ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

450 کروڑ کی لاگت والے جموں-اکھنور شاہراہ پروجیکٹ کا کام جاری

چار سو پچاس کروڑ کی لاگت والے جموں اکھنور شاہراہ کو چارگلیاری والی سڑک میں تبدیل کرنے کے پروجیکٹ پر کام شدو مد سے جاری ہے۔ پروجیکٹ کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ مکمل کیا جاچکا ہے اور باقی ماندہ کام اس سال کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

  • Share this:
450 کروڑ کی لاگت والے جموں-اکھنور شاہراہ پروجیکٹ کا کام جاری
450 کروڑ کی لاگت والے جموں-اکھنور قومی شاہراہ پروجیکٹ کا کام جاری

جموں: چار سو پچاس کروڑ کی لاگت والے جموں اکھنور شاہراہ کو چارگلیاری والی سڑک میں تبدیل کرنے کے پروجیکٹ پر کام شدو مد سے جاری ہے۔ پروجیکٹ کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ مکمل کیا جاچکا ہے اور باقی ماندہ کام اس سال کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ 26 کلو میٹر لمبے اس روڈ کی کُشادگی کا پروجیکٹ گرچہ سال  2018 میں شروع ہونا تھا۔ تاہم اس میں تقریباً ایک سال کی تاخیر ہوئی۔ حکام کے مطابق،  پروجیکٹ کے لئے زمین کے حصول اور دیگر معاملات سُلجھانے میں ہوئی دھیری کام شروع ہونے میں ہوئی تاخیر کی بنیادی وجہ ہے۔ اس پروجیکٹ کو دو حصوں میں بانٹا گیا ہے، جن میں سے ایک حصہ فلائی اوور جبکہ دوسرا حصہ سڑک کی کشادگی کا ہے۔


شاہراہ پر کنال ہیڈ سے مُٹھی تک پانچ اعشاریہ دو کلو میٹر لمبے فلائی اوور کی تعمیر پر 250 کروڑ روپئے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ اس کے تحت چار گلیاروں والا فلائی اوور اور اس کے نیچے دو سروس لین اور ڈرین تعمیرکرنا مقصود ہے۔ پروجیکٹ کے دوسرے حصے کے تحت  مُٹھی سے لے کر اکھنور تک موجودہ شاہراہ کو چار گلیاروں والی سڑک میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی  کام جاری ہے۔ اس کام پر تقریباً 200 کروڑ روپئے کی رقم خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ این ایچ آئی ڈی سی ایل کے پروجیکٹ منیجرکرنل سورج پال سنگھ سانگوان نے نیوز 18 کو بتایا کہ اس پروجیکٹ کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ مکمل کیا جاچکا ہے۔


حکام کے مطابق، پروجیکٹ کے لئے زمین کے حصول اور دیگر معاملات سُلجھانے میں ہوئی دھیری کام شروع ہونے میں ہوئی تاخیر کی بنیادی وجہ ہے۔ اس پروجیکٹ کو دو حصوں میں بانٹا گیا ہے، جن میں سے ایک حصہ فلائی اوور جبکہ دوسرا حصہ سڑک کی کشادگی کا ہے۔
حکام کے مطابق، پروجیکٹ کے لئے زمین کے حصول اور دیگر معاملات سُلجھانے میں ہوئی دھیری کام شروع ہونے میں ہوئی تاخیر کی بنیادی وجہ ہے۔ اس پروجیکٹ کو دو حصوں میں بانٹا گیا ہے، جن میں سے ایک حصہ فلائی اوور جبکہ دوسرا حصہ سڑک کی کشادگی کا ہے۔


انہوں نے کہا کہ زمین کی حصولیابی متاثرہ خاندانوں کی منتقلی اور ان کی بحالی عوام کے لئے پہلے سے دستیاب رکھی گئی بجلی، پانی جیسی  ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچے کو منتقل کرنے میں بھی کافی وقت لگا۔ پروجیکٹ منیجر کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں کووڈ بھی آڑے آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وبا کی وجہ سے پروجیکٹ پرگزشتہ برس مارچ کے آخر سے اگست مہینے تک کافی سسُت رفتاری سے کام ہوا کیونکہ اس عرصے کے دوران مزدور اور دیگر کاریگر جموں چھوڑ کر اپنے آبائی مقامات کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔

کرنل سانگوان نے کہا کہ کووڈ کی وجہ سے انجنئیر اور تجربہ کار مزدور اپنے آبائی علاقوں کی طرف چلے گئے تھے جس وجہ سے اس پروجیکٹ پر اس مدت کے دوران صرف چار سے پانچ فیصد کام ہی ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ اب جبکہ حالات بہتر ہوچکے ہیں تو پروجیکٹ پر کام سرعت سے جاری ہے اور توقع ہے کہ یہ کام  رواں برس کے اختتام تک مکمل کیا جائے گا۔ اس پروجیکٹ کی تکمیل سے جہاں اس شاہراہ پر لوگوں کو ٹریفک جام سے نجات ملے گی وہیں یہ شاہراہ سرحدی علاقوں تک فوج کی رسائی کو آسان بنانے میں بھی مدد گار ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ سرحدی علاقے جیسے اکھنور، راجوری اور پونچھ اسی شاہراہ سے جموں کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیںَ۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 09, 2021 12:44 AM IST