے‘۔

    • Share this:

      سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ (Farooq Abdullah) نے اتوار کو کہا کہ جس طرح سے تین زرعی قوانین (Three Farm Laws) کو منسوخ کرانے کے لئے کسانوں نے قربانی دی ہے، ویسے ہی ہمیں بھی قربانی دینے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ وہ آرٹیکل 370 (Article 370) کے ضمن میں یہ باتیں بول رہے تھے۔ سری نگر میں ایک عوامی تقریب کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’11 ماہ تک کسانوں نے مخالفت کی، 700 سے زیادہ کسانوں کی موت ہوئی۔ جب کسانوں نے قربانی دی تو مرکز کو تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنا پڑا۔ ہمیں بھی اپنے حقوق واپس پانے کے لئے اس طرح کی قربانی دینی پڑسکتی ہے‘۔


      فاروق عبداللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جبکہ ایک دن پہلے ہی ہفتہ کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پوچھا تھا کہ دہائیوں سے آرٹیکل 370 نافذ تھا، لیکن کیا تب جموں وکشمیر میں امن تھا؟ انہوں نے کہا کہ سال 2019 میں آئین کے اس ایکٹ کی منسوخی کے بعد وادی میں امن، کاروبار، اچھی سرمایہ کاری  اور سیاحوں کی آمد ہوئی ہے۔


      امت شاہ نے فاروق عبداللہ کی تنقید کی تھی


      نئی دہلی میں منعقدہ ایک پروگرام میں امت شاہ نے جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کے اس بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جب تک آرٹیکل 370 کو بحال نہیں کیا جاتا، تب تک حکومت مرکز کے زیر انتظام خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔




      امت شاہ نے اٹھائے سوال


      امت شاہ نے کہا تھا، ’گزشتہ 75 سال سے آرٹیکل 370 تھا۔ امن کیوں نہیں تھا؟ اگر امن اور آرٹیکل 370 کے درمیان تعلقات ہیں تو کیا وہ آرٹیکل 1990 میں نہیں تھا؟ وہ 1990 میں تھا تب امن کیوں نہیں تھا؟ اگر ہم نشانہ بناکر کئے گئے قتل کے اعدادوشمار بھی شامل کرے تو یہ 10 فیصد کے قریب بھی نہیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہاں امن ہے۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو آئین کے آرٹیکل 370 کے بیشتر التزام کو منسوخ کردیا تھا اور جموں وکشمیر ریاست کو مرکز کے دو زیر انتظام علاقوں میں منقسم کردیا تھا۔


      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں.

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: