உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    75th Independence Day: کشمیر میں برہان والد کے والد نے لہرایا ترنگا، کبھی دہشت گردوں کا پوسٹر بوائے تھا بیٹا

    75th Independence Day: کشمیر میں برہان والد کے والد نے لہرایا ترنگا، کبھی دہشت گردوں کا پوسٹر بوائے تھا بیٹا

    75th Independence Day: کشمیر میں برہان والد کے والد نے لہرایا ترنگا، کبھی دہشت گردوں کا پوسٹر بوائے تھا بیٹا

    جموں وکشمیر میں برہان وانی حزب المجاہدین کا کمانڈر اور سیکورٹی اہلکاروں نے اسے سال 2016 میں مار گرایا تھا۔ برہان وانی ترال علاقے کا رہنے والا تھا اور وادی میں دہشت گردی کے حامیوں کے لئے پوسٹر بوائے تھا۔

    • Share this:
      سری نگر: 75 ویں یوم آزادی (75th Independence Day) تقریب کے موقع پر مرکز کے زیر انتظام صوبہ جموں وکشمیر (Jammu and Kashmir) کے ترال میں برہان وانی کے والد نے ترنگا لہرایا ہے۔ دراصل برہان وانی (Burhan Wani) کے والد مظفر احمد وانی ہائر سرکاری سیکنڈری اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں اور یوم آزادی کے موقع پر انہوں نے اسکول میں ترنگا لہرایا ہے۔ واضح رہے کہ برہان وانی حزب المجاہدین کا کمانڈر تھا اور سیکورٹی اہلکاروں نے اسے 2016 میں مار گرایا تھا۔ برہان وانی ترال کا رہنے والا تھا اور وادی میں دہشت گردی کے حامیوں کے لئے پوسٹر بوائے تھا۔

      سال 2010 میں صرف 15 سال کی عمر میں برہان وانی حزب المجاہدین سے منسلک ہوگیا تھا۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ فوج نے اس کے بھائی کے ساتھ غلط برتاو کیا تھا، اس لئے وہ دہشت گرد بنا۔ برہان وانی سرخیوں میں تب آیا، جب اس نے فوج کی وردی میں ہتھیار لئے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ افسران کا کہنا تھا کہ برہان وانی جنوبی کشمیر میں 11 سے 15 دہشت گردوں کے گروپ کی قیادت کر رہا تھا۔

      سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں مارے جانے سے پہلے برہان وانی کے ویڈیو، ہتھیاروں سے لیس فوٹو اور سیکورٹی اہلکاروں کا مذاق بنانے وامے میٹر سوشل میڈیا اور واٹس اپ گروپ پر خوب شیئر کئے جاتے تھے تاکہ نوجوان کشمیریوں کو دہشت گردی کی طرف متوجہ کیا جاسکے۔ برہان وادی کی موت کے بعد اس کے والد سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف کارکردگی کی قیادت کر رہے تھے۔ اس میں ان کی پوری فیملی بھی شامل تھی، لیکن اب پانچ سال بعد برہان وانی کے والد نے وادی میں ترنگا لہرایا ہے۔



      تین سال میں پہلی بار یوم آزادی پر پابندی نہیں

      وہیں جموں وکشمیر میں تین سالوں میں پہلی بار یوم آزادی کے موقع پر انٹرنیٹ اور موبائل سروس بلاتعطل جاری رہیں، جہاں تناو سے پاک ماحول میں جش آزادی منایا جا رہا ہے۔ افسران نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔ ’پولیس انسپکٹر جنرل (کشمیر) وجے کمار نے ایک ٹوئٹ کر کے کہا، ’نہ تو انٹرنیٹ بند ہے اور نہ ہی یوم آزادی کے موقع پر پابندیاں ہیں‘۔

      یہ تین سالوں میں پہلی بار ہے جب یوم آزادی پر کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل خدمات متاثر نہیں ہیں۔ پہلے سیکورٹی انتظامات کے تحت یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقع پر یہ خدمات بند کردی جاتی تھیں۔ اس سے پہلے سال 2018 میں گورنر این این ووہرا کی مدت کار کے دوران یہ خدمات بند نہیں کی گئی تھیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: