உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فاروق عبداللہ کا بڑا بیان- ٹی-20 میچ کے بعد پاکستان کی جیت کے لئے نہیں، بی جے پی پر طنز کے لئے منائے گئے جشن

    فاروق عبداللہ کا بڑا بیان- ٹی-20 میچ کے بعد پاکستان کی جیت کے لئے نہیں، بی جے پی پر طنز کے لئے منائے گئے جشن

    فاروق عبداللہ کا بڑا بیان- ٹی-20 میچ کے بعد پاکستان کی جیت کے لئے نہیں، بی جے پی پر طنز کے لئے منائے گئے جشن

    jammu Kashmir: سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ (Farooq Abdullah) نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب جموں وکشمیر میں دہشت گردی نہیں ختم ہو رہی ہے۔

    • Share this:
      سری نگر: جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ (Farooq Abdullah) نے بی جے پی (BJP) پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی-20 عالمی کپ میچ میں پاکستان (Pakistan) کی جیت کا جو جشن منایا گیا، وہ پاکستان کی حمایت کے لئے نہیں بلکہ بی جے پی کو چڑھانے کے لئے تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کی آواز دبا کر آرٹیکل 370 ہٹانے کا ہی نتیجہ ہے۔ فاروق عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ یہ جوالہ مکھی پھٹنے جیسے حالات کی طرح ہیں، جو مستقبل میں کس طور پر اور کتنے بڑے پیمانے پر پھٹے گا، یہ کہا نہیں جاسکتا۔ فاروق عبداللہ نے یہ بات پونچھ ضلع کے سورن کوٹ میں ایک عوامی جلسے کے دوران کہیں۔

      فاروق عبداللہ نے عوامی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے بی جے پی کو یہ پیغام واضح طور پر دے دیا ہے کہ انہیں آرٹیکل 370 لوٹانا ہی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب جموں وکشمیر میں دہشت گردی نہیں رک سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آرٹیکل 370 ہٹانے پر جموں وکشمیر میں ایک بھی گولی نہیں چلی۔ جب آپ ہر گھر کے باہر فوجیوں کی تعیناتی کردیں گے تو ایسا کیسے ہوسکتا تھا۔

      فاروق عبداللہ نے عوامی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے بی جے پی کو یہ پیغام واضح طور پر دے دیا ہے کہ انہیں آرٹیکل 370 لوٹانا ہی پڑے گا۔
      فاروق عبداللہ نے عوامی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے بی جے پی کو یہ پیغام واضح طور پر دے دیا ہے کہ انہیں آرٹیکل 370 لوٹانا ہی پڑے گا۔


      فاروق عبداللہ نے کہا، ’دہشت گردی کے خاتمہ کے بارے میں زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں، یہ تو بڑھتا ہی جارہا ہے اور وزیر داخلہ امت شاہ کو اس کا جواب دینا چاہئے۔ جموں وکشمیر میں دہشت گردی میں اضافہ ہونے سے مرکزی حکومت کے اس دعوے کی قلعی کھل گئی ہے، جس میں کہا جا رہا تھا کہ آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے بعد دہشت گردی ختم ہو جائے گی‘۔

      وہیں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے مطالبہ سے متعلق نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر فاروق عبداللہ پر پیر کے روز تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے بجائے حکومت کشمیر وادی کے بھائیوں اور بہنوں سے بات کرے گی۔  انہوں نے یہ بھی کہا کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کا واحد مقصد جموں وکشمیر کو ترقی کے راستے پر لانے کا تھا، تاہم لوگ 2024 تک ہماری کوششوں کا پھل دیکھیں گے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: