உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پہلگام میں اپنی نوعیت کی پہلی ایکوائن بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

    پہلگام میں اپنی نوعیت کی پہلی ایکوائن بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

    پہلگام میں اپنی نوعیت کی پہلی ایکوائن بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

    Jammu and Kashmir : پہلگام میں ایکوائن - 2022 کی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی ہے ۔ کانفرنس میں مختلف سارک ممالک کے 300 مندوبین ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران آنکھوں کی صحت کے علاوہ کم عمری میں آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہونے کو تشویشناک قرار دیا گیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar | Pahalgam | Jammu
    • Share this:
    جموں و کشمیر: پہلگام میں ایکوائن - 2022 کی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی ہے ۔ کانفرنس میں مختلف سارک ممالک کے 300 مندوبین ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران آنکھوں کی صحت کے علاوہ کم عمری میں آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہونے کو تشویشناک قرار دیا گیا۔ جبکہ ماہرین بچوں کے اسکرین ٹائم کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی ذور دیا۔  یہ بین اقوامی کانفرنس انٹرنیشنل اسمبلی آف کمیونٹی آپتھمالجیسٹس اور جی ایم سی اننت ناگ کے اشتراک سے پہلگام میں منعقد ہوئی ۔ کانفرنس کا مقصد مختلف ممالک کے ڈاکٹروں کے مابین آنکھوں کی صحت کو لیکر جدید تحقیق کو منظر عام پر لانا اور نئے سائنسی طریقہ کار کو عملانا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ کے پرنسپل، ڈاکٹر سید طارق قریشی جو ایسوسی ایشن آف کمیونٹی آپتھمالجیسٹس کے صدر بھی ہیں، نے اپنی نوعیت کی اس بین الاقوامی کانفرنس کو کافی اہم قرار دیا اور کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد ملک کے مختلف ماہر ڈاکٹروں کے بیچ نئے طرز علاج اور جدید سائنسی تحقیق پر تبادلہ خیال کرنا ہے ۔ تاکہ اس تحقیق اور جدیدیت کو معمول کے طرز علاج میں متعارف کیا جا سکے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: غلام نبی آزاد نےکہا- آرٹیکل 370 نہ میں واپس دلا سکتا ہوں، نہ کانگریس، نہ پواراور نہ ممتا


    اس کانفرنس میں ہندوستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان سارک ممالک کے 300 سے زائد ڈلیگیٹس نے شرکت کی۔ اس دوران جہاں کم عمری میں آنکھوں کے بڑتے امراض پر تشویش کا اظہار کیا گیا، وہیں ماہرین نے بچوں میں موبائل ایڈیکشن اور اسکرین ٹائمنگ کو کم کرنے پر بھی ذور دیا۔ ملک کی معروف اپتھمالجیسٹ ڈاکٹر سبھدرا جلالی نے کہا کہ کمیونٹی 30 دن روشنی کے پروگرام پر زیادہ دھیان دیتی ہے۔ یہ 30 دن بچے کے جنم لینے کے بعد اہم ہوتے ہیں اور اس دوران والدین کو چاہئے کہ نو زائدہ بچوں کی آنکھوں کی جانچ کسی ماہر ڈاکٹر سے کرائے اور اس طرح سے بچوں میں اندھے پن جیسے مسائل سے کافی حد تک نمٹا کا سکتا ہے۔

    ڈاکٹر سبھدرا نے کہا کہ بچوں میں اسکرین ٹایمنگ کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے اور بچوں کو آوٹنگ کرانا بھی بے حد لازمی ہے، تاکہ باہر کے رنگوں سے بچوں کی آنکھوں کو قدرتی توانائی حاصل ہو سکے۔ آنکھوں کی صحت کے حوالے سے اہم ترین اس کانفرنس سے جہاں سائنس اور طب کی دنیا میں مزید بہتری آنے کی توقع ہے ۔ وہیں سیاحتی اعتبار سے بھی کشمیر میں اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد مائس ٹورازم کیلئے سود مند تصور کی جا رہی ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر کی متعدد جماعتیں غیر مقامی ووٹرز کو لسٹ میں شامل کرنے کی مخالف، آخرکیاہےوجہ؟


    جے کے ٹی ڈی سی افسر عادل خورشید نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنس بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے لئے سود مند ثابت ہو سکتی ہیں اور اس طرح کے پروگراموں میں شامل مندوبین بحثیت سفیر پوری دنیا میں کشمیر کے مثبت پہلو کو منظر عام پر لانے کیلئے کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔

    اس دو روزہ کانفرنس کے دوران آنکھوں کی بہتر نگہداشت کے حوالے سے مندوبین نے جہاں اپنی آراء پیش کیں تو وہیں دیہی سطح پر اسپتالوں میں شعبہ آپتھمالجی کو متعارف کرانے کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: