உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فاروق عبداللہ بولے، آرٹیکل 370 اور 35A کی بحالی اور کھوئی ہوئی شناخت کو پانے کیلئے اپنائیں گے یہ بڑا طریقہ۔۔۔

    فاروق عبداللہ

    فاروق عبداللہ

    ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہم نے کبھی بندوق نہیں اٹھائی اور نہ ہی پُرتشدد طریقے استعمال کیے اور نہ ہم اپنائیں گے اور اپنی کھوئی ہوئی عزت اور شناخت واپس حاصل کریں گے۔ انہیں ایک دن آرٹیکل 370 کو بحال کرنا پڑے گا۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج اعلان کیا کہ ان کی پارٹی کے کارکن گاندھیائی طریقہ اپنائیں گے اور آرٹیکل 370 اور 35A کی بحالی کی صورت میں کھوئی ہوئی شناخت کی بحالی کے لیے سخت جدوجہد کریں گے۔  انہوں نے یہ کہتے ہوئے مودی حکومت پر بھی تنقید کی کہ حکومت روزگار پیدا کرنے، مہنگائی پر قابو پانے اور کسان برادری کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔  انہوں نے بی جے پی پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ علاقے، مذہب اور مسلک کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔  فاروق عبداللہ جموں میں نیشنل کانفرنس کے سینٹرل زون کے کارکنوں کے ایک روزہ convention  سے خطاب کر رہے تھے۔

    جموں، سانبہ اور کٹھوعہ جیسے اضلاع سے تعلق رکھنے والے جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینٹرل زون کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے آج جموں کے شیرِ کشمیر بھون میں منعقدہ پارٹی کے ایک روزہ کنونشن میں شرکت کی۔  پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ مہمان خصوصی تھے جبکہ پارٹی کے کئی دیگر رہنما جیسے مبارک گل، ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال، رتن لال گپتا، اجے سدھوترا اور دیگر بھی موجود تھے۔  اس کنونشن میں پارٹی نے سات قراردادیں منظور کیں جن میں آرٹیکل 370، 35A اور جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔  اپنی تقریر میں، فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر اپنی پارٹی کے کارکنوں اور جموں و کشمیر کے عام لوگوں کو متنبہ کیا جب تک وہ ریاست کے کھوئے ہوئے وقار اور شناخت کو واپس نہیں پاتے تب تک اُن کی جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت جموں و کشمیر پر تباہ کن پالیسی اپنا رہی ہے۔  این سی صدر نے واضح کیا کہ وہ جموں و کشمیر کی کھوئی ہوئی حیثیت کو واپس حاصل کرنے کے لیے گاندھیائی طریقے اپنائیں گے۔

    ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہم نے کبھی بندوق نہیں اٹھائی اور نہ ہی پُرتشدد طریقے استعمال کیے  اور نہ ہم  اپنائیں گے اور اپنی کھوئی ہوئی عزت اور شناخت واپس حاصل کریں گے۔ انہیں ایک دن آرٹیکل 370 کو بحال کرنا پڑے گا۔ پیش کردہ اور منظور کی گئی دیگر قراردادوں میں پارٹی نے صدیوں پرانے دربار move  کی بحالی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، سیاحت کے شعبے کے لیے مالیاتی پیکج اور تمام ضروری اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔  فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت لمبے چوڑے دعوے کر رہی ہے جس نے پچھلے کچھ سالوں میں لوگوں کی زندگی بدل دی ہے۔  لیکن انہوں نے الزام لگایا کہ زمینی طور پر کچھ بھی نہیں بدلا ہے لوگوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ حال ہی میں بینکوں میں غیر مقامی نوجوانوں کو بھرتی کیا گیا ہے جبکہ مقامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔  انہوں نے اسے انتہائی سنگین مسئلہ قرار دیا۔


    فاروق عبداللہ نے کہا میں جموں یونٹ کو منتقل کرنے اور اہم قراردادوں کو پاس کرنے کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں جموں وکشمیر مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔ حکومت نے مقامی نوجوانوں کو نظر انداز کیا ہے اور پنجاب اور ہریانہ کے نوجوانوں کو بینکوں میں بھرتی کیا ہے۔
    فاروق عبداللہ نے ورکرز سے مزید بات کرتے ہوئے کہا بے روزگاری اپنے عروج پر ہے پڑھے لکھے نوجوان بے چینی محسوس کر رہے ہیں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے  انہوں نے دربار موو پریکٹس بھی بند کر دی ہے جس کی وجہ سے کشمیر اور زیادہ تر جموں دونوں میں تاجر بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
    فاروق عبداللہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ مودی حکومت اپوزیشن کی آواز کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ بی جے پی بھگوان رام کو استعمال کرنے اور ووٹ حاصل کرنے کے لئے فرقہ وارانہ کارڈ کھیلنے میں ماہر ہے۔  انہوں نے کسانوں کے احتجاج کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے ان زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا فیصلہ صرف یوپی جیسی ریاستوں میں کچھ سیاسی بنیادوں کو بچانے کے لیے کیا جہاں آنے والے مہینوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس کسانوں کے لیے کوئی طویل المدتی فلاحی پالیسی نہیں ہے۔
    فاروق عبداللہ نے کہا بی جے پی لوگوں کو علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کا واحد مقصد الیکشن جیتنا ہے۔وہ بھگوان رام کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

    مہنگائی واقعی ابھر کر سامنے آئی ہے کیونکہ تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پورے ملک میں لوگ پریشانی کا شکار ہیں اور ملک کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے کسان بھی بنیادی سہولت کی عدم دستیابی کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔مودی حکومت سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے فارم کے تمام 3 قوانین واپس لینے پر مجبور ہوئی، مودی حکومت ہمیشہ بحث و مباحثے سے دور بھاگتی ہے ڈاکٹر فاروق عبداللہ۔
    فاروق عبداللہ نے کہا مودی سرکار کشمیر کے نوجوانوں میں بیگانگی کا احساس پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے۔اب وادی کشمیر میں بہت کم لوگ ہیں جو ہندوستان نواز نعرے لگانے کے لیے تیار ہوں گے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں کشمیر میں اب تمام تعلیمی اداروں کو کھول دینا چاہیے ساتھ ہی ان اداروں کو یہ ہدایت دینی چاہیے مہاماری سے بچنے کے لئے جو بھی اقدام اُٹھانے کی ضرورت ہے اُن کو اپناتے ہوئے تعلیمی اداروں کو کھول دینا چاہیے۔
    بیوروکریسی نظام پر حاوی ہے لیکن یہ واضح کرنا ہوگا کہ عوام حقیقی طاقت ہیں بیوروکریسی نہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ۔
    اس کنونشن سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین نے بھی پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو جائیں اور آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے تیار رہیں۔  انہوں نے بھی آرٹیکل 370 کی بحالی پر زور دیا اور ایل جی انتظامیہ پر خاص طور پر جموں و کشمیر کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کے جلتے ہوئے مسائل کو کم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کرنے کا الزام لگایا۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: