உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ghulam Nabi Azad Rally in Jammu: غلام نبی آزاد کا  جموں سے کانگریس پر نشانہ، کہا- میری نئی پارٹی سے ان میں بوکھلاہٹ

    غلام نبی آزاد نے جموں سے کانگریس پر تنقید کی ہے۔

    غلام نبی آزاد نے جموں سے کانگریس پر تنقید کی ہے۔

    کانگریس سے استعفیٰ کے بعد پہلی بار غلام نبی آزاد آج جموں میں بڑی ریلی کو مخاطب کر رہے ہیں۔ انہوں نے بغیر کسی کا نام لئے کہا کہ میری نئی پارٹی بنانے سے ان میں بوکھلاہٹ ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu, India
    • Share this:
      نئی دہلی: کانگریس سے استعفیٰ کے بعد پہلی بار غلام نبی آزاد آج جموں میں بڑی ریلی کو مخاطب کر رہے ہیں۔ انہوں نے بغیر کسی کا نام لئے کہا کہ میری نئی پارٹی بنانے سے ان میں بوکھلاہٹ ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر کے اپنے وزیر اعلیٰ کی مدت کار میں کئے گئے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں وزیر اعلیٰ تھو بدعنوانی کو بند کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 26 سال میں اگر کسی ریاست کے لئے سب سے زیادہ منصوبوں کو منظوری دلوائی ہے تو وہ جموں وکشمیر ہے۔

      جموں کے فوجی کالونی میں غلام نبی آزاد نے ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کی پہنچ صرف ٹوئٹر، کمپوٹر اور ایس ایم ایس پر ہے، اس لئے کانگریس زمین سے غائب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج میں دیکھتا ہوں کہ کانگریس کے لوگوں کو جب صبح بس سے جیل میں لے جایا جاتا ہے اور وہ اسی وقت ڈی جی اور پولیس کمشنر کو فون کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا نام لکھ لیجئے اور ہمیں ایک گھنٹے میں چھوڑ دیجئے، اس لئے آج کانگریس آگے نہیں بڑھ پا رہی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Ghulam Nabi Azad نے آخر کیوں 50 سال بعد کانگریس اور راہل گاندھی سے حاصل کی آزادی

      یہ بھی پڑھیں۔

      جموں وکشمیر: Election Commission نے بلائی کل جماعتی میٹنگ، اس اہم امور پر ہوگا تبادلہ خیال 

      غلام نبی آزاد نے کہا، ’آج تو کانگریس کے لیڈر اور کارکنان احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں تو انہیں حراست میں لئے جانے کے چند گھنٹے کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے، لیکن 1975 کے آس پاس جب میں اندرا گاندھی کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کر رہا تھا تو اس وقت ایسا نہیں تھا۔ میں تقریباً ایک سال جیل میں بند رہا۔ گرفتاری کے وقت دہلی میں سردی پڑ رہی تھی۔ ہمیں اوڑھنے اور بچھانے کے لئے ایک کمبل دیا گیا تھا۔ سیمنٹ کے فرش پر سونا پڑتا تھا۔ وہ کمبل بھی پھٹا ہوا تھا‘۔

      جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’مجھے جیل میں رکھنے والے لوگ چاہتے تھے کہ میں ضمانت لے لوں، لیکن میں اس کے لئے تیار نہیں تھا۔ اندرا گاندھی کو تو تقریباً ایک ہفتے یا دس دن بعد چھوڑ دیا گیا تھا، لیکن میں اگلے سال رہا ہوا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے اپنے خون پسینے سے کانگریس کو بنایا ہے۔ یہ کمپیوٹر، ٹوئٹ اور ایس ایم ایس سے نہیں بنی ہے‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: