ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

سابق آئی اے ایس شاہ فیصل کو اب ہو رہا افسوس! کہا۔ حکومت کو لے کر نہیں کہنی چاہئے تھی ایسی بات

شاہ فیصل سے سی این این۔ نیوز 18 نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹرویو کا حوالہ دے کر پوچھا کہ کیا آرٹیکل 370 ہٹانے پر حکومت ہند کی تنقید کرنا آپ کی غلطی تھی؟ کیا آپ کو اس پر افسوس ہے؟ تو شاہ فیصل نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا۔ ' جی ہاں، عالمی آڈینس کے لئے ہندستان کے داخلی امور کے بارے میں بات کرتے وقت لفظوں کے ساتھ زیادہ محتاط رہنا ہو گا'۔

  • Share this:
سابق آئی اے ایس شاہ فیصل کو اب ہو رہا افسوس! کہا۔ حکومت کو لے کر نہیں کہنی چاہئے تھی ایسی بات
سابق آئی اے ایس شاہ فیصل کی فائل فوٹو

نئی دہلی۔ کسان تحریک (Farmers Protest) کو لے کر امریکی پاپ اسٹار ریحانہ (Rehanna) کی طرف سے حمایت کو لے کر کئے گئے ٹویٹ سے اٹھے تنازعہ میں اب جموں وکشمیر  (Jammu Kashmir) کے سابق نوکرشاہ  شاہ فیصل (Shah Faesal) بھی اتر گئے ہیں۔ 2010 میں انڈین سول سروسیز کے ٹاپر رہے شاہ فیصل نے اس معاملے میں سابق کرکٹر سچن تیندولکر کے ٹویٹ پر کمنٹ کیا ہے۔ انہوں نے اس میں لکھا ہے، ' ہاں گھر کی بات گھر کے اندر ہی اچھی'۔



اس کے بعد شاہ فیصل سے سی این این۔ نیوز 18 نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹرویو کا حوالہ دے کر پوچھا کہ کیا آرٹیکل 370 ہٹانے پر حکومت ہند کی تنقید کرنا آپ کی غلطی تھی؟ کیا آپ کو اس پر افسوس ہے؟ تو شاہ فیصل نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا۔ ' جی ہاں، عالمی آڈینس کے لئے ہندستان کے داخلی امور کے بارے میں بات کرتے وقت لفظوں کے ساتھ زیادہ محتاط رہنا ہو گا'۔


بتا دیں کہ 14 اگست 2019 کو شاہ فیصل نے تب ایک بڑے تنازعہ کو جنم دیا تھا جب ایک برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا ' مجھے لگتا ہے کہ یہ ہم سبھی کے لئے بہت جلدی ہے، میں کوئی بیوقوف بننے نہیں جا رہا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ قدم ہم سبھی کے لئے اٹھائے جانے کو لے کر ایک وضاحت یہ ہے کہ وہ لوگ جو مانتے تھے کہ ہندستان کشمیریوں کی اس نسل کے ساتھ خیانت نہیں کرے گا'۔

انہوں نے کہا تھا ' آپ میرے دادا جی کی نسل کو جانتے ہیں۔ جب 1953 میں جموں وکشمیر کے وزیر اعظم کو بہت چھوٹی سطح کے پولیس کانسٹیبل کے ذریعہ ہتھکڑی لگائی گئی تھی۔ میرے دادا کی نسل الگ تھلگ پڑ گئی اور ان کے ساتھ خیانت ہو گیا۔ 1987 میں جب جموں وکشمیر میں الیکشن ہوئے اور الیکشن میں دھاندلی ہوئی، میرے والد کی نسل سے اس وقت دھوکہ ہوا اور جمہوری اداروں کو تباہ کر دیا۔ ہم نے 1988 میں کشمیر میں شورش زدگی کا دھماکہ دیکھا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Feb 04, 2021 02:56 PM IST