உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دھمکی آمیز خط کے بعد بارہمولہ کے Kashmiri migrants نے ڈی سی کو پیش کیا میمورنڈم، محفوظ رہائش گاہ کا کیا مطالبہ

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایک ملازم  راکیش پنڈتا نے کہا کہ اس پوسٹر کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعظم پیکیج کے تحت کامف کرنے والے ملازمین فکر و تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایک ملازم راکیش پنڈتا نے کہا کہ اس پوسٹر کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعظم پیکیج کے تحت کامف کرنے والے ملازمین فکر و تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایک ملازم راکیش پنڈتا نے کہا کہ اس پوسٹر کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعظم پیکیج کے تحت کامف کرنے والے ملازمین فکر و تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

    • Share this:
    Jammu and Kashmir:  کشمیر میں چند روز قبل منظر عام پر آئے ملی ٹنٹوں کی جانب سے کشمیری پنڈتوں (Kashmiri migrants)  کے خلاف دھمکی آمیز پوسٹر (threatening letter)  جاری کئے جانے کے واقع کے بیچ بارہمولہ Baramulla  کے ویر ون مائیگرنٹ کیمپ میں مقیم وزیر اعظم روزگار پیکیج کے تحت سرکاری ملازمت کرنے والے ملازمین  کے ایک گروپ نے آج بارہمولہ کے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ایک یاد داشت memorandum  پیش کیا۔ درجنوں کی تعداد میں ان ملازمین نے ڈی سی DC  آفس بارہمولہ کے سامنے دھرنا دیکر ضلع ترقیاتی کمشنر کو اپنے مطالبات سے متعلق میمورنڈم پیش کیا۔ اس میمورنڈم میں منظر عام پر آئے دھمکی آمیز پوسٹر کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایک ملازم  راکیش پنڈتا نے کہا کہ اس پوسٹر کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعظم پیکیج کے تحت کامف کرنے والے ملازمین فکر و تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں۔  راکیش پنڈتا نے کہا،  ایک دھمکی آمیز خط ہمارے کیمپ میں بارہ اپریل کو ڈک کے ذریع موصول ہوا تھا فجسے ایس ایس پی بارہمولہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسکی پوری تحقیقات ہو۔ اس خط کے موصول ہونے کے بعد ہم سب فکر و تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ ہم ذہنی طور پر کافی پریشان ہیں کیونکہ اس خط میں اقلیتی طبقے کو دھمکی دی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ضلع کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے کشمیری مائیگرنٹ ملازمین خوف محسوس کر رہے ہیں لہذا ضلع انتظامیہ سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ ایسے تمام ملازمین کو ضلع صدر مقام پر محفوظ رہائیشی سہولیات مہیا کرائے۔ اسی کیمپ میں مقیم ایک اور مائیگرنٹ ملازم اوتار بٹ جو اس دھرنا میں شامل نہیں تھے  نے کہا کہ اس دھمکی آمیز خط کے بعد ملازمین فکر مند ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا  جیسے ہی یہ خط اس کیمپ میں موصول ہوا یہاں رہائیش پزیر تام ملازمین اور انکے رشتہ دار خوفزدہ ہوگئے تاہم پولیس کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد کہ اس خط کی تمام زاویوں سے تفصیلی تحقیقات کی جائیگی ڈر میں تھوڑی کمی واقع ہوئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس اپنی تحقیقات کو جلد از جلد پورا کرے تاکہ اس گھناونے جُرم میں ملوث افراد کو سزا دی جائے ۔

    یہ بھی پڑھیں: جموں۔کشمیر: Kokernag Encounterہوا ختم، ملیٹینٹ فورسز کو چکمادیکر فرار ہونے میں ہو ئےکامیاب


    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ویرون مائیگرنٹ کیمپ کے بعد  جموبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں حال میں قائیم مائیگرنٹ کیمپ میں بھی وہی خط موصول ہوا تھا۔ف جس سے ملازمین کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ اگر چہ کشمیر وادی کے دیگر مقامات  مٹن اننت ناگ ، ویسو کولگام، شیخ پورہ ؓڈگام جہاں  مائیگرنٹ ملازمین کے لئے اسی طرح کے کیمپ قائیم کئے گئے ہیں ، ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا۔ تاہم ان کیمپوں میں رہائیش پزیر ملازمین اور وادی کے مختلف علاقوں میں کرائے کے مکانوںمیں قیام پزیر ملازمین بھی عدم تحفظ کے شکار ہوئے ہیں۔ وادی میں قیامف پزیر تمام کشمیری پنڈت سرکار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ وادی میں قیام پزیر کشمیری فپنڈتوں کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں رہ رہے کشمیری پنڈت مہاجر مجموعی طور پر اس خطرناک صورتحال سے پریشان ہیں ۔ وہ مرکزی سرکار اور یو ٹی انتظامیہ سے مانگ کر رہے ہیں کہ وہ اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں اور اس سلسلے میں درکار ضروری اقدامات کریں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: