உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اب وقت آ گیا ہے کہ دفعہ 370 سے ہٹ کر بات کی جائے، غلام نبی آزاد کا بڑا بیان

    آزاد نے کہا کہ ان کی یہ کوشش رہے گی کہ جموں کشمیر کے باشندوں کےلیے نوکریوں اور زمین کا ریزرویشن یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے حکومت جلد ہی ایک بل پیش کرے۔

    آزاد نے کہا کہ ان کی یہ کوشش رہے گی کہ جموں کشمیر کے باشندوں کےلیے نوکریوں اور زمین کا ریزرویشن یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے حکومت جلد ہی ایک بل پیش کرے۔

    جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے ایک بڑا بیان دیکر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دفعہ 370 اور 35-اے سے ہٹ کر بات کی جائے۔ آزاد نے کہا کہ ان کی یہ کوشش رہے گی کہ جموں کشمیر کے باشندوں کےلیے نوکریوں اور زمین کا ریزرویشن یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے حکومت جلد ہی ایک بل پیش کرے۔

    • Share this:
    جموں کشمیر: کانگریس کے سینیئر لیڈر و جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے ایک بڑا بیان دیکر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دفعہ 370 اور 35-اے سے ہٹ کر بات کی جائے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ ایک خاص انٹرویو کے دوران آزاد نے کہا کہ دفعہ 370 پر جتنا بولنا تھا پارلیمنٹ میں انہوں نے پارلیمنٹ میں ہر بار آواز اٹھائی لیکن اب اسے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرانا اور جلد اسمبلی انتخابات انکی اولین ترجیحات ہونگی۔ غلام نبی آزاد نے نیوز18 اردو سے بات چیت کے دوران کہا کہ دفعہ 370 پہلے ہی کھوکھلا ہوا تھا تاہم زمینوں اور نوکریوں کا تحفظ اسکا اہم مدعا تھا جس کے لیے وہ ہر صورت وکالت کرینگے۔ آزاد نے کہا کہ ان کی یہ کوشش رہے گی کہ جموں کشمیر کے باشندوں کےلیے نوکریوں اور زمین کا ریزرویشن یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے حکومت جلد ہی ایک بل پیش کرے۔
    ایک سوال کے جواب میں آزاد نے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ضرور ہیں کہ حد بندی کمیشن کی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر کیوں نہیں آئی جبکہ انہوں نے ہمیشہ کہا کہ حد بندی سے قبل جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا ہونا لازم ہے تاکہ کسی مخصوص فرد یا پارٹی کو اسکا براہ راست فایدہ نہ پہنچے۔ آزاد نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے سے قبل بی جے پی کے تمام تر دعوے بے بنیاد ثابت ہوۓ ہیں۔ جبکہ جموں کشمیر کی بے روزگاری کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔

    ملیٹینسی کی بڑھتی شرح پر پوچھے گئے ایل سوال کے جواب میں آزاد نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ ملک کے سیکورٹی فورسز اور جموں کشمیر پولیس جاں فشانی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ لیکن جسطرح سے پنجاب میں دہشت گردی کا جی خاتمہ کیا گیا تھا اسطرح سے کشمیر میں نہیں ہو سکا۔ جبکہ کشمیر میں ملیٹینسی کی لڑائی کو 30 برس سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے، لیکن یہ لڑائی مشکل نظر آ رہی ہے۔ جبکہ مسلسل گورنر راج سے جموں کشمیر میں مزید حالات بدتر ہو رہے ہیں۔ ایسے میں جانوں کا زیاں روکنے کے لیے مرکزی سرکار کو انتخابات کے بعد ریاستی سرکار کے ساتھ مل کر ٹھوس حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔

    پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے حالیہ انکاونٹروں کو فرضی قرار دینے کے سوال میں آزاد نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ یہی وہ لیڈران ہیں جنکو ہم نے بی جے پی کے ساتھ شراکت داری سے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن تب انہیں وہ چیزیں نہیں دکھی جو اب دکھ رہی ہیں۔ آزاد نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عام لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کےلیے تمام سیاسی جماعتوں کو یک جٹ ہوکر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا ایک دوسرے کی نقطہ چینی کے بجائے تمام سیاسی لیڈران کو چاہیے کہ وہ عام لوگوں کا بھروسہ جیتنے کی کوشش کریں۔

    کانگریس میں اندرونی خلف شاری اور آزاد کے وزیر اعلیٰ بننے کی افواہوں کے بارے میں پوچھے گئے ایل سوال کے جواب میں آزاد نے کہا کہ ہر جماعت میں اندرونی رسا کشی ہوتی ہے اور اگر جموں کشمیر کانگریس میں ایسا کچھ ہے تو وہ وقت کے ساتھ دور ہو جاۓ گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا عہدہ ابھی کسی بھی سیاسی پارٹی کے پاس موضوع نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس وقت صرف جموں کشمیر میں جلد انتخابات اور یہاں کا ریاستی درجہ بحال کرنا ہر کسی پارٹی کی کوشش ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کس پارٹی کو اعتماد دینگے اور کس پارٹی سے وزیراعلیٰ ہوگا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: