உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: کشمیری پنڈتوں کے خلاف دھمکی آمیز خط کے بعد ڈی سی کو سونپا گیا میمورنڈم

    جموں وکشمیر: دھمکی آمیز خط کے بعد بارہمولہ کےکشمیری تارکین وطن نے ڈی سی کو میمورنڈم سونپا

    جموں وکشمیر: دھمکی آمیز خط کے بعد بارہمولہ کےکشمیری تارکین وطن نے ڈی سی کو میمورنڈم سونپا

    کشمیر میں چند روز قبل منظر عام پر آئے دہشت گردوں کی جانب سے کشمیری پنڈتوں کے خلاف دھمکی آمیز پوسٹر جاری کئے جانے کے واقع کے بیچ بارہمولہ کے ویر ون مائیگرنٹ کیمپ میں مقیم وزیراعظم روزگار پیکیج کے تحت سرکاری ملازمت کرنے والے ملازمین کے ایک گروپ نے آج بارہمولہ کے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ایک یاد داشت پیش کی۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: کشمیر میں چند روز قبل منظر عام پر آئے دہشت گردوں کی جانب سے کشمیری پنڈتوں کے خلاف دھمکی آمیز پوسٹر جاری کئے جانے کے واقع کے بیچ بارہمولہ کے ویر ون مائیگرنٹ کیمپ میں مقیم وزیراعظم روزگار پیکیج کے تحت سرکاری ملازمت کرنے والے ملازمین  کے ایک گروپ نے آج بارہمولہ کے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ایک یاد داشت پیش کی۔درجنوں کی تعداد میں ان ملازمین نے ڈی سی آفس بارہمولہ کے سامنے دھرنا دے کر ضلع ترقیاتی کمشنرکو اپنے مطالبات سے متعلق میمورنڈم پیش کیا۔ اس میمورنڈم میں منظر عام پر آئے دھمکی آمیز پوسٹر کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایک ملازم راکیش پنڈتا نےکہا کہ اس پوسٹر کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم پیکیج کے تحت کام کرنے والے ملازمین فکر و تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

    راکیش پنڈتا نے کہا: ایک دھمکی آمیز خط ہمارے کیمپ میں بارہ اپریل کو ڈک کے ذریع موصول ہوا تھا فجسے ایس ایس پی بارہمولہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسکی پوری تحقیقات ہو۔ اس خط کے موصول ہونے کے بعد ہم سب فکر و تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ ہم ذہنی طور پر کافی پریشان ہیں کیونکہ اس خط میں اقلیتی طبقے کو دھمکی دی گئی ہے:  انہوں نے کہا کہ ضلع کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے کشمیری مائیگرنٹ ملازمین خوف محسوس کر رہے ہیں، لہٰذا ضلع انتظامیہ سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ ایسے تمام ملازمین کو ضلع صدر مقام پر محفوظ رہائشی سہولیات مہیا کرائے۔ اسی کیمپ میں مقیم ایک اور مائیگرنٹ ملازم اوتار بٹ جو اس دھرنا میں شامل نہیں تھے  نے کہا کہ اس دھمکی آمیز خط کے بعد ملازمین فکر مند ہوچکے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جیسے ہی یہ خط اس کیمپ میں موصول ہوا یہاں رہائیش پزیر تام ملازمین اور انکے رشتہ دار خوفزدہ ہوگئے تاہم پولیس کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد کہ اس خط کی تمام زاویوں سے تفصیلی تحقیقات کی جائیگی ڈر میں تھوڑی کمی واقع ہوئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس اپنی تحقیقات کو جلد از جلد پورا کرے تاکہ اس گھناونے جُرم میں ملوث افراد کو سزا دی جائے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں وکشمیر: مرکزی حکومت کا بڑا قدم- جیش محمد کے کمانڈر کو دہشت گرد قرار دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ویرون مائیگرنٹ کیمپ کے بعد جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں حال میں قائیم مائیگرنٹ کیمپ میں بھی وہی خط موصول ہوا تھا۔ف جس سے ملازمین کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ اگر چہ کشمیر وادی کے دیگر مقامات  مٹن اننت ناگ، ویسو کولگام، شیخ پورہ ؓڈگام جہاں  مائیگرنٹ ملازمین کے لئے اسی طرح کے کیمپ قائیم کئے گئے ہیں ، ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا۔ تاہم ان کیمپوں میں رہائیش پزیر ملازمین اور وادی کے مختلف علاقوں میں کرائے کے مکانوںمیں قیام پزیر ملازمین بھی عدم تحفظ کے شکار ہوئے ہیں۔

    وادی میں قیام پزیر تمام کشمیری پنڈت   سرکار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ وادی میں قیام پزیر کشمیری فپنڈتوں کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں رہ رہے کشمیری پنڈت مہاجر مجموعی طور پر اس خطرناک صورتحال سے پریشان ہیں ۔ وہ مرکزی سرکار اور یو ٹی انتظامیہ سے مانگ کر رہے ہیں کہ وہ اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں اور اس سلسلے میں درکار ضروری اقدامات کریں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: