உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فاروق عبداللہ کا بڑا بیان: پاکستان کے ساتھ بات چیت سے ہی آسکتا ہے جموں و کشمیر میں امن

    فاروق عبداللہ

    فاروق عبداللہ

    ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ابھی تک اُنہیں کُچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے اور نہ ہی کشمیر میں حالات بہتر ہورہے ہیں۔ اس موقعے پر مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیر میں سیکورٹی میں مزید اضافہ کرنے پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا ہے کہ اس وقت کشمیر میں اضافی سیکورٹی کی ضرورت ہے ۔

    • Share this:
    نیشنل کانفرنس کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ ہند پاک بات چیت کے بغیر جموں کشمیر میں آمن کی بحالی ناممکن ہے ۔ تفصیلات کے مطابق این کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج پلوامہ میں میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ جنگ سے آج تک دُنیا میں کویی بھی مسلہ حل نہیں ہوا ہے ۔ بلکہ بات چیت ہی آمن کا واحد راستہ ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ جموں کشمیر کی سبھی سیاسی جماعتوں کے لیڈراں کے ساتھ ہویی میٹنگ کے بعد آج تک مرکزی حکومت کی جانب سے جموں کشمیر میں کویی پیش رفت نہیں ہویی ہے ۔ حالانکہ ملک کے وزیر اعظم نے سبھی سیاسی جماعتوں کے لیڈراں سے وعدہ کیا تھا کہ دہلی اور جموں کشمیر کی دوریوں کو وہ کم کرنے والے ہیں ۔

    ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ابھی تک اُنہیں کُچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے اور نہ ہی کشمیر میں حالات بہتر ہورہے ہیں۔ اس موقعے پر مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیر میں سیکورٹی میں مزید اضافہ کرنے پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا ہے کہ اس وقت کشمیر میں اضافی سیکورٹی کی ضرورت ہے ۔ سرینگر کے مریج ہالوں میں سیکورٹی کی موجودگی کے سوال کے جواب میں نیشنل کانفرنس کے سدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ سرینگر کے مریج ہال شادی بیاہ جیسی تقریبات کے لیے ہیں ۔ ان میں سیکورٹی فورسس کو رکھنے سے عوام کو مشکلات ہورہیے ہیں ۔

    اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے اس سے سرینگر شہر کے مئر جُنید اعظیم متو کو بھی بے خبر رکھا گیا ہے ۔ فاروق عبداللہ نے اس معاملے پر جہاں یوٹی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا وہیں ۔ این سی صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فورسس کو ان ہالوں سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: