ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر: عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے بعد سابق آئی اے ایس افسر شاہ فیصل پر بھی پی ایس اے عائد

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آئی اے ایس ٹاپر رہ چکے شاہ فیصل پر جمعہ کے روز پی ایس اے عائد کیا گیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 15, 2020 11:21 AM IST
  • Share this:
کشمیر: عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے بعد سابق آئی اے ایس افسر شاہ فیصل پر بھی پی ایس اے عائد
سابق آئی اے ایس افسر اور جموں وکشمیر پیپلز مومنٹ (جے کے پی ایم) کے چیئرمین شاہ فیصل

سری نگر۔ جموں وکشمیر میں یونین ٹریٹری انتظامیہ نے سابق آئی اے ایس افسر اور جموں وکشمیر پیپلز مومنٹ (جے کے پی ایم) کے چیئرمین شاہ فیصل پر بھی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) عائد کردیا ہے۔ شاہ فیصل وادی سے تعلق رکھنے والے آٹھویں سیاسی لیڈر ہیں جن پر پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آئی اے ایس ٹاپر رہ چکے شاہ فیصل پر جمعہ کے روز پی ایس اے عائد کیا گیا۔


انہوں نے کہا: 'شاہ فیصل پر بھی پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا ہے۔ انہیں پانچ اگست 2019 کو حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ فی الحال ایم ایل اے ہوسٹل میں ہی نظربند رہیں گے'۔ قبل ازیں انتظامیہ نے 6 فروری کو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ و محبوبہ مفتی، نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور پی ڈی پی لیڈر سرتاج مدنی پر پی ایس اے کا اطلاق کیا تھا۔ پھر 8 فروری کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) لیڈر اور سابق وزیر نعیم اختر پر (پی ایس اے) عائد کیا گیا۔ نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پی ایس اے کا اطلاق گزشتہ سال کے ستمبر میں کیا گیا تھا اور اس کی مدت ختم ہونے کے بعد اس میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گئی تھی۔ تاہم وہ اپنی رہائش گاہ، جس کو سب جیل میں تبدیل کیا گیا ہے، میں نظربند ہیں۔



پی ایس اے، جس کو نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ نے جنگل اسمگلروں کے لئے بنایا تھا، کو انسانی حقوق کے عالمی نگراں ادارے ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے ایک 'غیرقانونی قانون' قرار دیا ہے۔ اس قانون کے تحت عدالتی پیشی کے بغیر کسی بھی شخص کو کم از کم تین ماہ تک قید کیا جا سکتا ہے۔ جموں وکشمیر میں اس قانون کا اطلاق حریت پسندوں اور آزادی حامی احتجاجی مظاہرین پر کیا جاتا ہے۔ جن پر اس ایکٹ کا اطلاق کیا جاتا ہے اُن میں سے اکثر کو کشمیر سے باہر جیلوں میں بند کیا جاتا ہے۔

بتا دیں کہ مرکزی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو جب جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 منسوخ کی اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کیا تو درجنوں سیاسی لیڈران کو بند کیا گیا۔ تاہم گزشتہ چند ماہ کے دوران قریب دو درجن لیڈران کو رہا کیا گیا۔
First published: Feb 15, 2020 11:19 AM IST