உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فاروق عبداللہ نے کہا- نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کو کی جارہی ہیں خریدنے کی کوششیں

    فاروق عبداللہ نے کہا- نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کو کی جارہی ہیں خریدنے کی کوششیں

    فاروق عبداللہ نے کہا- نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کو کی جارہی ہیں خریدنے کی کوششیں

    نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کو خریدنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کو دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں دی جا رہی ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کو خریدنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کو دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں دی جا رہی ہیں۔ فاروق عبداللہ نے یہ باتیں ہفتے کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹرز نوائے صبح کمپلیکس پر نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
      اس موقع پر پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے علاوہ دیگر لیڈران اور عہدیداران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا: 'آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج کل کس طرح کارکنوں کو خریدنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہیں عجیت عجیب تکلیفیں دی جا رہی ہیں۔ ان تکلیفوں کا مقصد ہمارے ورکروں کو دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ اگر کوئی جماعت سے بھاگ رہا ہے تو آپ نہ گھبرائیں'۔
      فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی انفرادیت، اجتماعیت اور وحدت قائم و دائم رکھنا نیشنل کانفرنس کا بنیادی منشور رہا ہے اور پارٹی اپنے ان اصولوں پر آج بھی ڈٹی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری جماعت کے خلاف چاروں طرف سے سازشوں کے جال بنے جا رہے ہیں۔
      انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس سے وابستہ لیڈران، عہدیداران اور کارکنان کو وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے زرکثیر کا لالچ دیا جا رہا ہے اور کچھ معاملات میں دھونس و دباﺅ کی پالیسی بھی اپنائی جا رہی ہے لیکن جنہوں نے حقیقی معنوں میں اس ہل والے پرچم کو تھاما ہے انہوں نے روز اول سے ہی اپنا موقف تبدیل کرنے کی تمام پیشکشوں کو ٹھکرا دیا ہے اور دھونس و دباﺅ اور دھمکیوں کو مسترد کیا ہے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: