உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: غلام نبی آزاد 'پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو' پالیسی کو ہمیشہ اپناتے آئے ہیں: جی اے میر

    J&K News: غلام نبی آزاد 'پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو' پالیسی کو ہمیشہ اپناتے آئے ہیں: جی اے میر

    J&K News: غلام نبی آزاد 'پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو' پالیسی کو ہمیشہ اپناتے آئے ہیں: جی اے میر

    Jammu and Kashmir : جی اے میر نے کہا کہ غلام نبی آزاد نے کشمیری بن کر ملکی سطح پر سیاسی فائدہ حاصل کیا جب کہ سچ بات یہ ہے کہ انہوں نے جموں و کشمیر کی سیاست کو سیاحت سے کم نہیں سمجھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar | Jammu
    • Share this:
    جموں و کشمیر: کانگریس سے غلام نبی آزاد کی علاحدگی کے بعد لگاتار کانگریس سے لیڈران کے نکلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کو پارٹی کے ایک اور سینئر لیڈر و سابق وزیر پیر زادہ محمد سعید نے بھی کانگریس سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ جس کے بعد جموں و کشمیر کانگریس کے سابق صدر غلام احمد میر نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آزاد پر ڈیوائڈ اینڈ رول یعنی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ آزاد اپنے مفادات کیلئے بہت پہلے سے اس طرح کی پالیسی اپنانے کے عادی ہیں۔

    اموہ ویری ناگ میں کانگریس کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کے بعد جی اے میر نے نیوز18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیر زادہ محمد سعید کا پارٹی سے نکلنا واقعی طور پر افسوسناک ہے اور تشویش کی بات یہ ہے کہ پیر زادہ نے ایسے انسان کا ہاتھ تھاما ہے، جس نے ماضی میں ان کا سیاسی کیریئر تباہ کرنے کی کوشش کی۔ میر نے ماضی میں ایک لیڈر کے الزامات کے بعد پیر زادہ کے وزارت سے استعفیٰ کے پیچھے آزاد کے شامل ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ آزاد جب کانگریس کے سگے نہیں ہوئے تو ان لوگوں کے کیسے ہوں گے، جنہوں نے آج کانگریس یا دیگر پارٹیوں سے کنارہ کر کے آزاد کا ساتھ دینے کی ٹھان لی ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: غلام نبی آزاد راجیہ سبھا میں PM مودی کے ایک ہی جذباتی بیان سے متاثر ہوگئے : رجنی پاٹل


    نیوز18 کے خصوصی انٹرویو میں جی اے میر نے کہا کہ غلام نبی آزاد نے کشمیری بن کر ملکی سطح پر سیاسی فائدہ حاصل کیا جب کہ سچ بات یہ ہے کہ انہوں نے جموں و کشمیر کی سیاست کو سیاحت سے کم نہیں سمجھا۔ میر نے کہا کہ آزاد کو کانگریس نے پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کے لوگوں کی ترجمانی کرنے کا لگاتار ایک پلیٹ فارم مہیا کیا، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ غلام نبی آزاد نے کبھی بھی یہاں کے لوگوں کی بات نہیں کی۔ جبکہ اگست 2019 میں انہوں نے یہاں کے لوگوں کی ترجمانی نہیں کی اور جموں و کشمیر کو یو ٹی جب بنایا گیا تو ان کو پدم بھوشن سے نوازا گیا۔ میر نے کہا کہ پدم بھوشن لیتے وقت آزاد نے اگر وزیراعظم مودی سے صرف اتنا کہا ہوتا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ واپس دیا جائے، تو شاید آج لوگ آزاد کو اسی تناظر میں یاد رکھتے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: شوپیاں میں دہشت گردوں اور فورسیز کے درمیان تصادم، 3 دہشت گرد ہلاک


    میر نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کانگریس سے جس طرح لیڈران نکل کر آزاد اتحاد میں شامل ہو رہے ہیں وہ یقینی طور پر کانگریس کیلئے مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے ، لیکن ایسا نہیں ہے کہ کانگریس اس طرح کے امتحان سے پہلی بار گزر رہی ہے۔ میر نے کہا کہ کانگریس کو اس سے بھی بڑا جھٹکا تب لگا تھا جب کانگریس کے صف اول کے لیڈر مرحوم مفتی محمد سعید نے کانگریس چھوڑ کر پی ڈی پی بنائی تھی، لیکن بعد میں کچھ سیٹوں پر قابض ہونے کے بعد پی ڈی پی بکھر گئی اور کانگریس مستحکم رہی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ دور بھی گزر جائے گا اور کانگریس پھر ایک مرتبہ بڑی جماعت کے بطور ابھر کر سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میں اب نئے اور دیانت دار چہروں کو ترجیح دی جائے گی اور کانگریس کیڈر کو متحد رکھنے کے لئے پارٹی کے ہر کارکن کی ایک نجی پہل ہوگی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کانگریس میں اب بھی صدارتی عہدے کو لے کر اختلافات ہیں ۔ میر نے کہا کہ کانگریس کا جو کیڈر اب میدان میں ہوگا، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور کانگریس ہائی کمان کا حکم آخری فیصلہ ہوتا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: