ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر: والدکی تنخواہ2سال سے زائد عرصے سے روک دی گئی،نوجوان لڑکے نے کرلی خودکشی

جموں و کمشیر کے پوسٹ گریجویٹ طالب علم شعیب بشیر (Shoiab Bashir) نے زہر پینے سے چند منٹ قبل ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔ جس میں اس نے کہا کہ ’’پچھلے ڈھائی سال سے میرے والد کی تنخواہ روک دی گئی، اس کے بعد سے ہی میں اپنے خاندان کی تکلیفیں برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوں‘‘۔

  • Share this:
جموں و کشمیر: والدکی تنخواہ2سال سے زائد عرصے سے روک دی گئی،نوجوان لڑکے نے کرلی خودکشی
جموں و کمشیر کے پوسٹ گریجویٹ طالب علم شعیب بشیر (Shoiab Bashir) نے زہر پینے سے چند منٹ قبل ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔ جس میں اس نے کہا کہ ’’پچھلے ڈھائی سال سے میرے والد کی تنخواہ روک دی گئی، اس کے بعد سے ہی میں اپنے خاندان کی تکلیفیں برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوں‘‘۔

ایک 24 سالہ نوجوان نے اس وقت اپنے نامساعد خاندانی حالات کی وجہ سے خود کشی کرلی، جب اس کے والد کو حکومت نے ’’علیحدگی پسندی‘‘ کے الزام میں دو سال سے زائد عرصے سے ماہانہ تنخواہ سے محروم کردیا۔ جس کے بعد علاقہ میں سننی پھیل گئی اور لوگوں نے حکومت کے خلاف سخت غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ جب کہ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ خودکشی کرنے والے نوجوان کے والد کو پولیس نے کلین چٹ دے دی تھی۔ اس کے باوجود بھی تنخواہ نہیں دی گئی۔


جموں و کمشیر کے پوسٹ گریجویٹ طالب علم شعیب بشیر (Shoiab Bashir) نے زہر پینے سے چند منٹ قبل ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔ جس میں اس نے کہا کہ ’’پچھلے ڈھائی سال سے میرے والد کی تنخواہ روک دی گئی، اس کے بعد سے ہی میں اپنے خاندان کی تکلیفیں برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوں‘‘۔


علامتی تصویر
علامتی تصویر


بشیر کی اندوہناک موت نے انکے والد بشیر احمد میر (Bashir Ahmad Mir ) اور ان کے ساتھیوں سمیت متعدد افراد کے ساتھ پورے کشمیر میں صدمے پھیلائے دئیے، جنہوں نے ان پر مصیبتوں کا ڈھیر لگانے کے الزام میں محمد یونس ملک (Mohammad Yunus Malik) سابق ڈائریکٹر تعلیم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ملک کو کچھ ماہ قبل ہی محکمہ سے منتقل کردیا گیا تھا لیکن اساتذہ نے اسے 160 اساتذہ (odd teachers) کی پریشانی کا ذمہ دار قرار دیا۔

کولگام کے ضلعی مجسٹریٹ بلال محی الدین نے نیوز 18 کو بتایا کہ وہ اس معاملے کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہیں اور اس نوجوان نے خود کشی کیوں کی۔ میں ابھی تک کنبہ کی مدد نہیں کر سکوں گا لیکن میں نے اس معاملے کے بارے میں تفصیلات مانگی ہیں۔ اس کے بعد میں تبصرے کرنے کے اہل ہوں گے‘‘۔

تعلیم کے موجودہ ڈائریکٹر تصدق میر نے بتایا کہ انہوں نے عدالت اور اعلی عہدیداروں کی ہدایت کے مطابق حکومت کو حقیقت پسندانہ رپورٹ پیش کی ہے۔ انہوں نے نیوز 18 کو بتایا کہ ’’بنیادی طور پر اجرت دی جانی چاہئے تھی جیسا کہ معزز عدالت نے ہدایت کی تھی۔ تنخواہوں کی ادائیگی میں کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہئے تھی‘‘۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jun 01, 2021 11:41 AM IST