ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

غلام نبی آزاد نےکہا- جموں وکشمیرکو تقسیم کا فیصلہ حیران کن، آرٹیکل 370 کو ہٹانےکا طریقہ غلط

غلام نبی آزاد نے دفعہ 370 کومنسوخ کرنےکو’ہارٹ اٹیک‘ جیسا بتاتے ہوئےکہا کہ فوج اور سیکورٹی فورس کو وہاں تعینات کرکے ایسا کیا گیا۔ جس بل پر پارلیمنٹ میں بحث ہوتی ہے، اسے پہلے ایوان کی میز پررکھا جاتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ لداخ اورجموں و کشمیرکومرکزکے زیرانتظام ریاست بنانا حیران کرنے والا تھا۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 17, 2019 05:23 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
غلام نبی آزاد نےکہا- جموں وکشمیرکو تقسیم کا فیصلہ حیران کن، آرٹیکل 370 کو ہٹانےکا طریقہ غلط
غلام نبی آزاد نےکہا کہ ریاست کی تقسیم کرنے کا فیصلہ حیران کن تھا۔

نئی دہلی:جموں كشميرکے سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس کے سینئرلیڈرغلام نبی آزاد نے پیر کوکہا کہ آرٹیکل 370 کوہٹانےکے سلسلہ میں تھوڑی بہت سوچ توتھی، لیکن ریاست کا مرکز کے زیرانتظام دوعلاقوں میں تقسیم کرنےکا مرکزی حکومت کا فیصلہ حیران کرنے والا تھا۔

غلام نبی آزاد نے’ آج تک‘ چینل کےایک پروگرام میں’کتنا غلام کتنا آزاد‘ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جموں وکشمیرکےمسئلہ پرتفصیل سےاپنی رائے رکھی اورکہا کہ آرٹیکل 370 کوجس طریقے سے خارج کیا گیا، وہ راستہ ٹھیک نہیں تھا۔

راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما نےکہا کہ آرٹیکل 370 کوہٹانےکا ایک عمل تھا اور یہ طےکیا گیا تھا کہ آنے والے وقت میں اس پرکام کیا جائےگا۔ کانگریس کی حکومت کے رہتے ہوئے بھی کشمیرمیں بہت سی تبدیلی کی گئی، لیکن جو بھی تبدیلیاں کیں، اسمبلی کی اجازت لےکرکی گئی۔ انہوں نےکہا جوقانون ہندوستان میں بنا وہاں بھی لاگو ہوا، لیکن آرٹیکل 370 کوختم کرنےکا جوطریقہ اپنایا گیا وہ ٹھیک نہیں تھا۔

غلام نبی آزاد نے دفعہ 370 کومنسوخ کرنےکو’ہارٹ اٹیک‘ جیسا بتایا اورکہا کہ فوج اور سیکورٹی فورس کو وہاں تعینات کرکے ایسا کیا گیا۔ جس بل پر پارلیمنٹ میں بحث ہوتی ہے، اسے پہلےایوان کی میزپررکھا جاتا ہے۔ انہوں نےکہا ’’ہم آرٹیکل 370 کوہٹانےکا تو کچھ تصورکرسکتےتھے، لیکن لداخ اورجموں و کشمیرکومرکزکے زیرانتظام ریاست بنانا حیران کرنے والا تھا‘‘۔

قابل غورہےکہ نریندرمودی حکومت نے 5 اگست کو جموں و کشمیرسے دفعہ 370 کے کچھ التزامات ہٹانے کے ساتھ ہی آرٹیکل -35 اے کو بھی ختم کر دیا اورریاست کا دو مرکزکے علاقے میں تقسیم کر دیا۔ انہوں نے کہا اس وقت جموں کشمیر کے 4 سابق وزیراعلیٰ ہیں، جن میں سے تین نظربند ہیں اورچوتھے کو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ریاست میں جانےدیا جاتا ہےاورکہا جا رہا ہے کہ وہاں حالات معمول پرہیں۔ کیا یہ ممکن ہے؟ کیا یہی جمہوریت ہےکہ ملک کےایوان بالا میں اپوزیشن کا لیڈراورسابق وزیراعلیٰ سپریم کورٹ کے حکم سے ریاست میں جائیں۔

جموں و کشمیرمیں وزیر داخلہ امت شاہ کے 600  سے 650 لوگوں کے نظر بند ہونے کے بیان پرغلام نبی آزاد نےکہا کہ ان کا خیال ہے کہ وہاں تقریباً 10 ہزاررہنما نظربند ہیں۔ انہوں نےکہا کہ ریاست کے پورے رہنما جیل میں ہیں اورکہا جائےکہ سب کچھ ٹھیک ہے تویہ بات سمجھ سے بالاترہے۔ دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کو ریاست میں نہیں جانے دیا جائے اورکہا جائےکہ سب کچھ ٹھیک ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما نےکہا کہ ریاست میں گورنرراج لگا کرقانون نافذ کئےجا رہے ہیں اورحکومت ہی سب کچھ طےکررہی ہے۔ انہوں نےکہا کہ سال 1947 میں 12 ریاستیں بنی تھیں، جموں وکشمیرایک ریاست تھی لیکن اس کے ٹکڑے کردئیےگئےاوربڑی تعداد میں سیکورٹی فورس لگا کر کہا جا رہا ہےکہ وہاں احتجاج و مظاہرہ نہیں ہو رہے ہیں۔
First published: Dec 16, 2019 09:33 PM IST