உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیری پنڈتوں کے سوال پر بھڑکے فاروق عبداللہ، کہا- سچ جاننا ہے تو جانچ کمیشن بنائیں، سب سامنے آجائے گا

    کشمیری پنڈتوں کے سوال پر بھڑکے فاروق عبداللہ، کہا- سچ جاننا ہے تو جانچ کمیشن بنائیں

    کشمیری پنڈتوں کے سوال پر بھڑکے فاروق عبداللہ، کہا- سچ جاننا ہے تو جانچ کمیشن بنائیں

    Farooq Abdulla on Kashmiri Pandit Issue: نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر ایک ویڈیو جاری کیا ہے۔ اس میں فاروق عبداللہ (Farooq Abdulla) پارلیمنٹ سے باہر نکلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ تبھی میڈیا کے نمائندوں نے انہیں گھیر لیا۔ کشمیری پنڈتوں کے مسئلے پر ان سے سوال پوچھا گیا تو پہلے انہوں نے نرم لہجے میں کمیشن کی تشکیل کرنے کی بات کی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: فلمساز وویک رنجن اگنی ہوتری (Vivek Ranjan Agnihotri) کی فلم ’دی کشمیر فائلس‘ (The Kashmir Files) جب سے آئی ہے، پورے ملک میں کشمیری پنڈتوں کے مسئلے (Kashmiri Pandit’s Issue) پر بحث جاری ہے۔ جس وقت کشمیری پنڈتوں کو کشمیر وادی سے بھگایاگیا، جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) میں نیشنل کانفرنس (National Conference)  کے سربراہ فاروق عبداللہ (Farooq Abdulla) وزیر اعلیٰ تھے۔ لہٰذا، میڈیا کے نمائندوں نے منگل، 22 مارچ کو فاروق عبداللہ (Farooq Abdulla) سے اس مسئلے پر سوال وجواب کرلیا۔ سوالوں کو سنتے ہی فاروق عبداللہ بھڑک گئے اور انہوں نے بغیر نام لئے بی جے پی (BJP) کو چیلنج دیتے ہوئے کہا، ’انہیں سچ جاننا ہے تو ایک کمیشن بنائیں۔ پورا سچ باہر آجائے گا۔

      نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر ایک ویڈیو جاری کیا ہے۔ اس میں فاروق عبداللہ (Farooq Abdulla) پارلیمنٹ سے باہر نکلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ تبھی میڈیا کے نمائندوں نے انہیں گھیر لیا۔ کشمیری پنڈتوں کے مسئلے پر ان سے سوال پوچھا گیا تو پہلے انہوں نے نرم لہجے میں کمیشن کی تشکیل کرنے کی بات کی۔



      انہوں نے کہا، ’مجھے لگتا ہے کہ (BJP-led Central Govt) انہیں کمیشن تشکیل کرنی چاہئے۔ وہ انہیں بتائے گا کہ سچ کیا ہے‘۔ پھر دستاویز کے حوالے سے اس دوران ان کے کردار کے بارے میں سوال کیا گیا۔ تو وہ بولے، ’میں کہہ چکا ہوں کہ کمیشن بنائیں، سچ سامنے آجائے گا‘۔ تبھی کسی نے ان سے کہا کہ کہیں نہ کہیں آپ کی ذمہ داری بھی تو بنتی ہے۔ آپ اس وقت وزیر اعلیٰ تھے۔ اس پر فاروق عبداللہ (Farooq Abdulla) ناراض ہوگئے اور غصے میں بولے، ’میں کہہ چکا ہوں‘۔ آپ سچ جاننا چاہتے ہیں۔ آپ کو کمیشن بنانا چاہئے‘۔ اسی دوران انہوں نے پھر سوال کرنے پر ایک خاتون صحافی کو بھی سخت لہجے میں ڈانٹا، ’میں آپ کو بتاچکا ہوں، میڈم۔ اب سوال مت کیجئے‘۔ اس کے بعد وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔

      وہ کہتے رہتے ہیں، الزام لگاتے رہتے ہیں

      حالانکہ فاروق عبداللہ کے غصے کے باوجود ان سے میڈیا کے نمائندوں نے پھر سوال کیا۔ پوچھا گیا،’بی جے پی آپ پر الزام لگا رہی ہے‘۔ تو وہ بولے، ’الزام لگتے رہتے ہیں‘۔ پھر اگلا سوال، ’کہا جا رہا ہے کہ آپ کے وزیر اعلیٰ رہتے ہی کشمیری پنڈتوں کو وادی سے باہر نکالنے کا سلسلہ شروع گیا تھا‘؟ تب اس پر بھی ان کا کہنا یہی تھا، ’وہ کہتے رہتے ہیں‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: