ہوم » نیوز » اسپورٹس

فٹ بال کریز کا کشمیری لڑکیوں کے لیے اہم اقدام، لونسٹار کشمیر ایف سی (Lonestar Kashmir FC) نے کیا آل گرلز کلب کا آغاز

ابھی چند برس قبل کشمیری لڑکیوں کے لئے فٹ بال سیکھنے اور کھیلنے کے لئے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا لیکن وادی کشمیر میں کچھ مثبت تبدیلی کے ساتھ نوجوان فٹ بالرز کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے نئے فٹ بال کلب کھولے جارہے ہیں۔

  • Share this:
فٹ بال کریز کا کشمیری لڑکیوں کے لیے اہم اقدام، لونسٹار کشمیر ایف سی (Lonestar Kashmir FC) نے کیا آل گرلز کلب کا آغاز
فٹ بال کریز کا کشمیری لڑکیوں کے لیے اہم اقدام

کئی دہائیوں پرانی روایت کو توڑتے ہوئے کشمیری لڑکیاں اب فٹ بال کو کیریئر کے طور پر منتخب کرنے کے امکانات کی تلاش کر رہی ہیں۔ ابھی چند برس قبل کشمیری لڑکیوں کے لئے فٹ بال سیکھنے اور کھیلنے کے لئے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا لیکن وادی کشمیر میں کچھ مثبت تبدیلی کے ساتھ نوجوان فٹ بالرز کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے نئے فٹ بال کلب کھولے جارہے ہیں۔ کشمیر پہلی خاتون فٹ بال کوچ نادیہ نگہت (Nadia Nighat) کا کہنا ہے کہ ’’ابھی کچھ سال قبل کشمیر میں ایک لڑکی فٹ بال کھیلنا ایک ممنوع حرکت سمجھتی تھی لیکن اب چونکہ لڑکی کے بارے میں لوگوں کی ذہنیت بدل رہی ہے اور لڑکیوں کو ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔ اسی لیے بہت سی لڑکیوں نے فٹ بال میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں‘‘۔


حال ہی میں ایک مقامی فٹ بال کلب لونسٹار کشمیر ایف سی (Lonestar Kashmir FC) نے سری نگر میں آل گرلز فٹ بال کلب کا آغاز کیا۔ نادیہ نے کہا کہ ’’پہلے ان لڑکیوں کے لئے پلیٹ فارم نہیں تھے لیکن اب فٹ بال اکیڈمیوں کا مقصد صرف لڑکیوں کے لئے کلب شروع کیے جارہے ہیں، جو کشمیری لڑکیوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے اچھا اقدام ہے‘۔


بین الاقوامی کھلاڑیوں کی تیاری:

جموں وکشمیر فٹ بال ایسوسی ایشن (Jammu and Kashmir football association) کے صدر ضمیر ٹھاکر (Zameer Thakur) نے کہا کہ ’فٹ بال کشمیر میں ہر وقت کا پسندیدہ کھیل رہا ہے لیکن خواتین فٹ بالروں کو اتنے مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ لڑکیوں کے لئے اس طرح کے مزید کلبوں کی مدد سے ہم بین الاقوامی سطح کے کھلاڑیوں کو تیار کرسکیں گے‘۔

ایک نوجوان لڑکی نزہت (Nuzhat) جو لونیسٹار میں حال ہی میں داخلہ لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کشمیری لڑکیوں کو کسی بھی شعبے میں اپنی دہانت ثابت کرنے کے لیے آگے آنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جو ہمارے پاس چھوٹ گیا وہ ایک مناسب پلیٹ فارم تھا، جو اب ہمیں فراہم کیا گیا ہے‘‘۔

ایک اور لڑکی فٹ بالر انشا مجید (Insha Majeed) نے کہا ہے کہ ’میں اپنے کیریئر کے طور پر فٹ بال کو آگے بڑھانا چاہتی ہوں لیکن اس کے لئے مجھے مناسب تربیت اور بہتر مظاہرہ کی ضرورت ہے۔ جو صرف اس صورت میں ممکن ہے۔ جب لڑکیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ ایسے کلب موجود ہوں‘۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 16, 2021 03:27 PM IST